Sunday , June 24 2018
Home / شیشہ و تیشہ / پرنس حیدرآبادی

پرنس حیدرآبادی

غزل (طنزیہ کلام) لینا دینا کچھ بھی نکو ، لوگاں اچھے رہنا بھئی بن مانگے جو گھر بھردیں ، لوگاں ایسے رہنا بھئی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی والے گھر کو جانا بھئی بیٹے بارہ تیرہ رہنا، بیٹی ایکیچ رہنا بھئی اِن بھی اپنا اُن بھی اپنا ، سب کے سب ہیں چندی چور ہونٹ بھی اپنے دانت بھی اپنے ، کسکو کیا ہے کہنا بھئی

غزل (طنزیہ کلام)
لینا دینا کچھ بھی نکو ، لوگاں اچھے رہنا بھئی
بن مانگے جو گھر بھردیں ، لوگاں ایسے رہنا بھئی
اکلوتی اور لاڈلی بیٹی والے گھر کو جانا بھئی
بیٹے بارہ تیرہ رہنا، بیٹی ایکیچ رہنا بھئی
اِن بھی اپنا اُن بھی اپنا ، سب کے سب ہیں چندی چور
ہونٹ بھی اپنے دانت بھی اپنے ، کسکو کیا ہے کہنا بھئی
جب بھی آجاتی ہے دعوت، صبح سے بھوکا رہتا ہے
کیا بدلے گی فطرت اس کی ، چپے چاٹو ہے نا بھئی
شرافت میں مارے جاتی ، نہلے پہ دہلہ رہنا بھئی
ساس اگر ہے للیتا پوار، بہو بھی بندو رہنا بھئی
نوکری اچھی تنخواہ اچھی ، فطرت اس کی کیا بولوں
سالے دیئے سو فون سے سبکو، دیتا ہے مس کالاں بھئی
جو جو جب جب ہوتا ہے سو سو تب تب ہوتا ہے
حادثوں کے خوف سے پیارو ، مر مر کے کیا جینا بھئی
حق گوئی و بے باکی ہے اپنا وطیرہ کیا کرنا
اچھا لگے تو خوش ہوجانا، بُرا لگے تو سہنا بھئی
………………………
میرا بچہ …!
٭ ایک گدھا ایک گھر کی دیوار سے کان لگائے کھڑا تھا ۔ اُدھر سے گائے کا گذر ہوا تو گائے نے پوچھا : ’’گدھے بھائی ! یہاں کیا کررہے ہو ؟ ‘‘
گدھے نے جواب دیا : ’’دو انسان اندر لڑرہے ہیں اور ایک دوسرے کو گدھے کا بچہ کہہ رہے ہیں ۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں سے میرا بچہ کون ہے ‘‘۔
سید شمس الدین مغربی ۔ حیدرآباد
………………………
شوہر کی حالت …!
٭ جب وہ پہلے پہل ملی تو چُپ چاپ تھی ، اور میں تھا کہ بولے جاتا تھا ۔
وہ دوبارہ ملی تو میں چُپ تھا اور اسے بولنے کا چسکا تھا ۔
ہوئی شادی تو دونوں چُپ چُپ تھے ، بولنے والا صرف قاضی تھا ۔
پھر یہ عالم کہ دونوں بولتے تھے اور سارا محلہ سُنتا تھا ۔
رضیہ حُسین جاگیردار ، بگدل ۔بیدر
………………………
کیا مشاغل ہیں…!
٭ اخباری نمائندے نے انٹرویو کے دوران ایک کروڑپتی سے پوچھا کہ فارغ وقت میں آپ کے کیا مشاغل ہیں ؟
کروڑپتی نے جواب دیا : پینٹنگ
اخباری نمائندے نے حیرت سے کہا … : اچھا ! آپ کے شاہکار کون سے ہیں ؟
کروڑپتی نے جواب دیا : میرا مطلب ہے فارغ وقت میں میں پینٹنگ کرتا ہوں ، اپنے بنگلے کے سارے دروازے ، کھڑکیاں اور گیٹ میں نے ہی تو پینٹ کئے ہیں…!!
محمد الیاس حامدؔ ۔ عثمان باغ ، بنڈل گوڑہ
………………………
نجی معاملہ …!
٭ ایک شوہر دیوانہ وار ہوٹل منتظمین کو اپنے کمرے سے کال کرتا ہے اور مینجر کو کہتا ہے ، فوری آؤ میری بیوی کے ساتھ بحث ہورہی ہے اور وہ یہ دھمکی دے رہی ہے کہ وہ تمہاری ہوٹل کی کھڑی سے چھلانگ لگادے گی !
مینجر نے جواب دیا : جناب یہ آپ کا نجی معاملہ ہے …!
وہ شخص : مجھے پتہ ہے یہ میرا نجی معاملہ ہے لیکن کھڑکی نہیں کھل رہی ہے یہ مینٹیننس کا معاملہ ہے …!!
سلطان قمرالدین خسرو ۔مہدی پٹنم
………………………
نہیں !
٭ ایک عورت نے اپنی ایک نئی سہیلی کو بتایا کہ میری شادی بیس سال پہلے ہوئی تھی ، پہلے ہی دن میں نے اُن سے کہہ دیا تھا کہ سگریٹ اور شراب پینا انھیں فوراً بند کرنا ہوگا!‘‘۔
سہیلی نے یہ سن کر پوچھا ! ’’تو کیا واقعی اس کے بعد انھوں نے سگریٹ اور شراب کو ہاتھ نہیں لگایا ؟ ‘‘
عورت نے جواب دیا : ’’مجھے پتہ نہیں پچھلے بیس برس سے میری اُن سے ملاقات نہیں ہوئی !!‘‘۔
ایم اے وحید رومانی ۔ نظام آباد
………………………
ستم ظریفی…!
٭ ریسٹورانٹ میں ویٹر کے آنے کے پر ایک صاحب نے اپنی محبوبہ سے پوچھا … ’’کیا آرڈر دوں …؟‘‘
’’ میرے لئے کافی اور اپنے لئے ایمبولینس ! محبوبہ نے اطمینان سے مسکراتے ہوئے جواب دیا : دروازے کی طرف دیکھو ! میرا شوہر آرہا ہے ‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
………………………

TOPPOPULARRECENT