Thursday , October 18 2018
Home / Top Stories / پرانے شہر میں 1000 کروڑ کے صرفہ سے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائیگا

پرانے شہر میں 1000 کروڑ کے صرفہ سے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائیگا

30 سال سے پانی وبرقی کے مسائل برقرار ‘رمضان سے قبل دورہ ‘چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا اعلان

حیدرآباد 16 اپریل ( پریس نوٹ ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا ہے کہ پرانے شہر حیدرآباد میں 1000 کروڑ روپئے کے صرفہ سے انفرا اسٹرکچر کام کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ( چیف منسٹر ) خود بہت جلد ان کاموں کا افتتاح کرینگے اور ان کاموں کو جنگی خطوط پر مکمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پرانے شہر کو پانی جمع ہوجانے سے پاک بنایا جائیگا ‘ یہاں سڑکوں پر ڈرینیج کے پانی بہنے کو روکا جائیگا ‘ پرانے شہر میں پینے کے پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ یہاں برقی کے مسائل نہیں ہونگے اور یہاں ٹریفک کے مسائل کا بھی ازالہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ایک جامع منصوبہ کو تیار کیا جائیگا ۔ چیف منسٹر نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ پرانے شہر کے مسائل کا مستقل حل دریافت کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماہ رمضان کے آغاز سے قبل پرانے شہر کا دورہ کرینگے اور ایکشن پلان کا اعلان کیا جائیگا ۔ انہوں نے ہدایت دی کہ چیف سکریٹری قیادت میں پرانے شہر میں کئے جانے والے کاموں کا مہینے میں دو بارہ جائزہ لیا جائیگا ۔ انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے کاموں کے علاوہ چیف منسٹر نے ہدایت دی کہ موسی ندی کو بہتر اور خوبصورت بنانے کے کام بھی 1600 کروڑ روپئے کے صرفہ سے کئے جائیں گے اور 1200 کروڑ روپئے کے صرفہ سے میٹرو ریل کے کام تیزی سے مکمل کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر نے آج پرانے شہر کے برقی ‘ پینے کے پانی ‘ سیوریج اور دوسرے کاموں پر جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس میں ریاستی وزرا کے ٹی راما راؤ ‘ اندرا کرن ریڈی ‘ چیف سکریٹری ایس کے جوشی ‘ ڈی جی پی مہیندر ریڈی ‘ کمشنر بلدیہ بی جناردھن ریڈی ‘ واٹر ورکس کے ایم ڈی دانا کشور کے علاوہ دوسرے سینئر عہدیداروں ‘ کلکٹر حیدرآباد مس یوگیتا اور دوسروں نے شرکت کی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں پرانے شہر کو نظر انداز کردیا گیا اور وہاں کوئی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گذشتہ 30 سال سے سن رہے ہیں کہ پرانے شہر میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے ‘ ناقص برقی سربراہی کا مسئلہ ہے ‘ سڑکیں تنگ ہیں اور سیوریج و ڈرینیج کا پانی سڑکوں پر بہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ تلنگانہ ریاست تشکیل پا چکی ہے یہ صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی ۔ انہوں نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ ایک جامع ایکشن پلان تیار کریں تاکہ پرانے شہر میں انفرا اسٹرکچر سہولیات کو فروغ دیا جاسکے ۔ انہوں نے پرانے شہر میں پینے کے پانی کا مسئلہ مستقل حل کرنے اقدامات کرنے اور برقی سربراہی سے متعلق مسائل کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ ہر محلہ اور ہر گھر کو پینے کا پانی سربراہ کیا جائے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اب رمضان ‘ گنیش اور بونال جیسے تہوار آنے والے ہیں۔ ان ایام میں برقی کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے اور متعلقہ عہدیداروں کو قبل از وقت اس کی تیاری کرلینی چاہئے ۔ ایسے کاموں پر جو بھی خرچ آئیگا ریاستی حکومت برداشت کریگی ۔

TOPPOPULARRECENT