پرانے شہر کے 60 فیصد اسکولس خانگی عمارتوں میں قائم ، حکومت 15 کروڑ کرایہ باقی

24 عمارتوں میں 96 اسکولس ، 282 سرکاری اسکولس کا کوئی پتہ نہیں

24 عمارتوں میں 96 اسکولس ، 282 سرکاری اسکولس کا کوئی پتہ نہیں
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ہندوستان بھر میں تعلیم کو عام کرنے اور تمام بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوششیں بچہ مزدوری کی لعنت سے باہر نکال کر انہیں حق تعلیم سے استفادہ کا موقع فراہم کرنے کے وعدے صرف جمع خرچ تک محدود ہیں۔ حکومت کا کاغذی منصوبہ ایک جانب قابل ستائش ہے تو دوسری جانب متعلقہ عہدیداروں میں بیداری شعور اور ٹھوس اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے نتائج مایوس کن ہیں ۔ حیدرآباد میں گذشتہ چند برسوں کے دوران سینکڑوں سرکاری اسکولس بند ہوچکے ہیں اور جو اسکول بظاہر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ان کا حال یہ ہے کہ ایک عمارت میں 3 تا 5 اسکولس چلائے جارہے ہیں ۔

شہر کے 6 منڈلوں میں سرکاری اسکولوں کا سروے کیا گیا تو ایسے نتائج حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ شعبہ تعلیم اور ان اسکولوں کو بہتر بناتے ہوئے آنے والی نسلوں کو جہالت سے دور رکھنے کے اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں ۔ حیدرآباد کے 6 منڈلوں میں چارمینار منڈل I میں 16 اردو میڈیم اسکولس ، 4 انگلش اور 2 تلگو میڈیم ، چارمینار منڈل II میں 7 اردو میڈیم ، 2 تلگو اور 3 انگلش میڈیم اسکولس ، بہادر پورہ منڈل I میں 25 اردو میڈیم اسکولس ، 3 تلگو میڈیم ، ایک ہندی میڈیم اور 2 انگلش میڈیم ، بہادر پورہ منڈل II میں 42 اردو میڈیم اسکولس ، 12 تلگو اور ایک انگلش میڈیم اسکول ہے ۔ اسی طرح بنڈلہ گوڑہ منڈل I میں 21 اردو میڈیم ، 11 تلگو میڈیم اسکولس ہیں ۔ جب کہ اس منڈل میں کوئی انگلش میڈیم اسکول موجود نہیں ہے ۔ بنڈلہ گوڑہ منڈل II میں اردو میڈیم کے 22 اسکولس ، انگلش میڈیم کے 3 اور تلگو میڈیم کے 16 اسکولس ہیں ۔ مجموعی طور پر پرانے شہر کے ان 6 منڈلوں میں پرائمری اسکولس میں اردو میڈیم 143 ، تلگو میڈیم 46 ، انگلش میڈیم 13 اور ایک ہندی میڈیم اسکول ہے ۔ مذکورہ 6 منڈلوں میں جملہ اسکولس کی تعداد کا تذکرہ کریں تو یہاں ہائی اسکولس کی تعداد 177 ، پرائمری اسکولس کی تعداد 555 اور اپرپرائمری اسکولس کی جملہ تعداد 88 ہے ۔ یعنی پرانے شہر کے 6 منڈلوں میں سرکاری اسکولوں کی جملہ تعداد 815 ہے ۔ پرانے شہر میں سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی پر اظہار خیال کرتے ہوئے تلنگانہ

اردو ٹیچرس اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری محمد مسعود الدین احمد نے بتایا کہ گذشتہ 5 برسوں میں 282 اسکولس بند ہوگئے جن میں 240 پرائمری اور 42 ہائی اسکولس شامل ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں اسکولس بند ہونے کے باوجود کسی گوشے سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی ہے اور بڑی خاموشی کے ساتھ یہ کام انجام دیا گیا ہے ۔ جو اسکولس ان 6 منڈلوں میں کارکرد ہیں ۔ سرکاری اسکولس میں 60 فیصد اسکولس خانگی عمارتوں میں موجود ہیں اور حکومت ان مالکین مکان کو کرایہ کے 15 کروڑ روپئے باقی ہے اور اب کوئی سرکاری اسکول کو اپنا مکان کرایہ پر دینے کے لیے راضی نہیں ہے ۔ 24 ایسی عمارتیں ہیں جن میں 96 اسکولس موجود ہیں جب کہ ایک عمارت میں 3 تا 5 اسکولوں کی بیشتر مثالیں موجود ہیں ۔ پرانے شہر میں 1100 مسلم بستیاں ہیں جن میں 800 بستیوں میں کوئی اسکول نہیں ہیں ۔ سروے رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پرانے شہر میں 480 اسکولوں کی اشد ضرورت ہے جس کی تکمیل حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ پرانے شہر سے سرکاری اسکولوں کے خاتمہ کے پیچھے ایک گہری سازش نظر آتی ہے تاکہ تعلیم کو تجارت بنانے اور مالی فوائد کے حصول میں رکاوٹ بن رہے ان اسکولوں کا خاتمہ کیا جائے ۔ سرکاری اسکولوں کی بقاء کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔ ورنہ غریب عوام حق تعلیم کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT