Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / پرتشدد تخریب کار گروپس ‘حق آزادی کی خلاف ورزیوں میں مصروف

پرتشدد تخریب کار گروپس ‘حق آزادی کی خلاف ورزیوں میں مصروف

مذہب خانگی مسئلہ ‘ کوئی مداخلت نہیںکرسکتا۔ عدم رواداری کے واقعات ملک پر حملہ ۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا خطاب
نئی دہلی، 6 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عدم رواداری کے خلاف ملک میں جاری گرماگرم مباحث کے درمیان سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے حق آزادیٔ فکر کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آج کچھ پرتشدد تخریب کار گروپ سوچ و فکر کی آزادی کے خلاف ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس خیال سے اتفاق کیا کہ ان گروپس کی سرگرمیاں قوم پر حملہ کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کثرت و سکیولر ازم کا احترام نہیں کیا گیا اور اتحاد نہ رہا تو جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگا ۔ ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ قوم کو سوچ و فکر ‘ عقیدہ ‘ اظہار خیال اور جذبات کے اظہار کے حق کی حالیہ سنگین خلاف ورزیوں پر فکر و تشویش لاحق ہے ۔ یہ کام کچھ پرتشدد تخریب کار گروپس کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے پنڈت جواہر لال نہرو کے 125 سالہ یوم پیدائش کے موقع پر منعقدہ کانفرنس سے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مختلف سوچ و فکر رکھنے والوں پر محض اس لئے حملہ یا قتل کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا کہ ان کے خیال سے ہم اتفاق نہیں کرتے یا پھر وہ لوگ کیا کھاتے ہیں ‘ ان کی ذات پات کیا ہے۔ اختلاف رائے کے حق کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ دو روزہ کانفرنس ایسے وقت منعقد ہورہی ہے جب دادری واقعہ ‘ بیف تنازعہ اور دوسرے واقعات کی وجہ سے پہلے وزیر اعظم ہند کی روایات پر حملے ہورہے ہیں۔ ان واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک کے بے شمار ادیبوں ‘ فنکاروں اور فلم سازوں نے اپنے قومی ایوارڈز تک واپس کردیئے ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ فکر صحیح رکھنے والے افراد نے قوم پر جاری حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اتحاد اور کثرت میں وحدت ‘ سکیولر ازم وغیرہ کا احترام جمہوریت کی بقا کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔ امن نہ صرف انسانی وجود اوربقا کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ معاشی اور دانشورانہ ترقی و نشو و نما کیلئے بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ ہندوستان میں معاشی اصلاحات کے معمار سمجھے جانے والے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ تنازعات کی وجہ سے سرمایہ بھی ختم ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے اس ریمارک کے ذریعہ نریندر مودی حکومت کو پیام دیا جو ’میڈ اِن انڈیا‘ نعرہ کے ساتھ زیادہ سرمایہ حاصل کرنے کی جدوجہد کا ادعا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے یا اظہار خیال کی آزادی کو کچلنے سے معاشی ترقی کو سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ جب تک یہ آزادی نہیں ملتی تب تک آزاد مارکٹ کا وجود یقینی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی بنیادی قدر ہے جو ہندوستان کے نہرو نظریہ میں اہمیت کی حامل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT