Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / پرانے نوٹوں کی بینک ڈپازٹ پر ٹیکس استثنیٰ نہیں

پرانے نوٹوں کی بینک ڈپازٹ پر ٹیکس استثنیٰ نہیں

بھاری رقومات پر آمدنی کے ذرائع کا انکشاف لازمی ، معمولی ڈپازٹس آسان
نئی دہلی۔ 9 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیرفینانس ارون جیٹلی نے کہا ہیکہ 500 اور 1000 روپئے کی منسوخ شدہ کرنسی نوٹوں کو بینک کھاتوں میں ڈپازٹ کرنے پر ٹیکس سے کوئی استثنیٰ حاصل نہیں رہے گا اور اس قسم کی دولت کا ذرائع بنانے سے متعلق قانون لاگو رہے گا۔ رشوت، جعلی نوٹوں اور کالے دھن کے خلاف ملک میں اب تک کی گئی سب سے بڑی کارروائی کے طور پر حکومت نے گذشتہ روز 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کردیا تھا جس کے ایک دن بعد جیٹلی نے آج کہا کہ 500 اور 1000 روپئے کے پرانے منسوخ شدہ نوٹ بینکوں میں جمع کرتے ہوئے نئے کرنسی نوٹ یا 100 روپئے کے کرنسی نوٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لیکن یہ بات واضح رہیکہ یہ استثنیٰ کوئی اسکیم نہیں ہے۔ اس (بینک کھاتوں میں ڈپازٹ) پر ٹیکس سے کوئی استثنیٰ نہیں ہے۔ (رقومات کے ذرائع پر) ملک کا قانون لاگو ہوگا‘‘۔ جیٹلی نے کہا کہ ’’اگر یہ دولت جائز ہے، جو پہلے بینک سے نکالی گئی تھی یا جائز و قانونی طور پر کمائی گئی تھی اور محفوظ تھی تو اس کا انکشاف کیا جاچکا ہے تو اس میں کوئی پریشانی  نہیں ہے‘‘۔ وزیرفینانس نے دوردرشن سے کہا کہ ’’لیکن اگر یہ دولت غیرقانونی ہے تو اس کے ذریعہ کا انکشاف کرنا ہوگا اور اگر یہ رشوت یا جرائم سے کمائی گئی آمدنی ہے تو یہ پریشانی کی بات ہوگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گراہست خواتین اور کسانوں کو اپنی جائز بچتوں کو بینک کھاتوں میں جمع کرتے ہوئے پریشانی نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’25,000، 30,000 یا 50,000 جیسے رقومات جو روزمرہ کے اخراجات کیلئے گھروں میں پڑے رہتے ہیں،

انہیں عوام اپنے کھاتوں میں جمع کرسکتے ہیں۔ روزمرہ کے گھریلو مصارف کیلئے عام طور پر جو رقومات رکھی جاتی ہیں، اس پر پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ رقومات بینک میں جمع کی جاسکتی ہیں‘‘۔ وزیرفینانس نے کہا کہ پہلے ایک یا دو ہفتوں تک قدیم نوٹوں کے بدلے نئے نوٹوں کی تبدیلی قدرے کم رہے گی لیکن دو تین ہفتوں بعد اس میں اضافہ ہوجائے گا کیونکہ مزید نئے کرنسی نوٹ مارکٹ میں دستیاب رہیں گے۔ اس اقدام سے معاملتوں کو ڈیجیٹل بنانے میں مدد ملے گی۔ جیٹلی نے کہا کہ عوام اب اپنی آمدنی کے انکشاف کے ساتھ ٹیکسیس ادا کرسکتے ہیں۔ ’’ہندوستان بہت جلد ایک مزید پابند ٹیکس معاشرہ بن جائے گا‘‘۔ جیٹلی نے کہا کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد ایسے لوگ جو کالادھن، جرائم یا رشوت کے بل بوتے پر دولت بٹور چکے تھے، مشکل میں پھنسیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کا یہ فیصلہ دراصل دیانتداری پر انعام اور بددیانتی پر سزاء کے مترادف ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر ہیکہ اس اقدام سے عوام کو دو دن یا دو ہفتوں تک مشکل ضرور ہوگی لیکن اس مشکل سے بچنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوسکتا کہ ہندوستان ہمیشہ کالے دھن، رشوت اور متوازی معیشت کی لعنتوں میں گہرا رہے‘‘۔ وزیرفینانس نے کہا کہ یہ فیصلہ مزید معاملتوں کو ٹیکس کے احاطہ میں لائے گا جس سے راست اور بالواسطہ دونوں ہی محاسن میں اضافہ ہوگا۔ نیز متوازی معیشت میں کمی سے رسمی معیشت میں اضافہ ہوگا۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ اس فیصلہ کے سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ جیٹلی نے کہا کہ چند سیاسی جماعتوںنے چیک کے ذریعہ فنڈنگ کا آغاز کیا ہے اگر یہ اقدام اس نظام کو صاف کرتا ہے تو یقینا ایک عظیم قدم ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT