Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے پانچ ہزار کروڑ کا خصوصی فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ

پرانے شہر حیدرآباد کی ترقی کیلئے پانچ ہزار کروڑ کا خصوصی فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ

فیس ری ایمبرسمنٹ و اسکالر شپس کی اجرائی پر زور ، ایوان اسمبلی میں قائد مقننہ مجلس کا بیان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے پرانے شہر کی ترقی کے لیے 5 ہزار کروڑ روپئے کا خصوصی فنڈ مختص کرنے کا مطالبہ کیا اور اقلیتی بجٹ میں اضافہ کرنے کے بجائے کٹوتی کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کے لیے 250 کروڑ کا اضافی بجٹ مختص کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ آج اسمبلی میں بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے جاریہ سال پیش کردہ بجٹ میں اقلیتی بجٹ کم کردینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2016-17 کے بجٹ میں صرف 600 کروڑ روپئے خرچ کیے گئے جب کہ محکمہ فینانس نے معقول بجٹ منظور کیا تھا ۔ تاہم محکمہ اقلیتی بہبود اس کو استعمال کرنے میں ناکام ہوگیا ۔ وہ سرمائی سیشن میں ہی محکمہ اقلیتی بہبود کی کوتاہیوں اور غفلت کی نشاندہی کرچکے تھے باوجود اس کے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی میں کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ اس پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے حکومت سے خواہش کی کہ وہ اقلیتی بجٹ میں مزید 250 کروڑ روپئے کا اضافہ کریں ۔ اقلیتی طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالر شپس کی بقایا جات کو فوری جاری کرنے پر زور دیا ۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں پرانے شہر کی ترقی کے لیے 2 ہزار کروڑ روپئے کا خصوصی فنڈز منظور کئے گئے تھے تاہم ان میں تھوڑا خرچ ہوا باقی خرچ نہیں ہوا ۔ لہذا وہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سے اپیل کرتے ہیں کہ پرانے شہر کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے 5 ہزار کروڑ روپئے کا فنڈز منظور کریں ۔ بجٹ میں چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کے لیے فنڈز مختص نہ کرنے اور قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے لیے مختص کردہ فنڈز کو معمولی قرار دیتے ہوئے اس میں مزید 15 تا 20 کروڑ روپئے اضافہ کرنے پر زور دیا ۔ نوٹ بندی کے بعد بطور ٹیکس گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے علاوہ ریاست کے دوسرے بلدیہ کو وصول ہونے والے ٹیکس کو سرکاری خزانے میں شامل کرنے پر حیرت کا اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا استدلال صحیح ہے تو بطور ٹیکس وصول کردہ رقم جی ایچ ایم سی کو لوٹا دینے کا مطالبہ کیا اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے فنڈز کو آر ٹی سی کے لیے منتقل کرنے کی مخالفت کی ۔ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مجلس حکومت سے مکمل تعاون کرے گی ۔ اکبر الدین اویسی نے برقی بحران پر قابو پانے پر حکومت کی ستائش کی تاہم بجٹ میں محکمہ تعلیم کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ پرانے شہر میں فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کو جیل بھیج دینے کی مخالفت کی جس پر وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد شہر کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا جائزہ لیں گے ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم میں دی جانے والی امداد کو 51 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپئے کرنے کی ستائش کی ۔ مجلس کے فلور لیڈر نے کہا کہ عوام ڈبل بیڈ روم مکانات کے لیے بے چین ہیں ۔ بجٹ میں مسلم صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔ کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کے لیے کل جماعتی وفد کے ساتھ دہلی پہونچکر وزیراعظم نریندر مودی سے نمائندگی کرنے کی تجویز پیش کی ۔ درگاہ حسین شاہ ولی کے تحت موجود مخلوعہ موقوفہ اراضیات وقف بورڈ کے حوالے کرنے اور اس کا جائزہ لینے کے لیے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے ، عثمانیہ یونیورسٹی کا لوگو جس میں اردو تحریر موجود ہے بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اجمیر میں رباط کے قیام کے لیے مسلم ارکان اسمبلی کو اجمیر کا دورہ کرانے پر بھی زور دیا ۔ اردو ٹیچرس کے تقررات کے لیے علحدہ ڈی ایس سی منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اسلامک سنٹر کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپئے ، انیس الغرباء یتیم خانہ کی عالیشان عمارت تعمیر کرنے 20 کروڑ روپئے اور فلک نما کالج کے لیے 10 کروڑ روپئے منظور کرنے پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا ۔۔
اندرا پارک سے دھرنا چوک کی منتقلی کو روکدینے کا مطالبہ : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔16مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اندرا پارک سے دھرنا چوک کی برخواستگی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے جمہوری انداز میں کئے جانے والے احتجاج کو روکنے کی کوشش قرار دیا ۔جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ حکومت سے دھرنا چوک کی منتقلی کے اقدامات مناسب نہیں ہیں۔انہوں نے خصوصی توجہ دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ملک کے دارالحکومت میں پارلیمنٹ کے قریب جنتر منتر موجود ہے جہاں عوام اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیمیں اپنے مطالبات کے ساتھ جمہوری انداز میں احتجاج کرسکتی ہیں اور اس کی گنجائش انہیں دستور نے فراہم کر رکھی ہے ۔شبیر نے حکومت کو دھرنا چوک کی منتقلی کے فیصلہ پر از سرنو غور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی کو روکنے کے لئے اس طرح کے اقدامات مناسب نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT