Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر میں کانگریس کی مسلم قیادت کو اُبھارنے کی ضرورت

پرانے شہر میں کانگریس کی مسلم قیادت کو اُبھارنے کی ضرورت

مقامی جماعت کی دغابازی سے نقصان، ٹی آر ایس وعدوں کی تکمیل میں ناکام: وی ہنمنت راؤ

مقامی جماعت کی دغابازی سے نقصان، ٹی آر ایس وعدوں کی تکمیل میں ناکام: وی ہنمنت راؤ
حیدرآباد /16 ستمبر (سیاست نیوز) رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے مجلس کو کانگریس کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے والی جماعت قرار دیتے ہوئے پرانے شہر میں کانگریس کی مسلم قیادت کو ابھارنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کی سیاسی طاقت کانگریس کی مرہون منت ہے، تاہم احسان مند رہنے کی بجائے مجلس نے 2014ء کے عام انتخابات میں کانگریس سے دغا بازی کی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی تائید سے تمام کام کرانے والی مجلس نے 2014ء کے عام انتخابات میں غداری کرتے ہوئے شہر کے علاوہ اضلاع میں بھی کانگریس کے خلاف اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارکر کانگریس کی پیٹھ میں خنجر گھونپا، جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ کی مخالف مجلس نے کریم نگر کے انتخابات میں سربراہ ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف کام کیا، تاہم اقتدار حاصل ہوتے ہی ان کے خیمے میں پہنچ گئی۔ انھوں نے کہا کہ مجلس کی نہ تو کوئی پالیسی ہے اور نہ اصول، نہ کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی انتخابی منشور، صرف جذباتی سیاست اس کا وتیرہ ہے۔ مسٹر وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ صرف تلنگانہ اور آندھرا میں ہی مجلس نے کانگریس کو نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ کرناٹک میں بھی اس نے کانگریس کے خلاف کام کیا اور اب مہاراشٹرا میں کانگریس کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ کانگریس پارٹی، مجلس کے لئے نرم گوشہ ختم کردے اور اس کو سبق سکھانے کے لئے دونوں شہروں بالخصوص پرانے شہر میں کانگریس کے استحکام کے اقدامات کرے۔ انھوں نے کہا کہ آبادی کے تناسب یعنی جس کی جہاں آبادی ہے، وہاں اس طبقہ کے قائد کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کو ٹکٹ دے۔ علاوہ ازیں پارٹی کے استحکام کے لئے نچلی سطح سے کام کرے، کیونکہ کانگریس پارٹی پر عوام کو بھروسہ ہے۔ انھوں نے کے چندر شیکھر راؤ کو بھی دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 100 دن کی تکمیل کے باوجود ٹی آر ایس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئی۔ اکثر دو سال کی تکمیل کے بعد حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی پیدا ہوتی ہے، تاہم ٹی آر ایس حکومت کے خلاف 100 دن میں ہی یہ صورت پیدا ہو گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT