Monday , November 19 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں میٹرو ریل کے سارے مصارف حکومت برداشت کرے گی

پرانے شہر میں میٹرو ریل کے سارے مصارف حکومت برداشت کرے گی

تمام مذہبی مقامات اور تاریخی عمارتوں کا تحفظ کرنے کا وعدہ ، شمس آباد تک توسیع دی جائے گی : کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کام روک دینے کی ایل اینڈ ٹی کمپنی نے سرکاری طور پر حکومت کو کوئی اطلاع نہیں دی ۔ اگر ایل اینڈ ٹی کمپنی مصارف برداشت کرنے سے انکار کرتی ہے تو سارے مصارف حکومت برداشت کرے گی ۔ تمام مذہبی مقامات اور تاریخی عمارتوں کا تحفظ کرتے ہوئے ایم جی بی ایس تا فلک نما تک میٹرو ریل چلائی جائے گی اور اس کو انٹرنیشنل ایرپورٹ شمس آباد تک بھی توسیع دی جائے گی ۔ وزیر موصوف کے جواب سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی نے واک آوٹ کیا ۔ آج اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ املی بن سے فلک نما تک میٹرو ریل چلانے کا پہلے مرحلے میں فیصلہ کیا گیا تھا ۔ 103 مذہبی مقامات درگاہیں ، چھلے ، مساجد ، منادر وغیرہ تھے جس میں 25 ایسے مذہبی مقامات و تاریخی عمارتیں تھیں جو متاثر ہورہی تھی اس کی دوبارہ ری انجینئرنگ کی گئی ہے ۔ جس سے اب صرف 4 متاثر ہورہی ہیں تاہم ان کی حفاظت کے لیے انتہائی احتیاط برتی جائے گی ان مذہبی مقامات کے اوپر سے میٹرو پل تعمیر کیا جائیگا تاخیر سے پراجکٹ کی لاگت بڑھی ہے ۔ مگر کتنی رقم بڑھی ہے ابھی طئے نہیں ہوا ہے ۔ جیسے ہی طئے ہوگا اس کی اطلاع دی جائے گی ۔ چیف منسٹر کے سی آر میٹرو ریل کو فلک نما کے ساتھ انٹرنیشنل ایرپورٹ تک توسیع دینے کی ہدایت دی ہے ۔ مذہبی مقامات اور حساس علاقوں کی وجہ سے تاخیر ہوئی ۔ ایل اینڈ ٹی نے کام نہ کرنے کی ہمیں کوئی اطلاع نہیں دی ہے ۔ ساری افواہیں ہیں ۔ کمپنی نے سرکاری طور پر حکومت سے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ اگر ایل اینڈ ٹی کمپنی آگے نہیں آئے گی تو حکومت اپنے سرکاری مصارف پر پرانے شہر میں میٹرو ریل کے تعمیری کام کرے گی ۔ جے بی ایس اور ایم جی بی ایس کے درمیان جے بی ایس ۔ فلک نما راہداری کے پہلے مرحلے کے پراجکٹ کے کام زور شور سے جاری ہیں ۔ 200 فیٹ سڑکوں پر تعمیری کام انجام دئیے جانے ہیں ۔ مگر سلطان بازار پر 66 فیٹ روڈ ہے جو ون وے ہے ۔ ٹو وے کے لیے 80 فیٹ چاہئے ۔ پرانے شہر میں 80 تا 100 فیٹ روڈ پر میٹرو ریل کے تعمیری کام انجام دئیے جائیں گے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ وہ آج اسمبلی سیشن کے بعد شہر کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کررہے ہیں جس میں میٹرو ریل پر بھی ارکان اسمبلی کی رائے حاصل کی جائے گی ۔ بی جے پی کے قائد مقننہ جی کشن ریڈی نے پرانے شہر میں میٹرو ریل نا چلانے پر پرانے شہر کے عوام کی حق تلفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں پرانے شہر میں میٹرو ریل چلانے کی منصوبہ بندی کرنے کے بعد کیوں نہیں چلائی گئی اور رکاوٹ کے لیے کون ذمہ دار ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے کا وزیر کے ٹی آر سے مطالبہ کیا ۔ وزیر کے جواب سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بطور احتجاج بی جے پی نے واٹ اوٹ کردیا ۔ بی جے پی کے واک اوٹ پر وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر پہلے مرحلے کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی سے کرایا ہے ۔ بی جے پی اس مسئلہ پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے جس کو پرانے شہر کے عوام بھی پسند نہیں کریں گے ۔ ٹی آر ایس حکومت پرانے شہر میں میٹرو ریل چلاتے ہوئے عوام کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT