Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / پراچنڈا دوسری مرتبہ نیپال کے وزیراعظم منتخب

پراچنڈا دوسری مرتبہ نیپال کے وزیراعظم منتخب

قومی اتفاق رائے کے جذبہ سے کام کرنے کا وعدہ، پارلیمنٹ میں اکثریت
کھٹمنڈو ۔ 3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نیپال میں ماؤنواز تنظیم کے سربراہ پراچنڈا کو ارکان پارلیمنٹ نے آج وزیراعظم منتخب کرلیا۔ وہ دوسری مرتبہ اس عہدہ پر فائز ہورہے ہیں۔ انہوں نے نئے دستور کے خلاف کئی افراد کی ہلاکتوں کا سبب بننے والے احتجاج کے بعد منقسم مختلف طبقات کو دوبارہ متحد کرتے ہوئے ملک کو معاشی ترقی کے راستہ پر گامزن کرنے کا وعدہ کیا۔ وزیراعظم پشپا کمار داہل جو اپنی عرفیت پراچنڈا (خوفناک) کے نام سے زیادہ شہرت رکھتے ہیں۔ ملک کے اس اعلیٰ عہدہ کیلئے واحد دعویدار تھے۔ جن کا رائے دہی کے انتخاب عمل میں آیا کیونکہ دستور کے تحت وزیراعظم کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے ہی منتخب کیا جاتا ہے۔ 61 سالہ پراچنڈا کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (سی پی ایف) ماؤیسٹ سنٹر کے سربراہ ہیں اور اپنے مخالف ہند موقف کیلئے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ 595 رکنی ایوان میں انکی تائید میں 363 اور مخالفت میں 210 ووٹ ڈالے گئے۔ 22 ارکان نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا۔ انہیں ایوان کی سب سے بڑی جماعت نیپالی کانگریس کے علاوہ متحدہ جمہوری مدھیسی فرنٹ اور وفاقی اتحاد کے علاوہ چند چھوٹی جماعتوں کی تائید بھی حاصل ہوئی۔ پراچنڈا نے اپنے انتخاب سے قبل وعدہ کیا کہ وہ قومی اتفاق رائے کے جذبہ کے ساتھ ملک کی معاشی ترقی کی سمت قیادت کریں گے۔ پراچنڈا نیپال کے 39 ویں وزیراعظم ہوں گے۔ وہ 2008 میں بھی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے لیکن محض مختصر مدت اس عہدہ پر فائز رہنے کے بعد 2009ء میں فوج سے اختلافات کے سبب انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

 

پراچنڈا کو مودی کی مبارکباد، مدد کا
تیقن ،دورہ ہند کی دعوت
نئی دہلی ۔ 3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج نیپال کے نومنتخب وزیراعظم پشپا کمل داہل (پراچنڈا) سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے مبارکباد دی اور کہا ہندوستان کی طرف سے بھرپور مدد کا یقین دلایا۔ وزیراعظم مودی نے ٹیلیفونی بات چیت کے دوران پراچنڈا کو دورہ ہند کی دعوت بھی دی۔ بعدازاں مودی نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ’’منتخب وزیراعظم پشپا کمال داہل ’پراچنڈا‘ جی سے بات کی اور انہیں مبارکباد دیا ہوں۔ انہیں ہماری بھرپور تائید و مدد کا یقین دلاتے ہوئے دورہ ہند کی دعوت بھی دی گئی ہے‘‘۔ پراچنڈا کے انتخاب پر ہندوستان کی خوشی کی ایک وجہ بھی ہے کیونکہ اس ہمالیائی ملک سے سبکدوش وزیراعظم کے پی شرما اولی کے دور میں ہندوستان کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔ پراچنڈا بھی اگرچہ مخالفین موقف رکھتے ہیں لیکن اب انہوں نے اپنا موقف نرم کر لیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT