Tuesday , August 14 2018
Home / Top Stories / پرنب مکرجی کے بعد رتن ٹاٹا آر ایس ایس کے مہمان

پرنب مکرجی کے بعد رتن ٹاٹا آر ایس ایس کے مہمان

ناراض سیکولر شخصیتوں پرتوجہ، مسلم جماعتوں کے ذریعہ60 نشستوں پر ووٹ کی تقسیم کا منصوبہ

حیدرآباد/16جولائی( سیاست نیوز) آر ایس ایس نے 2019 انتخابات میں بی جے پی کی دوبارہ کامیابی کیلئے سیکولر نظریات کی حامل ملک کی نامور شخصیتوں کو اپنا حامی اور ہمنوا بنانے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے جس کا مقصد سیکولر ووٹس کو تقسیم کرکے ہندو متحد ووٹوں کے ذریعہ بی جے پی کی اقتدار میں واپسی ہے۔ بی جے پی کو 2019 میں دوبارہ برسراقتدار لانے آر ایس ایس کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور اُس نے پہلے ہی ملک گیر سطح پر مہم کا آغاز کردیا ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں سماج کی اہم شخصیتوں کو بی جے پی کے قریب لانے ملاقات کا خصوصی پروگرام ’ سمپرک ‘ شروع کیا گیا جس میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین حصہ لے رہے ہیں۔ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کے حال ہی میں آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کی تقریب میں شرکت اور موہن بھاگوت کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے بعد سے آر ایس ایس کیڈر کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ انہوں نے اگلا نشانہ ملک کے نامور صنعت کار رتن ٹاٹا کو بنایا ہے جو آئندہ ماہ ممبئی میں بھاگوت کے ساتھ پروگرام میں حصہ لیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آر ایس ایس ایسی سیکولر شخصیتوں کو اپنے قریب کرنے میں مصروف ہے جو کسی وجہ سے کانگریس سے ناراض ہیں ۔ پرنب مکرجی ہوں یا رتن ٹاٹا ان دونوں کو کانگریس نے مختلف مواقع پر مایوس کیا۔ رتن ٹاٹا اور نارائن مورتی کا نام 2007 میں صدر جمہوریہ کے عہدہ کیلئے سیاسی حلقوں میں زیر گشت تھا لیکن کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت نے پرتیبھا پاٹل کو اس عہدہ پر فائز کردیا۔ اسی طرح پرنب مکرجی کی نظریں وزیر اعظم کے عہدہ پر تھیں لیکن کانگریس نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو مسلسل دو میعادوں کیلئے وزیر اعظم کے عہدہ پر برقرار رکھا۔ اگرچہ انہیں 2012 میں صدر جمہوریہ کے عہدہ پر فائز کیا گیا لیکن وہ اس عہدہ سے مطمئن نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی لاکھ مخالفت کے باوجود پرنب مکرجی نے آر ایس ایس کے دعوت نامہ کو قبول کرکے ناگپور میں آر ایس ایس ورکرس ٹریننگ کے اختتامی اجلاس سے 7 جون کو خطاب کیا۔ کانگریس و دیگر قائدین نے آر ایس ایس کا دعوت نامہ قبول کرنے پر پرنب مکرجی کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن انہوں نے پرواہ نہیں کی۔ آخر کار کانگریس کو اپنے موقف میں نرمی لا کر راہول گاندھی کی افطار پارٹی میں پرنب مکرجی کو مدعو کرنا پڑا۔ پرنب مکرجی نے اگرچہ آر ایس ایس کی پالیسی یا اس کے پروگرامس کی کھل کر تائید نہیں کی لیکن ان کے دعوت نامہ کو قبول کرنا اور موہن بھاگوت کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے علاوہ آر ایس ایس کے بانی ہیڈگیوار کو مادر وطن کی عظیم شخصیت کی حیثیت سے خراج ادا کرنے سے سیکولر طاقتیں کمزور ہوئیں اور سنگھ پریوار کو فائدہ ہوا۔ عوام میں تاثر پیدا ہوگیا کہ پرنب مکرجی کی نظر میں آر ایس ایس شجر ممنوعہ نہیں ہے اور اس کے پروگراموں میں شرکت کی جاسکتی ہے۔ ممتاز صنعت کار رتن ٹاٹا 24 اگسٹ کو ممبئی میں آر ایس ایس سے قربت رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم نانا پالکر اسمرتی سمیتی کے پروگرام میں بھاگوت کے ساتھ شرکت کریں گے۔ رتن ٹاٹا ڈسمبر 2016 میں موہن بھاگوت سے ناگپور میں ملاقات کرچکے ہیں۔ ٹاٹا ٹرسٹ کی جانب سے ناگپور میں مختلف فلاحی پراجکٹس پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ناگپور میں کینسر ہاسپٹل میں خصوصی سنٹر کے قیام اور 150 سالہ قدیم مینٹل ہاسپٹل کو بہتر بنانے کا پراجکٹ شروع کیا ہے۔ رتن ٹاٹا نے ابھی کسی بھی سیاسی جماعت سے اپنی وابستگی کا اظہار نہیں کیا لیکن آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کے بعد یقینی طور پر بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکولر ووٹس تقسیم کرکے بی جے پی کم سے کم 50 تا 60 ایسی نشستوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جہاں اقلیتوں کے ووٹ قابل لحاظ اور فیصلہ کن موقف میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حیدرآباد کرناٹک کے علاقہ میں جہاں اقلیتی رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ہے بی جے پی بعض مسلم جماعتوں کے ذریعہ ووٹ تقسیم کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی۔سابق میں اُتر پردیش، بہار، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں بعض نام نہاد مسلم جماعتوں کو مسلم ووٹس کی تقسیم کیلئے استعمال کیا گیا۔ کرناٹک میں مسلمانوں کے اتحاد کے سبب یہ سازش کامیاب نہ ہوسکی حالانکہ بعض غیر معروف مسلم جماعتوں کو بھاری سرمایہ کاری کے ذریعہ میدان میں اُتارا گیا تھا۔ اُتر پردیش میں بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد سے خوفزدہ بی جے پی نے کرناٹک، مہاراشٹرا، آندھرا پردیش اور تلنگانہ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہاتھوں میں کھلونہ بننے والی نام نہاد مسلم جماعتوں سے مسلمانوں کو چوکس رہنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT