Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کی ترقی کے وعدے صرف کاغذی کارروائی کی حد تک محدود

پرانے شہر کی ترقی کے وعدے صرف کاغذی کارروائی کی حد تک محدود

بارکس میں ای ۔ لائبریری کا سنگ بنیاد کے باوجود کام نامکمل

بارکس میں ای ۔ لائبریری کا سنگ بنیاد کے باوجود کام نامکمل
حیدرآباد۔ 3؍نومبر (سیاست نیوز)۔ حکومت کی جانب سے پرانے شہر کے تعلق سے کئے جانے والے اعلانات صرف کاغذی کارروائیوں کی حد تک ہی محدود ہوا کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے پرانے شہر کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کے اعلانات و ترقیاتی کام تو شروع کئے جاتے ہیں، لیکن برسہا برس گزرنے کے باوجود بھی وہ ترقیاتی کام پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچتے جس کی وجہ سے پرانے شہر کی تیز رفتار ترقی یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔ سابقہ ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی کے دور اقتدار میں سال 2011ء کے دوران انھوں نے پرانے شہر کا دورہ کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے علاقہ بارکس میں ریاست کی پہلی ای۔لائبریری کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے 50 لاکھ روپئے کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ اسی طرح اس ای۔لائبریری کے متعلق یہ اعلان کیا گیا تھا کہ مذکورہ ای۔لائبریری اپنے تعمیری مراحل کی تکمیل کے بعد 24 گھنٹے خدمات انجام دے گی تاکہ پرانے شہر کے طلباء و طالبات کو فائدہ حاصل ہوسکے۔ جون 2011ء میں مسٹر کرن کمار ریڈی نے اپنے دورۂ پرانے شہر کے دوران جو اعلانات کئے تھے، ان میں نوجوانوں کے لئے سب سے اہم اعلان ای۔لائبریری کا قیام تھا، لیکن یہ ای۔لائبریری کس مرحلہ میں ہے اور کب تک مکمل ہوگی؟ کوئی عہدیدار بتانے سے قاصر ہے جب کہ اس مقصد کے لئے منظورہ 50 لاکھ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں۔ حکومت آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے بھی پرانے شہر کے دورہ کے موقع پر 2000 کروڑ روپئے کے تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام ان کا یہ اعلان فراموش کرچکے ہیں۔ اسی طرح کرن کمار ریڈی کی جانب سے کئے گئے اعلانات بھی گزرتے وقت کے ساتھ فراموش کردیئے جائیں گے۔ اس سے پہلے کہ پرانے شہر کی ترقی ایک خواب بن کر رہ جائے، منتخبہ عوامی نمائندوں کے علاوہ ذمہ دار شہریوں کو چاہئے کہ وہ حکومت کی جانب سے منظورہ و معلنہ کاموں کے بروقت آغاز اور ان کے موقف کے متعلق آگہی حاصل کریں تاکہ حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا بجٹ صحیح سمت میں خرچ ہوسکے۔ ای۔لائبریری کے جلد از جلد آغاز کی صورت میں پرانے شہر کے نوجوانوں بالخصوص طلباء و طالبات کو کافی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے اور وہ عصری ٹکنالوجی کے ذریعہ حصولِ علم کو یقینی بناتے ہوئے مسابقتی دوڑ میں آگے آسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT