Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے ساؤتھ زون پولیس کا غیر اعتماد کردار

پرانے شہر کے ساؤتھ زون پولیس کا غیر اعتماد کردار

علاقہ واری سطح سے جانبداری و غیر جانبداری کا رویہ ، پولیس پر الزامات کی بہتات
حیدرآباد /8 جنوری ( سیاست نیوز ) شہر میں شی ٹیم کی کمیونٹی اور فرینڈلی پولیسنگ کی پالیسی اب دکھائی دے رہی ہے کہ علاقہ اور افسر کے لحاظ سے اپنائی جارہی ہے ۔ کسی علاقہ میں عہدیدار کی مرضی چلتی ہے تو کسی کسی علاقہ میں سیاسی دخل اندازی کا اہم رول پایا جاتا ہے لیکن پرانے شہر کے علاقہ ساؤتھ زون میں ان دنوں پولیس کی پالیسی الزامات کے گھیرے میں آگئی ہے اور کچھ اس طرح کی منمانی کے الزامات ساؤتھ زون پولیس کے سربراہ پر عائد ہونے لگے ہیں ۔ گذشتہ چند دنوں سے مقامی عوام میں بے چینی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ ساؤتھ زون کے ایک علاقہ میں ایک پالیسی تو دوسرے علاقہ میں الگ انداز کی پولیسی کسی علاقہ میں رات کے اوقات کھلی چھوٹ تو کسی علاقہ میں سخت اقدامات ہونا تو یہ چاہئے کہ پورے ساؤتھ زون میں ایک ہی طرح کے اقدامات ہوں ۔ سماجی برائی اور عادی مجرمین کے ساتھ پولیس کی کارروائی شکوک و شبہات کا سبب بن گئی ہے ۔ عوام کو پولیس سے قریب کرنے کیلئے اختیار کئے گئے فارمولے اور پالیسیاں عام عوام کیلئے نہیں بلکہ مجرمانہ و غیر سماجی عناصر کیلئے کافی کارآمد ثابت ہوگئے ہیں ۔ عام شہری کی جائز درخواست میں بھی نقائص تلاش کرتے ہوئے مقدمات درج کرنے اور انصاف دلانے میں ٹال مٹول کرنے والی پولیس غیر سماجی عناصر کیلئے مددگار ثابت ہونے کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہی ہے ۔ ان دنوں رات اور دن کے مخصوص اوقات اور ہفتہ کے مقررہ دن خفیہ فینانسرس ساؤتھ زون کے دفتر کا رخ کرتے ہیں اور اکثر ان کی سرگرمیاں خوشگوار موڑ میں مبینہ طور پر ساؤتھ زون کے دفتر میں دیکھائی دیتی ہیں اور اس سلسلہ آمد سے عام شہری تعجب اور تشویش کا شکار ہے کہ آیا حصول انصاف اور داد و فریاد بھی ایسی نئی پالیسی میں بغیر سفارش کے ممکن نہیں ۔ اس طرح رات کے اوقات میں پرانے شہر میں ہوٹل کھلی رہتی ہے لیکن باہر گاڑیوں اور ان شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ اکثر موٹر سائیکلوں کے بیگ پولیس کی جانب سے نکال لئے جارہے ہیں ۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ہوٹل ہی کھلی نہ رہی تو گراہٹ ہوٹل تک پہونچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ عوام نے ان حالات پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ رات کے اوقات میں مغل پورہ ، شاہ علی بنڈہ ، میرچوک ، بہادرپورہ ، کالاپتھر تقریباً سبھی علاقوں میں ایسی ہوٹلوں کی سرگرمیاں پائی جاتی ہیں اور اکثر علاقوں میں ہوٹلوں کو پابندی سے وقت پر بند کردیا جاتا ہے ۔ پرانے شہر کے پولیس سربراہ یعنی پولیس کے سب سے بڑے عہدیدار سے بہترین تعلقات پائے جاتے ہیں اور وہ الوال میں خدمات انجام دینے سے لیکر تاحال بھروسہ مند ماتحت عہدیدار تصور کئے جاتے ہیںاور ساؤتھ زون کے اس عہدیدار پر سیاسی جماعت کو خوش کرنے کے بھی الزامات پائے جاتے ہیں ۔ ایک طرف اعلی عہدیدار تو دوسری طرف سیاست داں دونوں کو خوش کرتے ہوئے یہ عہدیدار اپنی من مانی چلا رہا ہے ۔ ساؤتھ زون میں پولیس کی کاررائی مگر مچھ کو پکڑنے کے نام پر مگر مچھ کو بچانے کے مترادف ثابت ہو رہی ہے اور اکثر پولیس کی کارروائی میں مچھلی کو مگر مچھ کے طور پر پیش کردیا ہے ۔ کسی بھی واقعہ کے بعد پولیس وقتیہ کارروائی کرتے ہوئے چھوٹے خاطیوں کو پریشان کرتی ہے ۔ جبکہ بڑے خانگی فینانسرس اور سودخوروں کو پرانے شہر میں کھلی چھوٹ حاصل ہے ۔ خانگی پرائیویٹ وہیکل فینانسرس بھی ان دنوں اپنا کاروبار من مانی سے چلا رہے ہیں اور ساؤتھ زون کے دفتر میں سود خوروں اور فینانسروں کی آمد و رفت کا سلسلہ ان دنوں جاری ہے ۔ اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ پرانے شہر میں خانگی فینانسروں کا جال پایا جاتا ہے اور ان کی ہراسانی سے تنگ آکر کئی شہریوں نے اپنی جانیں گنوادی ۔ واضح رہے کہ چارمینار سے ایک لڑکی نے سابق میں چھلانگ لگاکر خودکشی کی تھی اور اس نے اس وقت بیان بھی دیا تھا کہ یہ لڑکی سودخور کے چنگل سے بچنے کیلئے اس طرح کا انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہوئی ہے ۔ تاریخی چارمینار کے چاروں راستوں کو سودخوروں نے آپس میں بانٹ لیا ہے اور ایک کے علاقہ میں دوسرا فرد داخل ہو نہیں سکتا ۔ لہذا شہری آپسی مدد حاصل نہیں کرسکتے اور ایسے بڑے فینانسروں کے خلاف شکایت پر پولیس میں کوئی ٹھوس اور سخت اقدام نہیں ہوتا ۔ وقتیہ کارروائی سے ان افراد کے حوصلے بلند ہوگئے اور پولیس کی پشت پناہی سے خانگی فینانسر اپنا کاروبار منصوبہ بند طریقہ سے چلا رہے ہیں ۔ پرانے شہر کی عوام کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور پولیس کی ملی بھگت اور آپسی تعلقات غیر سماجی عناصر اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کیلئے مبینہ طور پر مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور عوام نے اس احساس کا اظہار کیا ہے ۔ کوئی بھی پالیسی ہو عوام کے حالات بدلنے والے نہیں چونکہ پولیس بدلنے والی نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT