Wednesday , December 19 2018

پرنب مکرجی 2019 ء میں وزیراعظم ہوں گے

سیاسی بازی گری کا مظاہرہ
آر ایس ایس کاخفیہ منصوبہ

٭ میرے والد سیاسی مہرہ نہیں
٭ سرگرم سیاست میں دوبارہ
حصہ نہیں لیں گے
شرمستا مکرجی

٭ بی جے پی کے زوال کا خوف
٭ پرنب مکرجی کا سہارا لینے
آر ایس ایس کوشاں
شیوسینا

ممبئی ۔ /10 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی حلیف پارٹی شیوسینا نے شبہ ظاہر کیا کہ پرنب مکرجی کو راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ کی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے دعوت دینے کا مقصد لوک سبھا انتخابات 2019 ء میں پرنب مکرجی کو وزیراعظم کی حیثیت سے پیش کرنا ہے ۔ بی جے پی آئندہ عام انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کرنے پر آر ایس ایس اپنا خفیہ منصوبہ روبعمل لائے گی اور سابق صدرجمہوریہ کو وزیراعظم کے امیدوار کی حیثیت سے پیش کرے گی ۔ شیوسینا کی اس تھیوری کو پرنب مکرجی کی دختر نے مسترد کردیا ہے ۔ شیوسینا کے لیڈر سنجے راوت نے کہا تھا کہ ہمارا احساس ہے کہ آر ایس ایس ایسی صورتحال کیلئے خود کو تیار کررہی ہے جہاں وہ پرنب مکرجی کا استعمال کرتے ہوئے انہیں وزیراعظم بناکر خود کو سیکولر امیج کے ساتھ ظاہر کرے گی ۔ اگر بی جے پی انتخابات میں مطلوب نشستیں حاصل کرنے میں ناکام ہوئی تو پرنب مکرجی آر ایس ایس کا مہرہ بن جائیں گے ۔ امکان غالب ہے کہ بی جے پی آنے والے انتخابات میں بری طرح ناکام ہوگی اور اس کو 110 نشستوں سے زیادہ حاصل نہیں ہوں گے ۔ شیوسینا کے بیان پر پرنب مکرجی کی دختر شرمستا مکرجی نے ٹوئٹ کیا اور کہا کہ صدرجمہوریہ کی حیثیت سے سبکدوشی کے بعد مسٹر راوت دوبارہ سرگرم سیاست میں شامل ہوں گے، میرے والد نہیں ۔ شیوسینا جس نے مہاراشٹرا اور مرکز میں اپنے اتحاد کے باوجود کئی مسائل پر بی جے پی سے اختلاف رائے رکھتی ہے ۔ اس مرتبہ شیوسینا نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے پرنب مکرجی کا سہارا لیا ہے ۔ اور شبہ ظاہر کیا ہے کہ آر ایس ایس اپنے ہندوتوا امیج سے باہر نکل کر خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرے گی ۔ سابق صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ آر ایس ایس اچھوت تنظیم نہیں ہے ۔ اسے سیکولر بنانے کی کوششیں ہوچکی ہیں ۔ شرمستامکرجی نے آر ایس ایس کی جانب سے ان کے والد کو مدعو کرنے پر ہونے والی قیاس آرائیوں کے درمیان کہا تھا کہ وہ بی جے پی کے ہاتھوں کا کھلونا بن جائیں گے ۔ ان کے ہاتھوں میں تباہ کن سیاسی ہتھیار تھمادیں گے ۔ سمجھا جارہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی کارکردگی سے آر ایس ایس ناخوش ہے ۔ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے متبادل حربہ اختیار کیا جارہا ہے ۔ سابق صدرجمہوریہ نے آر ایس ایس تقریب میں ہندوتوا تنظیم کے سامنے سچائی کا آئنہ دکھاتے ہوئے ہندوستان کی رواداری اور کثرت میں وحدت کا تذکرہ کیا تھا اور نفرت نہ پھیلانے کا مشورہ بھی دیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT