Saturday , December 15 2018

پرانے شہر کی ترقی اور پراجکٹس کے وعدے وفا نہ ہوسکے

ماضی کے چیف منسٹرس کے بلند بانگ دعوے ، تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر سے مثبت توقعات

ماضی کے چیف منسٹرس کے بلند بانگ دعوے ، تلنگانہ چیف منسٹر کے سی آر سے مثبت توقعات
حیدرآباد۔ 17؍نومبر (سیاست نیوز)۔ پرانے شہر کی ترقی کے متعلق تمام حکومتوں کے وعدے یکساں ثابت ہوتے آئے ہیں۔ تلگودیشم دور حکومت میں اُس وقت کے چیف منسٹر مسٹر این چندرابابو نائیڈو نے مکہ مسجد کے عقب میں واقع مہاجرین کیمپ کو ترقی دیتے ہوئے ہمہ منزلہ رہائشی کامپلکس تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ اعلان بھی صرف زبانی جمع خرچ ثابت ہوا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ریاست آندھرا پردیش کا اقتدار حاصل کرنے کے بعد پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے کئی اعلانات کئے تھے جن میں 2,000 کروڑ روپئے کے خرچ سے پرانے شہر کو ترقی دینے کا اعلان بھی شامل تھا۔ ان اعلانات میں ڈاکٹر ریڈی نے درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینی رحمتہ اللہ علیہ واقع مصری گنج کی وسیع و عریض گنبد کی آہک پاشی و دیگر کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا تیقن دیا تھا۔ اسی دورے کے دوران ڈاکٹر ریڈی نے میر عالم تالاب میں زیر آب ایکویریم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، لیکن یہ منصوبہ بھی متعلقہ محکمہ کی جانب سے رد کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کے بعد کچھ وقت کے لئے ڈاکٹر کے روشیا نے اقتدار سنبھالا، لیکن اس دور حکومت میں کوئی ترقیاتی کام نہ اعلان کئے گئے اور نہ ہی اعلان کردہ کاموں کی انجام دہی یقینی بنائی گئی۔ مسٹر این کرن کمار ریڈی نے ریاست کے چیف منسٹر بننے کے بعد پرانے شہر کی ترقی کے لئے اقدامات کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کی طرح کئی پراجکٹس کے سنگ بنیاد بھی رکھے، مگر اب وہ پراجکٹس متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے روک دیئے گئے ہیں اور کئی پراجکٹس کو بالکلیہ طور پر مسترد کرتے ہوئے انھیں برفدان کی نذر کردیا گیا ہے جس میں کرن کمار ریڈی کی جانب سے پرانے شہر کی پہلی ای۔لائبریری بھی شامل ہے جوکہ پرانے شہر کے علاقہ بارکس میں تعمیر کی جانے والی تھی۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے ای۔لائبریری کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے اس کے لئے 50 لاکھ روپئے منظور کئے تھے، لیکن محکمہ لائبریری اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے درمیان رنجشوں نے اس پراجکٹ کو منسوخ کرنے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے خلوت میں مجوزہ ملٹی اسٹوری پارکنگ کامپلکس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا اور اس کے لئے بھی کروڑہا روپئے کے تخصیص عمل میں لائی گئی تھی، لیکن پارکنگ کامپلکس کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرنے والے کنٹراکٹر اور بلدی عہدیداروں کے درمیان پیدا شدہ اختلافات اور پراجکٹ کی تخمینی لاگت سے اضافہ اخراجات کے منصوبہ کے باعث پراجکٹ ایک مرتبہ پھر حکومت سے رجوع کیا گیا ہے اور حکومت پراجکٹ کی منظوری کے متعلق تاحال کسی قسم کا فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ نظامیہ شفاخانہ یونانی چارمینار کی تزئین نو کے متعلق بھی ہر حکومت نے فنڈس کی تخصیص کے اعلانات کئے، لیکن منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور آج بھی شفاخانہ کی تزئین نو و آہک پاشی کے کام ادھورے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اختیار کردہ پرانے شہر کے ساتھ سلوک کوئی نیا نہیں ہے، لیکن ریاست تلنگانہ میں پرانے شہر کی ترقی کے متعلق حکومت سے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر حکومت تلنگانہ پرانے شہر کی ترقی کو نظر انداز کرتی ہے تو ایسی صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ حکومتوں کو پرانے شہر کے علاقوں سے کوئی مطلب یا سروکار نہیں ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ کو ترکی کے تاریخی شہر استنبول کی طرز پر ترقی دینے کا اعلان تو کیا ہے، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ سابقہ چیف منسٹرس کی طرح چندر شیکھر راؤ بھی اپنے اعلانات کو صرف زبانی حد تک محدود رکھتے ہیں یا پھر عہدیداروں کو پرانے شہر کی ترقی کا پابند بناتے ہوئے انھیں اب تک کئے گئے تمام اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT