پرانے شہر کے مسافرین کو سخت مشکلات درپیش، آٹو ڈرائیورس کا میٹرڈالنے سے انکار

مسافرین منہ مانگی قیمت ادا کرنے پر مجبور، روزآنہ سفر کرنے والوں کو ہزاروں کا نقصان، مقامی لیڈرس خاموش

مسافرین منہ مانگی قیمت ادا کرنے پر مجبور، روزآنہ سفر کرنے والوں کو ہزاروں کا نقصان، مقامی لیڈرس خاموش
حیدرآباد ۔ 13 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) ۔ پرانا شہر ایک پسماندہ علاقہ ہے یہاں پر غریب لوگ رہتے ہیںاور محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرتے ہیں۔مرد حضرات دور دراز مقامات جاکر اپنی خدمات انجام دیتے ہیں اور گھر کے چھوٹے کام وغیرہ خواتین انجام دیتی ہیں۔ ان خواتین کو اپنے کاموں یا رشتہ داروں سے ملنے یا پھر دواخانو ں کو جانے کے لئے آٹو یا بس کا سہارا لینا پڑتا ہے ۔ پرانے شہر میں اے پی ایس آر ٹی سی کی جانب سے چلائی جانے والی بسیں بہت ہی کم وقت پر دستیاب ہوتی ہیں یا یو ں کہیے کہ چند مقامات کو چھوڑ کر دوسرے مقامات پربس خدمات نہ کے برابر ہیں۔ جن مقامات پر بس کی سہولت نہیں ہے وہاں پر لوگوں کو آٹو کے ذریعہ سفر کرنا پڑتا ہے ۔ پرانے شہر میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پر لوگوں کو آٹو رکشاء کے ذریعہ ہی سفر کرنا پڑتا ہے ۔اور جب یہاں کے لوگوں کو کئی اہم کام یا اہم ضروریات کی تکمیل کرنے کے لئے سفر کرنا ہوتا ہے تب لوگ آٹو رکشاء میں سوار ہوتے ہیں۔ لیکن اِن کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔آٹو ڈرائیورس مسافرین سے مبینہ طور پر منہ مانگی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ جب مطلوبہ قیمت ادا کرنے سے انکار کریں تو آٹو والے سواری کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔یہ لوگ مسافر کی مجبوری کا بھی فائدہ اٹھانے کی تاک میں لگے رہتے ہیں ، جیسے اگر کسی مریض کو اسپتال جانا ہوتب بھی من مانی قیمت طلب کرتے ہیں۔پرانے شہر میں آٹو والے میٹر سے سواری کرنے سے صاف طور پر انکا ر کردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹر سے سواری کرنے پر انھیں بھوکے پیٹ رہنا پڑیگا۔ ایک آٹو ڈرائیور نور محمدنے سیاست کو بتایا کہ پرانے شہر میں میٹر سے سواری کرنے پر جو آمدنی ہوتی ہے وہ صرف پٹرول یا گیس میں صرف ہوجاتی ہے کیونکہ ایک سواری چھوڑنے کے بعد دوسری سواری کی تلاش میں گھومنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرانے شہر میں تنگ سڑکیں ،ٹرافک جام، اسپیڈ بریکرس اور کھڈے وغیرہ ہونے کی وجہ سے آٹو میں پٹرول زیادہ استعمال ہوتاہے ۔دوسری جانب آٹو مسافرین کا کہناہے کہ یہ لوگ ہر سواری سے دوگنا کرایہ وصول کرلیتے ہیں اور جو مسافر دوگنا کرایہ ادا کرنے سے انکار کرتا ہے اُسے اپنے آٹو میں سوارہونے نہیں دیتے ہیں۔کئی مسافرین نے شکایت کی ہے کہ آٹو والے اپنی من مانی کرتے ہیں۔ایک خاتون ملیکا نے بتایا کہ وہ جہاں نما سے ایم جی بی ایس سفر کرنے آٹو والوں سے بات چیت کی تو انھیں تقریباً ایک گھنٹے تک آٹو نہیں ملا ، آخر کار انھیں دوگنا کرایہ دے کر آٹو میں سفر کرنا پڑا کیونکہ کوئی بھی آٹو والا میٹر سے چلنے کے لئے تیار نہیں تھا۔اسی طرح کئی مسافرین کا کہنا کہ پرانے شہر کا کوئی بھی آٹو ڈرائیور میٹر کے حساب سے سواری کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔اور اگر کوئی میٹر سے چلنے کے لئے تیار ہو بھی جائے تو اس کے میٹر میں ہیرا پھیری رہتی ہے اور مسافرین کو اصل کرایہ سے زیادہ قیمت چکانی پڑتی ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ آٹو رکشاء کا کرایہ کم از کم 20 روپے کردیاگیا ہے ، اس کے باوجود آٹو ڈرائیورس ایک کیلو میٹر کے سفر کے لئے 40 – 50روپے طلب کررہے ہیں۔اور جو مسافر منہ مانگی قیمت دینے سے قاصر ہیں ان کو آٹو میں سواری کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔پرانے شہر کے کئی آٹو اسٹانڈس پر آٹو والے گھنٹوں آرام کرتے ہیں لیکن میٹر سے سواری کرنے کے لئے صاف انکار کردیتے ہیں۔جبکہ لوگ میٹر سے دس روپے زیادہ دینے کے لئے بھی تیار رہتے ہیں۔پرانے شہر کے لوگوں نے مقامی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرانے کے لئے حکومت سے موثر نمائندگی کریں تاکہ غریب عوام کا جو ہزاروں روپئے کا نقصان ہورہا ہے اُس سے راحت حاصل ہوسکے۔پرانے شہر کی عوام نے ٹرافک پولیس سے اپیل کی ہے کہ آٹو ڈرائیورس کا ایک اجلاس طلب کرے اور اُن کو سخت ہدایات جاری کرے کہ پرانے شہر میں میٹر سے سواری کریں ۔اور خلاف ورزی کرنے والے آٹو ڈرئیورس کو بھاری جرمانے کریں تاکہ مسافرین سے ہورہی ناانصافی کو دور کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT