Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر حیدرآباد کے عوام پاسپورٹ کیندر کی سہولت سے محروم

پرانے شہر حیدرآباد کے عوام پاسپورٹ کیندر کی سہولت سے محروم

نئے شہر سے رجوع ہونے پر مجبور ، منتخب نمائندوں کی خاموشی سے مسائل میں اضافہ
حیدرآباد۔21اگسٹ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پرانے شہر کی بھی مساوی ترقی کے اقدامات کئے جائیں کیونکہ شہر کا یہ حصہ حیدرآباد کا قلب تصور کیا جا تا ہے لیکن اس خطہ سے نا انصافیوں کی طویل تاریخ بنتی جا رہی ہے اور پرانے شہر کے عوام میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ ان کے منتخبہ نمائندوں میں اہلیت نہیں ہے یا پھر انہیں مذہبی عصبیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پرانے شہر میں بلدی‘ برقی‘ آبرسانی سہولتوں کی صورتحال سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن شہر حیدرآباد کے اس گنجان آبادی والے علاقہ میں کوئی پاسپورٹ سیوا کیندر موجود نہیں ہے اور اس علاقہ کے لوگوں کو پاسپورٹ درخواست کے ادخال کیلئے بیگم پیٹ‘ امیر پیٹ یا ٹولی چوکی کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ پرانے شہر کے عوام کی جانب سے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود اس سمت کسی قسم کی پیشرفت نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی سنوائی ونمائندگی کا حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بھی اس علاقہ کے کسی مرکزی مقام پر پاسپورٹ سیوا کیندر قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اب تک بھی اس سلسلہ میں کوئی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ اس مطالبہ کو حکومت اور عوامی نمائندوں کی جانب سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود پاسپورٹ سیوا کیندر پر عوام کے بڑھتے اژدہام کو دیکھتے ہوئے پرانے شہر کیلئے علحدہ پاسپورٹ سیوا کیندر کی ضرورت شدت سے محسوس کی جانے لگی ہے کیونکہ شہر تیزی سے وسعت حاصل کرتا جا رہا ہے اور نئی آبادیاں شہر میں داخل ہونے لگی ہیں جس کے سبب شہر کے نواحی علاقوں میں آباد ہونے والی بستیوں کے مکینوں کو تو اور بھی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ جس وقت پاسپورٹ سیوا کیندر نہیں تھے اس وقت ریجنل پاسپورٹ آفس کا ایک کاؤنٹر پرانے شہر کے پوسٹ آفس میں کام کیا کرتا تھا جہاں پرانے شہر کے عوام درخواست فارم حاصل کرنے کے علاوہ ادخال کی سہولت سے استفادہ کیا کرتے تھے لیکن اس کاؤنٹر کو جو پتھر گٹی پر ہوا کرتا تھا بند کر دیئے جانے کے بعد سے اب تک پرانے شہر کے عوام کو پاسپورٹ فارم کے ادخال کی سہولت حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ منتخبہ عوامی نمائندے اگر اس مسئلہ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومت با لخصوص محکمہ خارجہ سے نمائندگی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے لئے اگر مکمل خدمات کے ساتھ پاسپورٹ سیوا کیندر نہیں تو کم از کم ریاست کے دیگر اضلاع کی طرح بنیادی خدمات کے ساتھ منی پاسپورٹ سیوا کیندر فوری قائم کیا جا سکتا ہے۔ پرانے شہر میں تیزی سے فروغ پا رہی آبادیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران سرکاری دفاتر با لخصوص پاسپورٹ سیوا کیندر نہ ہونے کے سبب علاقہ کے عوام کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے اقدامات کے آغاز کی صورت میں عوام کو اس کا غیر معمولی فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT