Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / پرانے شہر کیلئے میٹرو ٹرین ، بجٹ میں ذکر نہیں

پرانے شہر کیلئے میٹرو ٹرین ، بجٹ میں ذکر نہیں

11/10/2014 - Hyderabad: Shabbir Ali, Congress Party MLC - Deccan Chronicle Photo. [Telangana, Mug shot]

حکومت کی بھجن منڈلی جماعت مسلمانوں کو پھر بے وقوف بنارہی ہے : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔ 15 مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے ریاستی بجٹ کو ’’اونچی دوکان پھیکا پکوان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل کے کاموں کا آغاز کرنے کا اعلان کیا گیا مگر بجٹ میں کوئی رقمی گنجائش فراہم نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر کے سی آر اور اکبرالدین اویسی نے اسمبلی میں صرف ایک دوسرے کے کانوں کو خوش کیا۔ مجلس ، ٹی آر ایس کی بھجن منڈلی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت ہر سال بجٹ کے اعداد و شمار میں اضافہ کررہی ہے مگر منظور کردہ بجٹ کا 50% حصہ بھی خرچ نہیں کررہی ہے۔ گزشتہ 4 سال کے دوران ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کیلئے 4,684 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا تاہم صرف 2,273 کروڑ روپئے خرچ کیا ہے جس کا تناسب 48% ہے۔ اس طرح ایس سی طبقہ کیلئے 40,527 کروڑ روپئے مختص کیا گیا مگر 17,848 کروڑ روپئے خرچ کیا گیا جس کا تناسب 44% ہے۔ ایس ٹی طبقہ کیلئے 23,932 کروڑ روپئے مختص کئے گئے مگر 11,713 کروڑ روپئے خرچ کیلئے بی سی طبقات کیلئے 13,169 کروڑ روپئے مختص کئے گئے مگر صرف 7,434 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ جھوٹ بولنا اور وعدوں سے انحراف کرنا ، عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھاکر دھوکہ دینا چیف منسٹر کی عادت بن گئی ہے۔ گورنر کے خطبہ اظہار تشکر مباحث میں چیف منسٹر نے پرانے شہر میں میٹرو ریل شروع کرنے کا اعلان کیا جس سے پرانے شہر کے عوام میں مسرت کی لہر دوڑ گئی تھی، لیکن آج پیش کردہ بجٹ میں رقمی منظوری نہ دیتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت نے دوبارہ پرانے شہر کے عوام کو مایوس اور ناراض کردیا۔ عوامی مسائل کو ایوانوں میں اٹھانے سے روکنے کیلئے حکومت نے کانگریس کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کو معطل کردیا جس کے بعد چیف منسٹر کے سی آر اور مجلس کے قائد اکبرالدین اویسی ایک دوسرے کے کانوں کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔ پرانے شہر کے عوام اپنے مسائل کو حل کرنے اور مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کیلئے مجلس کے ارکان کو اسمبلی روانہ کررہے ہیں۔ حق ادا کرنے، وعدوں کی عدم عمل آوری پر حکومت سے وضاحت طلب کرنے کے بجائے مجلس، ٹی آر ایس کی بھجن منڈلی میں تبدیل ہوگئی ہے۔ چیف منسٹر نے 12% مسلم تحفظات کے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا۔ گزشتہ اسمبلی سیشن میں اقلیتوں کے فلاح و بہبود کیلئے جو بھی وعدے کئے گئے تھے، اس میں ایک بھی وعدے کو پورا نہیں کیا گیا جس پر مجلس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ چیف منسٹر نے 2,72,563 ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، چار سال کے دوران صرف 9,552 ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔ 34 لاکھ دلت خاندان میں فی کس 3 ایکر اراضی تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر چار سال کے دوران صرف 4,939 دلتوں میں اراضی تقسیم کی گئی۔ چار سال کے دوران 1.10 لاکھ جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کئے گئے مگر ابھی تک صرف 27,588 جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ شادی مبارک اور کلیانا لکشمی کے بجٹ کو 1,625 کروڑ روپئے سے گھٹاکر 1,450 کروڑ روپئے کردیا۔ ابھی تک کوئی این آر آئی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا، جھوٹ بولنے کے معاملے میں چیف منسٹر کا نام گینز بُک آف ورلڈ ریکارڈس میں درج ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT