Saturday , November 18 2017
Home / جرائم و حادثات / پرانی کرنسی کی تبدیلی تجارت بن گئی ‘ بروکرس کا راج

پرانی کرنسی کی تبدیلی تجارت بن گئی ‘ بروکرس کا راج

20تا 30 فیصد کمیشن ‘ کئی مقامات پر غیرقانونی کاؤنٹرس‘ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ

حیدرآباد ۔ 14۔  نومبر  (سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ کی منسوخی کے بعد عوام کو نئے نوٹ حاصل کرنے کیلئے جن دشواریوں اور تکالیف کا سامنا ہے ، اس کا درمیانی افراد استحصال کرتے ہوئے اپنا فائدہ تلاش کر رہے ہیں۔ شہر کے مختلف مقامات پر باقاعدہ کاؤنٹرس قائم کردیئے گئے جہاں 20 تا 30 فیصد کمیشن پر پرانے نوٹ حاصل کرتے ہوئے ان کی جگہ 100 یا 2000 کے نئے نوٹ حوالے کئے جارہے ہیں۔ عوام کو بینکوں اور پوسٹ آفس سے رقم کی تبدیلی میں گھنٹوں انتظار کی صعوبت سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ لہذا وہ اس سے بچنے کیلئے 20 تا 30 فیصد کمیشن پر نوٹ کی تبدیلی کیلئے تیار ہورہے ہیں۔ پرانے شہر کے کئی مقامات پر اس طرح کی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ پولیس ان سرگرمیوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر میں واقع بینکوں اور پوسٹ آفسوں کے قریب بروکرس اور ان کے افراد گھوم رہے ہیں اور قطاروں میں ٹھہرے ہوئے افراد کو کمیشن کی بنیاد پر پرانے نوٹ کی تبدیلی کا لالچ دے رہے ہیں۔ عوام کو 8 تا 10 گھنٹے قطار میں ٹھہرنے کے بجائے کمیشن ادا کرنا آسان دکھائی دے رہا ہے جو بروکرس کیلئے چاندنی ہوچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی سرمایہ داروں اور تاجروں نے کمیشن حاصل کرتے ہوئے رقم تبدیل کرنے کا باقاعدہ کاروبار شروع کردیا ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کی خون پسینہ کی کمائی سے اپنا حصہ حاصل کر رہے ہیں ۔ حکومت نے کالے دھن کو روکنے کے نام پر کرنسی نوٹ منسوخ کئے تھے لیکن دوسرے انداز میں بلیک منی کا کاروبار عروج پر ہے ۔ کئی افراد نے شکایت کی کہ بینک اور پوسٹ آفس سے وابستہ افراد خود بھی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور رقومات حاصل کرتے ہوئے عقبی راستہ سے نئے نوٹ حوالے کئے جارہے ہیں۔ عام آدمی کی مصیبت کا کسی کو اندازہ نہیں لیکن مصیبت زدہ سے کمیشن حاصل کرنے کیلئے ہر کوئی تیار ہے۔ ایسے خاندان جن کے گھروں میں شادیاں یا دیگر تقاریب ہیں، انہیں رقم کی تبدیلی میں کافی دشواری ہورہی ہے۔ 50,000 سے زائد رقم جمع کرنے کیلئے پیان کارڈ یا کسی اور شناختی کارڈ کی پیشکشی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایسے میں عوام شادی کیلئے جمع کردہ چند لاکھ روپئے کی رقم کس طرح اکاؤنٹ میں جمع کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ڈھائی لاکھ سے زائد رقم جمع کرنے کی صورت میں اکاؤنٹ کی تفصیلات ، انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو فراہم کی جارہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ شادیوں اور دیگر تقاریب کیلئے سامان کی خریدی دشوار ہوچکی ہے۔ کئی دکانداروں نے پرانے کرنسی نوٹ حاصل کرنے کے بجائے سامان کے عوض ضمانت کے طور پر سونا حاصل کیا ہے اور غریب و متوسط طبقات سونا رکھانے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف نئے کرنسی نوٹ بازار میں نہ ہونے کے سبب تقریباً ہر کار وبار متاثر دکھائی دے رہا ہے ۔ بڑے کاروباری جو بینکوں سے بآسانی اپنی کرنسی تبدیل کرسکتے ہیں ، وہ ابھی بھی پرانے نوٹ حاصل کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT