Wednesday , December 12 2018

پرسنل لونس بنکس کے لیے اگلا سردرد ؟

حیدرآباد ۔ 4 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : کارپوریٹ شعبہ میں سست روی کے بعد بنکوں کی توجہ اب شخصی اور انفرادی گاہکوں کی سمت ہوچکی ہے اور خاص کر پرسنل لون اب ان کی پہلی ترجیح بن چکی ہے اور اس کی فروخت ان کے لیے درد سر بن چکی ہے ۔ آر بی آئی کے تازہ ترین تفصیلات کے بموجب گذشتہ ایک برس کے دوران بینک کے تمام زمروں میں پرسنل لون کی رفتار کافی بڑھی ہے ۔ آر بی آئی کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ پرسنل لون جس کو بنک کے شعبہ میں جوکھم بھری تجارت تصور کیا جاتا ہے اس میں 17 فروری 2017 تا 18 فروری 2018 کے دوران 20.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ یہ سب سیکٹر میں سب سے زیادہ اضافہ ہے جب کہ کریڈٹ میں مذکورہ وقفہ کے دوران صرف 8.8 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ انڈسٹریل کریڈٹ میں ایک فیصد اضافہ ، زراعت اور اس سے مربوط شعبوں میں 8.4 فیصد اضافہ دیگر شعبہ میں 14.2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ پرسنل لون کے ذیلی زمروں میں بھی کریڈٹ کارڈ کی کاموں میں 33.4 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ جس کے بعد دوسرے نمبر پر ہاوزنگ لون ہے جس میں 16.5 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ جن لونس میں گراوٹ درج کی گئی ہے ان میں ایجوکیشن لون میں 6.5 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور شاید یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ان لون میں گراوٹ درج کی گئی ہے ۔ 16 فروری 2018 تک پرسنل لون کے بقایا جات 18.54 لاکھ کروڑ ہوچکے ہیں جب کہ سرویس شعبہ میں یہ بقایا جات 18.4 لاکھ کروڑ ہیں ۔ پرسنل لون کے بقایا جات اور دیگر شعبہ میں فراہم کردہ لون کے بقایا جات کی وصولی اب بنکس کے لیے درد سر بن رہا ہے ۔ دیگر شعبوں انفراسٹرکچر ، سمنٹ اور سمنٹ سے بننے والی اشیاء ، پٹرولیم ، کوئلہ کے پراڈکٹس ، نیوکلیر توانائی میں جمود ہے یا پھر ان شعبوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT