Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں مچھروں کی کثرت ، عوام کا جینا محال

پرانے شہر میں مچھروں کی کثرت ، عوام کا جینا محال

بلدیہ سے مچھر کش ادویات کی عدم سربراہی ، تالاب اور نالے افزائشی مقامات میں تبدیل
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : عظیم تر بلدیہ کی حدود میں مچھروں کی افزائش میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے جب کہ نشیبی علاقوں میں مچھروں کی افزائش ناقابل بیان حد تک ہوگئی ہے ۔ گذشتہ تین ماہ سے مچھر کش ادویات بلدیہ کے ڈیویژنل دفاتر کو سربراہ ہی نہیں کئے گئے ہیں ۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش پر روک نہ لگانے کی صورت میں شہری عوام میں بیماریاں عام ہوجائیں گی ۔ شہر میں مچھر کشی کے عمل کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ فنڈس نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بناء تین ماہ سے مچھر کش سنٹرس کو مچھر کش ادویہ ہی فراہم نہیں کئے جارہے ہیں جب کہ بلدیہ کے فیصلہ کے مطابق ہر ایک ڈیویژن کو ماہانہ 50 لیٹر ایم ایل او آئیل سربراہ کرنا ہے مگر اب پانچ ڈیویژن میں بھی 50 لیٹر سے بھی کم ایم ایل او آئیل سربراہ کیا جارہا ہے اور سنٹرس کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ماہانہ 10-5 لیٹر مچھر کش ادویہ ہی فراہم کی جارہی ہیں ۔ بلدیہ کی جانب سے مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے دیگر ادویہ جیسے دھائی روس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جو روزانہ 4 لیٹر کے حساب سے 26 دن کے لیے فراہم کیا جاتا ہے اور سرکل عہدیداران کا کہنا ہے کہ ڈی لالا دوائی بھی بہت ہی کم مقدار میں سربراہ کی جارہی ہے ۔ جس کی وجہ سے آبادی والے علاقوں میں دوائی کا چھڑکاؤ نہیں کیا جارہا ہے جب کہ تالابوں اور نالوں میں مچھر کش ادویہ کے عدم چھڑکاؤ کی وجہ سے مچھروں کی افزائش میں شدید ترین اضافہ ہورہا ہے اگر یہی حال رہا تو مستقبل قریب میں عوام ڈینگو ، ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہوسکتے ہیں جب کہ بلدیہ نے تالابوں کی ترقی و صفائی اور مچھروں افزائش کی روک تھام کے لیے کروڑوں روپئے مختص کیے ہیں اور بلدیہ کی حدود میں 24 تالابوں کی صفائی کا آغاز کیا ہے اور تالابوں کی وسعت 178.5 ایکر ہے اور کئی تالابوں کی صفائی کے باوجود مچھروں کی افزائش میں کمی واقع نہیں ہورہی ہے جس کی اصل وجہ مچھر کش ادویہ کا عدم چھڑکاؤ ہی ہے اور عوام کا مطالبہ ہے کہ بلدی عہدیداران اس جانب فوری توجہ دیں کیوں کہ مچھروں کی وجہ سے رات کی نیند اور دن کا چین حرام ہوگیا ہے اور رات بغیر نیند کے گزارنے کی وجہ سے دن کے اوقات میں کام کاج کرنا مشکل ہورہا ہے اور مچھروں کے کاٹنے سے بیماریاں لاحق ہورہی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT