Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجیکٹ کے جلد آغاز پر زور

پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجیکٹ کے جلد آغاز پر زور

چارمینار پیدل راہرو پراجیکٹ کی عاجلانہ تکمیل کا اسمبلی میں جعفر حسین معراج کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کے جلد آغاز کے علاوہ چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے مجلس کے رکن جعفر حسین معراج نے بلدی نظم و نسق کے مطالباتِ زر پر مباحث میں حصہ لیا۔ تلنگانہ اسمبلی میں انہوں نے شہر اور بالخصوص پرانے شہر کے مختلف مسائل کا تذکرہ کیا اور شہر کے دیگر علاقوں کی طرح پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کے آغاز کی مانگ کی تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ میٹرو ریل کی روٹ کونسی ہونی چاہئے۔ واضح رہے کہ میٹرو ریل کی روٹ کے مسئلہ پر حکومت اور مجلس کے درمیان اختلاف رائے کے سبب پرانے شہر میں پراجکٹ کا آغاز تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔ انہوں نے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ اور پتھرگٹی کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کی اپیل کی۔ رکن اسمبلی نے شہر میں پانی کی قلت، سڑکوں کی ابتر صورتحال، کچرے کی عدم صفائی، نالوں کی صفائی جیسے بنیادی مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے کئی علاقوں میں دو دن میں ایک بار اور وہ بھی مختصر وقت کیلئے پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ ایسے وقت جبکہ گرما کا آغاز ہوچکا ہے، حکومت نے ابھی تک پانی کی سربراہی کے سلسلے میں اپنے ایکشن پلان کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی سربراہی کے ساتھ ساتھ آبی آلودگی پر کنٹرول کی ضرورت ہے جس سے عوام بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے واٹر ورکس محکمہ میں اسٹاف کی کمی کے سبب شکایات کی یکسوئی میں تاخیر کا حوالہ دیا۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ شہر کو پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب حمایت ساگر، عثمان ساگر، مانجرا اور سنگور ہیں لیکن ٹی آر ایس حکومت نے وافر مقدار میں پانی کے باوجود عثمان ساگر پانی کی سربراہی مسدود کردی ہے۔ شہر کو کرشنا سے پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے عثمان ساگر کے پانی کی اہمیت اور افادیت کا حوالہ دیتے ہوئے پرانے شہر کو عثمان ساگر سے پانی سربراہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی نے کچرے کی صفائی کیلئے شہر میں 2000 آٹوز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تعداد میں اضافہ کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی ذمہ داری دی جانی چاہئے۔ شہر کے وسط سے گذرنے والی موسیٰ ندی گندگی اور ناجائز قبضوں کا شکار ہے، لہذا حکومت کو موسیٰ ندی کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے پرانے شہر میں واقع پلوں کے تحفظ اور متوازی پلوں کی تعمیر اور پراپرٹی ٹیکس کے بقایاجات کی معافی اور برقی شرحوں میں اضافہ نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT