Saturday , April 21 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں میٹرو کے امکانات ختم

پرانے شہر میں میٹرو کے امکانات ختم

قیادت کی ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کا نقصان :محمد علی شبیر
حیدرآباد ۔ 23 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : جب کبھی پرانے شہر کی ترقی یا مسلمانوں کے مفادات کی بات آتی ہے تو قیادت کرنے کا دعویٰ کرنے والی مقامی جماعت حکومت پر اثر انداز ہوتے ہوئے عوامی مفادات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپنے شخصی و ذاتی مفادات کو ترجیح دیتی ہے ۔ پرانے شہر میں میٹرو پراجکٹ کی منسوخی اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین اور سابق کارپوریٹر محمد غوث بھی موجود تھے ۔ محمد علی شبیر نے 28 نومبر کو میٹرو ٹرین کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرنے کے لیے پہونچنے والے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ مرکز کے فنڈز سے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین کی رسائی کو یقینی بنائیں یا چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اس کی ذمہ داری قبول کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں ملک کے دیگر شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کا جائزہ لینے کے بعد شہر حیدرآباد میں ٹریفک مسائل کو بڑی حد تک حل کرنے کے لیے ورلڈ کلاس میٹرو ٹرین چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور وہ ( محمد علی شبیر ) بحیثیت سٹی انچارج وزیر نے میٹرو ٹرین کا سنگ بنیاد رکھا تھا ، جو منصوبہ تھا اس میں املی بن سے فلک نما تک میٹرو ٹرین چلانے کا پلان تیار کیا گیا تھا ۔ چند دن قبل ان سے میٹرو ٹروین کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی اور ایل اینڈ ٹی کمپنی کے نمائندوں نے ملاقات کی اور پرانے شہر میں میٹرو ٹرین چلانے کے فیصلے سے دستبرداری اختیار کرلینے سے واقف کرایا ۔ جس پر انہیں کافی حیرت ہوئی ۔ پرانے شہر میں اب میٹرو ٹرین خواب بن کر رہ گئی ہے ۔ اگر پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ پر عمل کیا جاتا تو کئی کاروباری اداروں کو فائدہ ہوتا اور کئی نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کرنے راہیں ہموار ہوتی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوتے تاہم مقامی جماعت نے میٹرو ٹرین کے منظورہ پلان کو تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ۔ ایل اینڈ ٹی کمپنی نے پلان کی تبدیلی سے عائد ہونے والے زائد مالی بوجھ قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ جماعت کے قائدین نے اپنے اور اپنے حواریوں کی جائیدادوں کا تحفظ کرنے کے لیے میٹرو ٹرین کا راستہ تبدیل کروایا تھا تاکہ کم از کم نقصان ہو اور ان کی جائیدادوں کی مارکٹ قدر میں اضافہ ہوسکے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ پہلے جب میٹرو ٹرین کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا تب املی بن ، دارالشفاء ، اعتبار چوک ، بی بی بازار ، پریہ مال ، علی آباد ، شمشیر گنج سے فلک نما تک چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ تب ایک کیلو میٹر پر 200 تا 250 کروڑ روپئے کے مصارف تھے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی اور کوٹھی کے سامنے سے میٹرو چلانے کی مخالفت کی جس کی وجہ دو سال تک تعمیری کام تعطل کا شکار رہے ۔ مقامی جماعت نے بھی پلان تبدیل کردیا بعد ازاں چیف منسٹر نے قدیم پلان سے اتفاق کرلیا مگر مقامی جماعت نے موسیٰ ندی ، بیگم بازار ، چوڑی بازار ، پرانا پل ، بہادر پورہ ، زو پارک ، تاڑبن ، جہاں نما سے فلک نما تک کی تجویز پیش کی جس کو ایل اینڈ ٹی نے قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ مقامی جماعت پرانے شہر کی ترقی نہیں چاہتی ۔ ان کی تجویز اس کی زندہ مثال ہے ۔ جماعت کے پلان پر عمل کیا جائے تو فی کیلو میٹر کی تعمیرات پر 350 کروڑ روپئے کے مصارف ہوں گے اگر انڈر گراونڈ کام کیا جائے تو اس کے مصارف 600 کروڑ تک پہونچ جائیں گے ۔ جماعت کے موقف سے صاف ظاہر ہوگیا کہ وہ پرانے شہر کی ترقی نہیں چاہتے بلکہ اس کو مزید پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں ۔ پرانے شہر میں 12 تا 15 قدیم اور تاریخی عمارتیں ہیں اس کا نظارہ کرنے کے لیے ملکی اور بیرون ممالک کے کئی سیاح پرانے شہر پہونچتے ہیں وہ بھی میٹرو ٹرین سے محروم رہیں گے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت میں گریٹر حیدرآباد کی ترقی کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں جب وہ شہر کے انچارج وزیر تھے تب 3500 کروڑ روپئے کے مصارف سے انٹرنیشنل ایرپورٹ ، رنگ روڈ پر 7 ہزار کروڑ روپئے پی وی این آر ایکسپریس وے پر 600 کروڑ روپئے مولانا ابوالکلام آزاد پانی کی اسکیم پر 3500 کروڑ کرشنا واٹر سے تینوں فیس میں حیدرآباد کو پینے کا پانی لانے کے لیے 4000 کروڑ روپئے 12 فلائی اوورس بشمول چندرائن گٹہ ، اپوگوڑہ ، لنگر حوض ، ٹولی چوکی وغیرہ شامل ہیں ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کو 4 فیصد مسلم تحفظات دلانے میں اہم رول ادا کیا جب کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کا بل جب اسمبلی میں پیش ہوا تھا مقامی جماعت کے قائد اسمبلی میں ہونے کے باوجود لندن میں چھٹیاں منا رہے تھے ۔ اگر وزیراعظم یا چیف منسٹر کی جانب سے پرانے شہر میں میٹرو ٹرین چلانے کا اعلان نہیں کیا جاتا تو وہ پرانے شہر کے عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی مہم شروع کرینگے ۔۔

TOPPOPULARRECENT