Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر اور تلنگانہ ریاست میں کانگریس کو 2019 میں اقتدار

پرانے شہر اور تلنگانہ ریاست میں کانگریس کو 2019 میں اقتدار

پولیس کے ذریعہ عوام اور جمہوریت کا قتل نہیں کیا جاسکتا ہے ، اتم کمار ، کنٹیا اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : پولیس کے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومت جمہوریت کا قتل کرنا چاہتی ہے ۔ مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے جو حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ہے وہ زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے کیوں کہ پرانے شہر کے عوام میں شعور بیدار ہوگیا ہے اور وہ مقامی جماعت سے مایوس ہو کر امید کی نظر سے کانگریس کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ مجلس کے سابق کارپوریٹر خواجہ بلال کی کانگریس میں شمولیت کے بعد گاندھی بھون کے پرکاشم ہال میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے یہ بات بتائی اور کہا کہ سارے ملک میں سوائے کانگریس کے کوئی اور سیکولر پارٹی باقی نہیں رہی ۔ مسلمان ، ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کا تحفظ کرنے والی کانگریس پارٹی پر پھر سے ہندوستانیوں کا یقین وابستہ ہوگیا ہے ۔ ملک میں فرقہ پرستی اور منافرت پھیلانے کی سیاست کا بہت جلد خاتمہ ہونے والا ہے ۔ کانگریس 2019 میں نہ صرف ہندوستان میں اقتدار پر آئے گی بلکہ تلنگانہ میں بھی کانگریس پارٹی ٹی آر ایس سے اقتدار چھین لے گی ۔ اتم کمار ریڈی نے خواجہ بلال کا کانگریس میں خیر مقدم کرتے ہوئے پرانے شہر میں آج پولیس کی جانب سے کانگریس کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرے ۔ حکومت اور مقامی جماعت کے دباؤ میں کام کرنا پولیس کے لیے مہنگا ثابت ہوگا ۔ 2019 میں کانگریس پارٹی حکومت تشکیل دے گی کانگریس کارکنوں کے خلاف ظلم و زیادتی کرنے والے پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا انتباہ دیا ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں پرانے شہر کی ترقی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کیوں نہیں چلائی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر اس کی وضاحت کریں ۔ سکریٹری انچارج تلنگانہ آر سی کنٹیا نے کہا کہ پرانے شہر میں تیزی سے انقلاب آرہا ہے ۔ جس طرح تلنگانہ کے عوام ٹی آر ایس سے نالاں ہیں ۔ اس طرح پرانے شہر کے عوام مقامی جماعت سے بیزار ہوچکے ہیں ۔ عوام میں یہ بہت بڑی تبدیلی دیکھی جارہی ہے ۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور اس کو فراموش کردیا ۔ مقامی جماعت تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ فرقہ پرستوں سے خفیہ اتحاد کرتے ہوئے سیکولر ووٹوں کو تقسیم کیا جارہا ہے اور فرقہ پرستوں کو مستحکم کیا جارہا ہے ۔ بہار ، مہاراشٹرا اور اترپردیش اس کی زندہ مثال ہے ۔ گجرات میں راہول گاندھی نے وزیراعظم کابینہ نکال دیا ۔ دوسرے مرحلے کی رائے دہی سے قبل مودی نے پاکستان کی مداخلت ، قتل کی سپاری اور احمد پٹیل کو چیف منسٹر بنانے کا حوالہ دیتے ہوئے عوام کے جذبات کا استحصال کیا اور پھر کامیابی حاصل کی ۔ کانگریس نے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا جب کہ ٹی آر ایس مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ آر سی کنٹیا نے کہا کہ ٹی آر ایس کے بشمول دوسری جماعتوں کے کئی قائدین کانگریس سے رابطے میں ہے اور وہ سب بہت جلد کانگریس میں شامل ہوں گے ۔ کانگریس کے سینئیر قائد و سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ پرانے شہر میں کانگریس کی لہر شروع ہوچکی ہے ۔ اب کسی کی دادا گری نہیں چلے گی ۔ مقامی جماعت کے کالجوں میں داخلہ ملنا غریب لوگوں کو مشکل ہوگیا ہے ۔ مجلس کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ پر تین ترمیمات پیش کی ۔ مجلس ٹی آر ایس کو اپنی حلیف مانتی ہے مگر ان ترمیمات کی ٹی آر ایس نے تائید نہیں کی ۔ انہیں یہ سن کر بے حد افسوس ہوا کہ پولیس نے پرانے شہر میں کانگریس کارکنوں اور حامیوں پر لاٹھی چارج کیا ہے ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور پولیس کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔ عوام کے حقوق کو تلف کرنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ مجلس کے سابق کارپوریٹر خواجہ بلال ، طاہر عفاری ، سی پی آئی کے قائد سید کلیم کے علاوہ مجلس کے سینکڑوں کارکنوں اور حامیوں نے گاندھی بھون پہونچکر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اس موقع پر اے آئی سی سی سکریٹری و انچارج تلنگانہ کانگریس امور آر سی کنٹیا قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر سابق مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین ، محمد مقصود احمد ترجمان سید نظام الدین صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل ، صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT