Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کی عوام کو ایرکنڈیشن بسوں میں سفر کی سہولت کیوں نہیں ؟

پرانے شہر حیدرآباد کی عوام کو ایرکنڈیشن بسوں میں سفر کی سہولت کیوں نہیں ؟

کونسل میں ایم ایس پربھاکر کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی جواب دہی سے قاصر
حیدرآباد ۔10۔ نومبر (سیاست نیوز) کیا پرانے شہر حیدرآباد کے عوام اس لائق نہیں کہ وہ آر ٹی سی کی ایرکنڈیشنڈ بسوں میں سفر کرسکیں ؟ یہ سوال آج اس وقت پیدا ہوا جب کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر ٹرانسپورٹ مہیندر ریڈی نے پرانے شہر میں ایر کنڈیشنڈ بسوں سے متعلق سوال کو ٹال دیا۔ ٹی آر ایس کے رکن ایم ایس پربھاکر نے اس بارے میں سوال پوچھا تھا۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ دونوں شہروں میں 140 ایرکنڈیشنڈ بسیں مختلف روٹس پر چلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے 15 روٹس کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی جہاں یہ 140 بسیں چلائی جارہی ہیں۔ ایر کنڈیشنڈ بسیں زیادہ تر نئے شہر کے علاقوں جیسے امیر پیٹ ، یوسف گوڑہ ، بیگم پیٹ ، ہائی ٹیک سٹی ، کنڈہ پور ، تارناکہ ، سکندرآباد ، عنبر پیٹ ، لکڑی کا پل ، مہدی پٹنم ، ٹولی چوکی ، گچی باؤلی ، کوکٹ پلی ، کوٹھی ، ملک پیٹ ، میاں پور ، بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، دلسکھ نگر ، ایل بی نگر ، ونستھلی پورم ، آرام گڑھ ، شمس آباد ، عطا پور ، رامنتا پور اور اپل جیسے علاقوں میں چلائی جارہی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے پرانے شہر کے علاقہ میں ایرکنڈیشنڈ بس سرویس متعارف نہ کرنے کی تردید تو کی لیکن بس روٹس اور بسوں کی تعداد کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ اس بارے میں جب ضمنی سوالات کئے گئے تو وزیر ٹرانسپورٹ نے تمام علاقوں میں اے سی اور منی بس سرویسز چلانے کا ذکر کیا۔ ایم ایس پربھاکر نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام آر ٹی سی بس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور اس علاقہ سے آمدنی بھی زیادہ ہے۔ ایسے میں افضل گنج، مدینہ بلڈنگ اور چندرائن گٹہ جیسی روٹس پر ایرکنڈیشنڈ بسیں نہیں چلائی جاتیں۔ انہوں نے ان علاقوں میں اے سی بسوں کو متعارف کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ جملہ 230 منی بسیں چلائی جارہی ہیں جن میں اے سی بسیں بھی شامل ہیں۔ ایم ایس پربھاکر نے سفر کے دوران آر ٹی سی ڈرائیور کے قلب پر حملہ کا ذکر کرتے ہوئے روانگی سے قبل میڈیکل چیک اپ کے بارے میں سوال کیا تو وزیر ٹرانسپورٹ نے جواب دیا کہ ڈیوٹی پر فوت ہونے والے ڈرائیورس اور کنڈاکٹرس کے خاندانوں کو حکومت کی جانب سے امداد دی جاتی ہے۔ اس جواب پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔ صدرنشین کونسل سوامی گوڑ نے وزیر ٹرانسپورٹ کو سوال سمجھایا جس کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ ڈرائیورس کے میڈیکل چیک اپ کا انتظام کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT