Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر جے شنکر کا آج یوم پیدائش

پروفیسر جے شنکر کا آج یوم پیدائش

تلنگانہ کے تمام اضلاع میں خصوصی پروگرام ، اردو کے قاری کو خراج

تلنگانہ کے تمام اضلاع میں خصوصی پروگرام ، اردو کے قاری کو خراج
حیدرآباد۔/5اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ تحریک کے نظریہ ساز پروفیسر جئے شنکر کی یوم پیدائش کا تقاریب تلنگانہ حکومت اور برسر اقتدار ٹی آر ایس نے بڑے پیمانے پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروفیسر جئے شنکر کی80 ویں یوم پیدائش کے موقع پر کل 6اگسٹ کو حیدرآباد اور تلنگانہ کے تمام اضلاع میں خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے اعلان کے مطابق زرعی یونیورسٹی کو پروفیسر جئے شنکر کے نام سے معنون کرتے ہوئے کل راجندر نگر میں واقع زرعی یونیورسٹی میں ایک پروگرام منعقد کیا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس کے ہیڈ کوارٹر تلنگانہ بھون میں بھی کل پروفیسر جئے شنکر جینتی تقاریب منعقد ہوں گی جس میں پروفیسر جئے شنکر کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کئے جائیں گے۔ تلنگانہ حکومت نے شہر کے کسی مرکزی مقام پر پروفیسر جئے شنکر کا مجسمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ میں قائم ہونے والے نئے اضلاع میں سے ایک ضلع کا نام پروفیسر جئے شنکر کے نام سے موسوم کیا جائے گا۔ ٹی آر ایس کے علاوہ تلنگانہ تنظیموں کی جانب سے بھی پروفیسر جئے شنکر کی جینتی تقاریب منائی جائیں گی۔ تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی جئے شنکر جینتی کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے۔ پروفیسر جئے شنکر کا تعلق ضلع ورنگل سے ہے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی تلنگانہ تحریک کیلئے وقف کردی تھی۔ کے چندر شیکھر راؤ نے تلگودیشم سے استعفی کے بعد جب علحدہ تلنگانہ کے نام پر نئی سیاسی جماعت کے قیام کا فیصلہ کیا اس وقت پروفیسر جئے شنکر نے کے سی آر کی رہنمائی کی۔ ٹی آر ایس کے قیام میں پروفیسر جئے شنکر کا اہم رول رہا۔ اگرچہ انہوں نے پارٹی میں کوئی عہدہ حاصل نہیں کیا لیکن علحدہ تلنگانہ کیلئے ٹی آر ایس کی جدوجہد میں وہ ہمیشہ ایک صلاح کار کی حیثیت سے شامل رہے۔ چندر شیکھر راؤ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل پروفیسر جئے شنکر سے مشاورت کرتے تھے۔ چندر شیکھر راؤ اور تحریک سے وابستہ قائدین انہیں جئے شنکر سر کے نام سے پکارتے تھے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر منعقدہ پہلے کُل جماعتی اجلاس میں چندر شیکھر راؤ کے ساتھ پروفیسر جئے شنکر نے شرکت کی تھی۔ پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ کی تشکیل کے بارے میں ہمیشہ ہی پُرامید رہے لیکن تلنگانہ ریاست کی تشکیل سے عین قبل وہ علالت کے باعث چل بسے۔ پروفیسر جئے شنکر کا دیہانت حقیقی معنوں میں کے سی آر اور ٹی آر ایس کیلئے کسی نقصان سے کم نہیں۔ جب کبھی جئے شنکر تلنگانہ کے جلسوں میں شرکت کرتے، وہ یقین کے ساتھ کہتے تھے کہ بہت جلد تلنگانہ ریاست حقیقت میں تبدیل ہوگی۔ اپنی شدید علالت کے باوجود انہوں نے نئی دہلی اور حیدرآباد کے بعض احتجاجی پروگراموں میں حصہ لیا تھا۔ جس وقت مرکزی حکومت تلنگانہ کے قیام سے متعلق سرگرم مشاورت کررہی تھی اس وقت پروفیسر جئے شنکر نے نئی ریاست کے قیام کے سلسلہ میں کے سی آر کے ذریعہ مرکز کو کئی تجاویز پیش کیں۔ وہ ریاست کی تقسیم کے علاوہ برقی، پانی اور قدرتی وسائل میں بھی تلنگانہ کی مناسب حصہ داری کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ پروفیسر جئے شنکر اُردو زبان سے اچھی طرح واقف تھے اور وہ باآسانی اُردو لکھ اور پڑھ سکتے تھے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولرازم کے فروغ میں پروفیسر جئے شنکر نے ہمیشہ خود کو آگے رکھا۔ تلنگانہ تحریک سے اقلیتوں کو وابستہ کرنے میں بھی پروفیسر جئے شنکر نے اہم رول ادا کیا اور انہوں نے اقلیتوں کو تیقن دیا کہ نئی ریاست کے قیام کے بعد ہر شعبہ میں ان کے ساتھ انصاف ہوگا اور تلنگانہ ریاست اقلیتوں کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ حکومت نے تمام اضلاع کے ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسرس کو ہدایت دی ہے کہ کل 6 اگست کو تمام اسکولوں میں پروفیسر جے شنکر کی یوم پیدائش تقاریب کا اہتمام کریں ۔ تمام ہیڈ ماسٹرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکولوں میں پروفیسر جے شنکر کے پورٹریٹ پر پھول نچھاور کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT