Friday , June 22 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں جوئے کی لعنت سے ایک خاندان اُجڑ گیا

پرانے شہر میں جوئے کی لعنت سے ایک خاندان اُجڑ گیا

50ہزارروپئے جوئے میں ہارنے کے بعد ایک شخص کی خودکشی ، گھر میں ماتم
حیدرآباد۔/3جنوری، ( سیاست نیوز) پرانے شہر میں جوے کی لعنت نے ایک خاندان کو اُجاڑ دیا ، 5 بچے یتیم ہوگئے ، ایک ضعیف ماں کی گود اُجڑ گئی ، ایک خاتون بیوہ ہوگئی۔ آج اس گھر میں کربناک مناظر دیکھنے کو ملے ، کمسن بچوں کے دردناک مناظر اور ان کے گھر کے ماتم کو دیکھ کر سارامحلہ اشکبار ہوگیا۔ یہ واقعہ پرانے شہر کے علاقہ غازی بنڈہ میں پیش آیا ۔ پیشہ سے کیٹرنگ کا کام کرنے والے سید کاظم نے اپنے مکان میں پھانسی لیکر خودکشی کرلی۔ کاظم بہترین پکوان کا باورچی تھا لیکن جواری ساتھیوں کی دوستی میں مبتلا تھا ۔ کاظم کے انتہائی اقدام کی اطلاع ملتے ہی سارے محلہ میں سنسنی پھیل گئی۔ کاظم کی والدہ بار بار اس کے ساتھی محمود کے نام کی دہائی دے رہی تھیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ غازی بنڈہ علاقہ کے ساکن کاظم کو گزشتہ چند روز سے مالی مشکلات کا سامنا تھا اور اس نے ایک تقریب کیلئے اڈوانس 50 ہزار روپئے حاصل کئے تھے اور جوے کے اڈے پر اس نے رقم ہاردی اور پریشان ہوگیا تھا۔ اور پھر آرڈر کو پورا کرنے کیلئے اس نے رقم جمع کرنے کی بھی کوشش کی تھی لیکن اس کا انتظام نہیں ہوسکا۔اس نے آج اپنے بیوی بچوں کو سسرال روانہ کرنے کے بعد مکان میں انتہائی اقدام کرلیا۔ کاظم کی خودکشی نے پولیس کی سماج سدھار مہم اور اقدامات کی بھی قلعی کھول دی ۔

آئے گئے مشن اور سماج سدھار اقدامات کا پرانے شہر میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا اور پولیس پر ایسے بھی الزامات پائے جاتے ہیں کہ سماج کے ناسور جرائم جوا، سٹہ جیسے جرائم کو پولیس دیکھی اَن دیکھی کررہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کاظم پرانے شہر کے علاقہ وٹے پلی میں ایک جوے کے اڈہ پر جوا کھیلتا تھا اور آرڈرس پر گاہکوں اور تقاریب میں اڈوانس حاصل شدہ رقم اور سخت محنت کی کمائی کو اس لعنت میں جھونک دیتا تھا ۔ سخت سماجی نٹ ورک اور کمیونٹی پولیسنگ کے ذریعہ انسانی زندگیوں میں سرایت کرگئی پولیس کیلئے ایسے ٹھکانوں کو بے نقاب کرنا کوئی مشکل نہیں جہاں خود عوام کی اطلاعات اور شکایت ہی ان کے لئے کافی ہے باوجود اس کے قمار بازی کے ٹھکانے اور قمار بازوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں جس کی مثال کاظم ہے۔ پرانے شہر میں نہ جانے ایسے کتنے خاندان ہوں گے جو اس ناسور سماجی لعنت کا شکار ہیں۔ اس واقعہ نے جہاں پولیس کی ذمہ داری کو بھی بڑھادیا ہے وہیں ملی، مذہبی، ادبی تنظیموں کو بھی اقدامات کا یہ خیال دیا ہے اور تقاریر و تحریر کے بجائے عملی میدان میں مثبت خدمت خلق کی اہمیت کو واضح کردیا ہے۔ سید کاظم کے پانچ بچوں میں تین لڑکیاں اوردو لڑکے ہیں جو آج اپنے گھر میں مچے کہرام کو دیکھ کر بار بار دادی اور والدہ سے سوال کرتے کہ پولیس نے ایسے سوالات کیوں کئے اور ابا نے آج ایسا اقدام کیوں کیا۔ پولیس کاماٹی پورہ نے اس خصوص میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور مصروف تحقیقات ہے۔

TOPPOPULARRECENT