Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں رہائشی اسکولس کے قیام کو ترجیح

پرانے شہر میں رہائشی اسکولس کے قیام کو ترجیح

کانگریس اور ٹی آر ایس دور حکومت کا موازنہ ناممکن ، محمد محمود علی کا محمد علی شبیر کے سوال پر ردعمل
حیدرآباد۔6۔جنوری(سیاست نیوز) اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کے معاملہ میں کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان کوئی موازنہ نہیں ہو سکتا کانگریس نے اپنے دور اقتدار میں 4رہائشی اسکول برائے اقلیتی طبقات قائم کئے تھے جبکہ ٹی آر ایس 71اسکول قائم کرتے ہوئے ریکارڈ بنایا ہے۔ دونو ں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل جناب محمد علی شبیر کی جانب سے ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ ریاستی حکومت اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست میں موجود اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ سال 89مزید اسکول کھولنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے موجودہ اسکولوں کے متعلق بتایا کہ 39اقامتی اسکول برائے طلباء چلائے جا رہے ہیں اور 32اسکول برائے طالبات قائم کئے جاچکے ہیں۔انہوںنے بتایا کہ ریاست میں 49اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے اراضیات کی تخصیص عمل میںلائی جا چکی ہے جو کہ 2تا8ایکڑ پر محیط ہوں گے۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ پرانے شہر کے علاقو ںمیں رہائشی اسکولوں کے قیام کو ترجیح دی جائے گی علاوہ ازیں یاقوت پورہ میں اسکول کے قیام کو منظوری دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کیلئے جو اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا ہے اسے مزید وسعت دی جائے گی اور اس کے لئے حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت نے آئندہ برس 1لاکھ20ہزار 400طلبہ کا نشانہ مقرر کیا ہے اور آئندہ تعلیمی سال کے دوران ہی حکومت کی جانب سے اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے مستقل عمارتوں کے سنگ بنیاد رکھے جائیں گے۔ وقفہ سوالات کے دوران مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ اقلیتوں کیلئے اقامتی اسکولوں کے آغاز کا منصوبہ کانگریس کا تھا اور کانگریس نے 2008میں 4اسکولوں کے آغاز کے ساتھ اسکیم کی شروعات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کی تعداد کو 71کیا گیا ہے لیکن ان اسکولوں کیلئے بجٹ کی اجرائی میں کی جانے والی کوتاہی مناسب نہیں ہے۔ جناب محمد علی شبیر نے مشن بھگیریتا کی طرح اقلیتی اقامتی اسکولوں کے معاملہ میں بھی گرین چیانل کے ذریعہ بجٹ کی اجرائی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ریاستی وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت صرف مشن بھگیریتا کو گرین چیانل سے بجٹ جاری نہیں کر رہی ہے بلکہ فلاح و بہبود کی اسکیمات کیلئے گرین چیانل کے ذریعہ بجٹ کی اجرائی عمل میںلائی جا رہی ہے۔ جناب محمد محمود علی نے نے بتایا کہ ریاست میں فی الحال 71اقامتی اسکول چلائے جا رہے ہیں جہاں 12ہزار 554 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال ان اقامتی اسکولو ںمیں جو عملہ خدمات انجام دے رہا ہے اس کا تقرر کنٹراکٹ کے اساس پر کیا گیا تھا اور مستقل تقررات آئندہ مالی سال کے دوران تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جاریہ سال اسکولوں کے لئے 350کروڑ کی تخصیص عمل میںلائی گئی ہے جس میں 87کروڑ کی اجرائی عمل میںآچکی ہے۔جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ اقامتی اسکولوں کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر عمل میںلائی جائے گی۔جناب محمد علی شبیر نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کے لئے مختص کردہ بجٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اسکولوں کیلئے 8052کروڑ کی رقومات درکار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے 350کروڑ کی تخصیص عمل میںلائی گئی اور اس میں بھی 87کروڑ کی اجرائی افسوس کی بات ہے۔جناب سید الطاف حیدر رضوی نے اقامتی اسکولو ںمیں داخلو ںکی کمی کی سمت نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ 71اقامتی اسکولوں میں 4470طلبہ کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اقامتی اسکولو ںمیں داخلوںمیں اضافہ کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے استفسار کیا کہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے مختص کردہ اراضی میںکوئی اوقافی اراضی بھی شامل ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب محمد محمود علی نے کہا کہ 49اسکولوں کی مستقل عمارتوں کیلئے اراضیات کی تخصیص عمل میںلائی جا چکی ہے لیکن ان میں کوئی اوقافی اراضی شامل نہیں ہے۔جناب محمد محمود علی نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اقامتی اسکولوں کی تعداد کو متعین نہیں رکھا جائے گا بلکہ ضرورت اور طلب کے اعتبار سے ان میں اضافہ کی گنجائش باقی رکھی گئی ہے ۔جناب محمد علی شبیر نے اسکیم کو مؤثر بنانے کیلئے فوری تقررات کے عمل کو شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں درکار عملہ و اساتذہ کی موجودگی داخلو ںمیں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT