Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سربراہی آب میں لاپرواہی

پرانے شہر کے کئی علاقوں میں سربراہی آب میں لاپرواہی

آلودہ پانی کے علاوہ پریشر میں کمی ، شہری پانی خرید کر پینے پر مجبور
حیدرآباد۔21ڈسمبر(سیاست نیوز) شہر میں پینے کے پانی کی آلودگی کا مسئلہ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اس مسئلہ میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور کئی علاقوں سے نل کے پانی میں آلودگی اور پریشر کی کمی کی شکایات وصول ہورہی ہیں لیکن ان شکایات کو دور کرنے کے سلسلہ میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے اقدامات نہ کئے جانے پر عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں کے عوام کا کہنا ہے کہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اس مسئلہ کے حل کیلئے متعدد نمائندگیاں کی جاتی ہیں اور کہا جاتاہے کہ رکن پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کی ہدایت پر مسائل حل کردیئے جائیں گے تاہم یہ مسائل جوں کے توں برقرار ہونے کے سبب عوام کو پینے کا پانی خریدنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ دونوں شہروں کے کئی علاقوں سے محکمہ آبرسانی کو آلودہ پانی کی شکایات وصول ہورہی ہیں ان شکایات کو حل کرنا اب محکمہ آبرسانی کے بس میں نہیں رہا۔ عہدیدارو ںکا کہنا ہے کہ جب تک حکومت کی جانب سے پائپ لائن کی تبدیلی اور نئی پائیپ لائن کی تنصیب کے سلسلہ میں رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی اس وقت تک ان مسائل کو مکمل حل کیا جانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ اب تک پرانے شہر کے علاوہ شہر کے کئی علاقوں میں آلودہ پانی کی شکایت پر جائزہ لینے کے بعد جس مقام سے آلودہ پانی کی آمیزش ہونے لگی ہے ان مقامات پر مرمت کی جاتی تھی لیکن اب یہ مسئلہ ایسے حل نہیں ہو رہا ہے بلکہ ان مسائل کے حل کیلئے یہ ضروری ہے کہ نئی پائپ لائن کی تنصیب عمل میں لائی جائے۔ پرانے شہر کے حلقہ جات اسمبلی چارمینار‘ بہادر پورہ‘ یاقوت پورہ اور چندرائن گٹہ کے علاوہ کاروان کے کئی محلہ جات میں پینے کے پانی کے مسائل پائے جاتے ہیں اور عوام کی جانب سے اس سلسلہ میں متعدد شکایات بھی کی جا چکی ہیں ۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کو شہر حیدرآباد میں موجود پانی کی سربراہی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے درکار فنڈز کے متعلق واقف کروا دیا گیا ہے کیونکہ اب موجودہ پائپ لائن کی مرمت کے ذریعہ صورتحال کو بہتر بنایاجانا ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر اسی طرح سلسلہ جاری رہا تو ایسی صورت میں مرمتی کام کچھ یوم تک ہی بہتر اور معیاری پانی کی سربراہی کا موجب بن سکتے ہیں اور دوبارہ آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایات منظر عام پر آنے لگیں گی اسی لئے پائپ لائن کی تبدیلی کو ناگزیر تصو رکیا جا رہاہے اور کہاجار ہاہے کہ حکومت کی منظوری کے بعد ہی یہ ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT