Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / پرانا شہر میں کانگریس کی کامیابی مجلس کے منہ پر طمانچہ ہوگی

پرانا شہر میں کانگریس کی کامیابی مجلس کے منہ پر طمانچہ ہوگی

راہول گاندھی کی کل پرانا شہر میں انتخابی مہم ، کے سی آر ،نریندر مودی کے ایجنٹ : اتم کمار ریڈی
حیدرآباد۔ 18 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے قومی صدر راہول گاندھی 20 اکتوبر کو تاریخی چارمینار کے دامن سے خطاب کرتے ہوئے پرانے شہر میں کانگریس کی انتخابی مہم کا عملاً آغاز کریں گے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے کئی بار پرانے شہر میں کانگریس کو کامیاب بنانے اور طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ راہول گاندھی کے پروگرام حیدرآباد میں خلوت میدان پر ایک جلسہ عام منعقد کرنے کا جائزہ لیا گیا تھا تاہم لمحہ آخر میں ملتوی کرنے کے بعد اتم کمار ریڈی نے پرانے شہر کے کانگریس قائدین سے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ راہول گاندھی کا جب بھی دورہ ہوگا، اُس وقت پرانے شہر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ہر سال سدبھاؤنا یادگار کمیٹی کی جانب سے چارمینار کے دامن میں پارٹی پرچم لہراتے ہوئے ایک تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ اتم کمار ریڈی نے 20 اکتوبر کو اس پروگارم کیلئے صدر کانگریس راہول گاندھی کو مدعو کرلیا اور راہول گاندھی نے تقریب میں شرکت سے اتفاق بھی کرلیا مگر پروگرام میں تھوڑی تبدیلی آئی ہے۔ راہول گاندھی پہلے صبح میں آنے والے تھے تاہم اب شام میں شرکت کریں گے۔ 34 سال تک پرانے شہر میں کانگریس کو نظرانداز کردینے کے بعد اس مرتبہ اتم کمار ریڈی پرانے شہر میں کانگریس کے احیاء کیلئے سنجیدہ کوشش کررہی ہیں۔ راہول گاندھی کا دورۂ پرانا شہر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی نے پرانے شہر کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کئی سروے کرائے ہیں جو چونکا دینے والے ثابت ہوئے ہیں۔ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ برسوں سے کامیابی کے باوجود مجلس کے منتخب عوامی نمائندوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے وہ کام نہیں کیا ہے، جس کیلئے ان کا انتخاب کیا گیا تھا، جس سے مقامی عوام ناراض ہیں اور پرانے شہر کے 7 اسمبلی حلقوں میں صرف 47 تا 56 فیصد رائے دہی ہوتی ہے جس کا مجموعی تناسب 52 فیصد ہے۔ 48 فیصد رائے دہندے حق رائے دہی سے استفادہ نہیں کرتے، جس سے ان کی بیزارگی کا پتہ چلتا ہے۔

ہر اسمبلی حلقہ میں مجلس کو صرف 30 فیصد ووٹ حاصل ہوتے ہیں۔ اتم کمار ریڈی کی جانب سے کرائے گئے سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مجلس کی مقبولیت دن بہ دن گھٹتی جارہی ہے جس کا ثبوت 2016ء میں منعقدہ جی ایچ ایم سی انتخابات سے ملا ہے۔ کانگریس پارٹی نے پہلی مرتبہ مجلس کے خلاف پرانے شہر میں جارحانہ انتخابی مہم چلائی۔ یقیناً مجلس نے 33 وارڈس پر کامیابی حاصل کی لیکن 2014ء اسمبلی کے انتخابات کے بہ نسبت مجلس کو 100,226 لاکھ ووٹ کم حاصل ہوئے جبکہ کانگریس پارٹی نے اسمبلی حلقہ جات ملک پیٹ، چارمینار، یاقوت پورہ اور بہادر پورہ میں اپنی کارکردگی کو بہتر کیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں مجلس کو صرف 19 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ 81 فیصد ووٹ دوسری جماعتوں میں تقسیم ہوئے۔ گزشتہ 30 سال سے کانگریس کی خاموشی کے باعث پرانے شہر میں مجلس کو اپنی طاقت بڑھانے کا موقع ملا ہے۔ کانگریس نے مصلحتاً مجلس کے خلاف طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں نہیں اُتارا جس کی وجہ سے پرانے شہر کے تمام اسمبلی حلقوں سے مجلس کو کامیابی حاصل کرنے میں آسانی ہوئی ہے، لیکن اس مرتبہ کانگریس پارٹی پرانے شہر کے تمام اسمبلی حلقوں پر مقابلہ کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کررہی ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے کام کررہی ہے۔

اگر پرانے شہر میں کانگریس کو کامیابی ملتی ہے تو وہ بی جے پی ۔ ٹی آر ایس اور مجلس کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوگی۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اُتم کمار ریڈی، راہول گاندھی کا پروگرام پرانے شہر میں کراتے ہوئے عوامی رائے کانگریس کی جانب ہموار کرنے اور طاقتور امیدواروں کا انتخاب کرنے کیلئے سدبھاؤنا تقریب سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔ راہول گاندھی کے اس پروگرام کو انتخابی تناظر میں کافی اہمیت مل رہی ہے۔ راہول گاندھی قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف سکیولر جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ٹی آر ایس جہاں بی جے پی کو مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہے، وہیں کے سی آر وزیراعظم نریندر مودی کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں اور مجلس، ٹی آر ایس کی اَندھی تائید کررہی ہے۔ تینوں جماعتیں فرقہ پرستی کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کررہی ہیں۔ ملک میں پیدا ہوئی ایسی ہی افراتفری کے خلاف آنجہانی راجیو گاندھی نے 20 اکتوبر 1990ء کو چارمینار سے سدبھاؤنا یاترا کا اہتمام کرتے ہوئے امن کا پیغام دینے کی کوشش کی تھی۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ راہول گاندھی کے دورے کے بعد کانگریس پارٹی نے بڑی شدت سے پرانے شہر میں انتخابی مہم چلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے پرانے شہر کی عدم ترقی، بیروزگاری، ہاؤزنگ، طبی سہولتیں، تعلیم، بلدی مسائل اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کو انتخابی موضوع بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجلس کی جانب سے مخالفین کے خلاف کردار کو مسخ کرنے اور غیرپارلیمانی الفاظ کا جواب دینے کیلئے بھی خصوصی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ اب وقت تبدیل ہوگیا ہے۔ عوام جھوٹے وعدے پر بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جذبات کا استحصال کرتے ہوئے مجلس اب کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ کانگریس بڑی تیزی سے پرانے شہر میں مجلس کی متبادل بن کر اُبھر رہی ہے۔ واضح رہے کہ 2009ء کے انتخابات میں تلگو دیشم کے امیدوار اسمبلی حلقہ جات چارمینار اور ملک پیٹ میں معمولی ووٹوں سے ناکام ہوئے تھے۔ اس وقت کانگریس اور بی جے پی کے غیرمسلم امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ سروے میں اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ اس مرتبہ طاقتور امیدواروں کو میدان میں اتارا جاتا ہے تو کانگریس یا اس کی حلیف جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT