Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے عوام کو وزراء اورعوامی نمائندوں سے مایوسی

پرانے شہر کے عوام کو وزراء اورعوامی نمائندوں سے مایوسی

…  بارش کی تباہ کاریاں  …
پرانے شہر کے عوام کو وزراء اورعوامی نمائندوں سے مایوسی
دوارکان اسمبلی بیرونی دورہ پر، حلقہ کے عوام پریشان، انچارج وزیرکے ٹی آر کھمم کی انتخابی مہم میں مصروف
حیدرآباد۔/7 مئی، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کو عالمی شہر میں تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت اور عوامی نمائندوں کا عوام کو بے چینی سے انتظار ہے جو جمعرات کی شب ہوئی موسلا دھار بارش سے پریشان ہیں۔ شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء کو متاثرہ علاقوں کے دورہ سے دلچسپی نہیں تو دوسری طرف پرانے شہر کے عوامی نمائندے بھی اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔شہر کے انچارج وزیر کے ٹی راما راؤ کھمم کے پالیرو اسمبلی حلقہ کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں جبکہ شہر کے دیگر وزراء کو پرانے شہر سے اس لئے بھی دلچسپی نہیں کہ یہاں ان کی حلیف جماعت کے نمائندے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کے دو اسمبلی حلقہ جات کے ارکان اسمبلی اس وقت ملک سے باہر ہیں جبکہ زیادہ تر نقصانات ان کے اسمبلی حلقوں میں ہوئے ہیں۔ دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی حتیٰ کہ کارپوریٹرس بھی متاثرین کی مدد کیلئے نہیں پہنچے۔ حالانکہ ہزاروں خاندان بارش سے متاثر ہوئے ہیں اور انہیں فوری امداد و راحت پہنچانے کی ضرورت ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے اور خاص طور پر پرانے شہر کے اکثر علاقے آج بھی بارش کے نقصانات سے اُبھر نہیں پائے ہیں اور کئی علاقوں میں ابھی تک گھروں سے پانی صاف نہیں ہوا اور نہ ہی گذرنے کے راستے بحال ہوئے۔ لیکن افسوس کہ دو دن گذرنے کے باوجود آج تک کسی وزیر اور حتیٰ کہ متعلقہ عوامی نمائندوں نے تک متاثرہ علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ عام طور پر یہ روایت رہی کہ اس طرح کی تباہی اور نقصانات کی صورت میں شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء متعلقہ عہدیداروں کے ساتھ دورہ کرتے رہے ہیں لیکن عوام کو اس مرتبہ مایوسی ہوئی۔ ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی طوفانی بارش نے تباہی کا لامتناہی تسلسل چھوڑا ہے۔ مکانات ہی نہیں بلکہ دکانات کو نقصان پہنچا اور کئی نشیبی علاقے آج بھی پانی کی زد میں ہیں اور عوام پانی کی نکاسی کیلئے عہدیداروں کی آمد کے منتظر ہیں۔ مجلس بلدیہ کی جانب سے ہمیشہ کی طرح ایمرجنسی نمبرس کا اعلان کردیا گیا لیکن ان نمبرس پر جواب دینے والا کوئی نہیں۔ پرانے شہر میں بارش سے زبردست نقصانات ہوئے ہیں۔ کئی علاقوں میں مکانات میں پانی داخل ہوگیا اور الیکٹرانک اشیاء کو نقصان پہنچا۔ لوگ رات بھر پانی کے درمیان گذارنے پر مجبور رہے۔ یاقوت پورہ اور اس سے متصل کئی علاقوں میں نالے ٹوٹ چکے ہیں اور عوام کیلئے دوسرے علاقے میں منتقلی کا راستہ مسدود ہوچکا ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں سے عوام نے شکایت کی کہ بارش سے ہر علاقے میں لاکھوں روپئے کے نقصانات کے باوجود کسی عوامی نمائندے نے ان کی خیریت دریافت نہیں کی۔پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں سڑکیں بری طرح تباہ ہوچکی ہیں اور سڑکوں پر مٹی اور ریت جمع ہوجانے سے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔ بارش کے آغاز سے صبح تک برقی کی سربراہی مسدود رہی اور اس کے بعد سے مسلسل روزانہ پرانے شہر میں 5 تا 8 گھنٹے وقفہ وقفہ سے برقی سربراہی مسدود ہورہی ہے۔ یاقوت پورہ، تالاب کٹہ، رین بازار، مادنا پیٹ، حافظ بابا نگر کے علاوہ اعظم پورہ، چادر گھاٹ، عثمان پورہ، کٹل گوڑہ سے عوام نے شکایت کی کہ وہاں برقی کے ساتھ ساتھ پانی کی سربراہی کی صورتحال بھی ابتر ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء نے دورہ نہیں کیا بلکہ عہدیداروں کے ساتھ تباہی پر جائزہ اجلاس بھی طلب نہیں کیا۔ کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے بھی کسی علاقے کا دورہ نہیں کیا ہے۔بارش کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ 10برسوں میں اس قدر تباہ کن بارش نہیں ہوئی جس نے شہر کے ہر علاقہ کواپنی لپیٹ میں لیا اور ہر گلی کوچہ اور سڑکوں پر بارش کے قہر کے نشان دکھائی دے رہے ہیں۔ بارش کے سبب جگہ جگہ کچرے کے انبار ، کیچڑ،سڑکوں پر گڑھے عوام کیلئے مشکلات کا سبب بن چکے ہیں۔ پرانے شہر کے غریب خاندانوں کے گھروں میں گھریلو سامان کے علاوہ روز مرہ کے استعمال کی اشیائے ضروریہ اور اناج کو بھی نقصان پہنچا۔ ان متاثرین کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT