Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں مجلس اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر

پرانے شہر میں مجلس اور کانگریس میں کانٹے کی ٹکر

کل کے حلیف آج حریف کی طرح ایک دوسرے کے سامنے

حیدرآباد۔/7جنوری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں پرانے شہر کے حلقوں میں دلچسپ مقابلہ کا امکان ہے۔ گزشتہ عام انتخابات کے برخلاف اس مرتبہ کانگریس پارٹی نے پرانے شہر میں اپنی طاقت کو دوبارہ اکٹھا کرنے کیلئے سرگرم ہوچکی ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں کانگریس قائدین کے کامیاب دوروں اور پارٹی میں شمولیت کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پرانے شہر کے کئی حلقوں میں مجلس اور کانگریس کا راست مقابلہ ہوگا۔ کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ پرانے شہر میں اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ ایک زمانہ وہ تھا جب پرانے شہر میں کانگریس مستحکم تھی اور حیدرآباد کی پارلیمنٹ نشست پر کانگریس کا قبضہ تھا لیکن مقامی سیاسی جماعت سے وقتاً فوقتاً درپردہ مفاہمت اور دوستی نے پرانے شہر میں پارٹی کی بنیادوں کو کمزور کردیا۔ کانگریس ہائی کمان نے گریٹر انتخابات میں پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں انچارج جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ گریٹر حیدرآباد کے قائدین سے ربط میں ہیں اور وقتاً فوقتاً ہدایات جاری کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پرانے شہر میں جس مہم کا آغاز کیا گیا اسے رائے دہندوں کا حوصلہ افزاء ردعمل حاصل ہورہا ہے۔ کانگریس نے پرانے شہر کے مسائل اور اس کی پسماندگی کو اہم انتخابی موضوع بنانے کا فیصلہ کیا۔ پارٹی کی جانب سے سوشیل میڈیا اور پبلسٹی مہم کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پسماندگی کیلئے کون ذمہ دار ہیں۔ صدر گریٹر حیدرآباد اقلیتی ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل  پارٹی انتخابی مہم کی کمان سنبھال چکے ہیں۔ انہوں نے اردو اور انگریزی زبان میں مختلف پوسٹرس کے ذریعہ مقامی جماعت کی عدم کارکردگی کو بے نقاب کیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے ملک بھر میں مسلم نمائندگی اور مختلف شعبوں میں پسماندگی کی وجوہات کو عیاں کیا جارہا ہے۔ پارٹی نے شہر کی پسماندگی کیلئے سیاسی وجوہات کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گوگل سرچ پر جاری کی گئی رپورٹ کی بنیاد پر ایک پوسٹر تیار کیا ہے۔ گوگل نے پرانے شہر کی پسماندگی کو سیاسی وجوہات کا نتیجہ قرار دیا۔ گزشتہ چند دن سے پرانے شہر میں سرگرم کئی سماجی کارکنوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ تلگودیشم، ایم بی ٹی سے تعلق رکھنے والے کئی قائدین کانگریس سے ربط میں ہیں اور انہوں نے پارٹی میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ بہت جلد اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر کانگریس کی ریالیوں کا آغاز ہوگا جس میں مزید قائدین کی شمولیت کا امکان ہے۔ الغرض مجوزہ گریٹر انتخابات دو سابقہ حلیفوں کے درمیان کانٹے کی ٹکر ثابت ہوسکتے ہیں اور کل کے حلیف آج کے حریف کی طرح انتخابی میدان میں نظر آئیں گے۔

TOPPOPULARRECENT