پروفیسر ریحانہ سلطانہ کا انتقال

حیدرآباد ۔ 10 ۔ دسمبر : ( پریس نوٹ ) : مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، اسکول آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسس کی ڈین و صدر شعبۂ تعلیمات نسواں پروفیسر ریحانہ سلطانہ کا آج صبح علالت کے بعد 58 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ مرحومہ 1998ء کے ابتدائی دور سے یونیورسٹی سے وابستہ تھیں اور مختلف حیثیتوں بشمول ڈائرکٹر مرکز برائے مطالعات نسواں، صدر شعبۂ تعلیمات نسواں، پروگرام فیلڈ آفیسر نمایاں خدمات انجام دیتی رہیں۔ انہی کی کاوشوں سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے پہلے ریگولر کورس ڈی ایڈ کا آغاز ہوا۔ انہوں نے شعبۂ تعلیم و تربیت کے قیام اور آغاز میں بھی اہم رول ادا کیا۔ وہ ایک ممتاز سماجی جہد کار بھی تھیں۔ شعبۂ تعلیم اور سماجی بہبود کے لیے نمایاں خدمات کی انجام دہی پر انہیں قومی اور ریاستی سطح کے کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ان میں قابل ذکر دوردرشن سپتا گیری ایوارڈ، نندی ایوارڈ،گوڈفرے بریوری ایوارڈ ، بیسٹ ٹیچر ایوارڈ، بیسٹ ویمن جرنلسٹ ایوارڈ ، خاتون جنت ایوارڈ، شانتی دوتا ایوارڈ قابل ذکرہیں ۔ نماز جنازہ مسجد وزیر النساء، نزد درگاہ حضرت کملی والے شاہؒ، دبیر پورہ، اور تدفین قبرستان روبرو بی بی کا الاوہ میں عمل میں آئی۔ پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر اور پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار نے پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا۔ ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد ، پرو وائس چانسلر نے اپنے ایک پیام میں مرحومہ کے انتقال پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مثالی رفیق کار قرار دیا۔ انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاء کی۔ یونیورسٹی اسٹاف ارکان نے بھی پسماندگان کو پرسہ دیا اور نماز جنازہ میں شرکت کی۔ مزید تفصیلات فون نمبر 93910 33407سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پروفیسر ریحانہ سلطانہ کی فاتحہ سیوم جمعرات 11؍ دسمبر کو بعد نماز عصر مسجد وزیر النساء، نزد درگاہ حضرت کملی والے شاہؒ، دبیر پورہ میں مقرر ہے۔

اظہار تعزیت
٭ پروفیسر ریحانہ سلطانہ کے سانحہ ارتحال پر جناب عبدالجبار صدیقی جنرل سکریٹری ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن، جناب محمد افضل کنوینر (اے پی سی آر)، اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس نے اظہار تعزیت کیا اور اُنھوں نے کہاکہ مرحومہ کو سماجی و انسانی حقوق جہدکار کی حیثیت سے ان کی کاوشوں کو عوام طویل عرصہ تک یاد رکھیں گے۔
٭ ناظم جامعۃ المؤمنات مفتی محمد مستان علی قادری، ڈاکٹر رضوانہ زرین پرنسپل جامعۃ المؤمنات، حافظ محمد صابر پاشاہ قادری اور جامعۃ المؤمنات کے مفتیات ناظمہ عزیز، تہمینہ تحسین، نسرین افتخار، نازیہ عزیز، آمنہ بتول نے مشترکہ صحافتی بیان میں کہاکہ پروفیسر ریحانہ سلطانہ ڈین آف سائنس و سوشیل مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی ایک عہد ساز، عزم میں پختگی، بلند حوصلہ کی حامل عشق رسول ﷺ سے سرشار کچھ کر گذرنے کا جذبہ رکھنے والی شخصیت کا نام ہے۔ ان کی شخصیت نہ صرف قابل قدر ہے بلکہ قابل صد احترام بھی۔ مرحومہ نے اپنی پرخلوص خدمات کے ذریعہ ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ 13 ڈسمبر بروز ہفتہ جامعۃ المؤمنات مغلپورہ میں پروفیسر ریحانہ سلطانہ کے تعزیتی جلسہ کا اہتمام کیا جائے گا۔

پروفیسر محمد شمیم جئے راجپوری اور دیگر کا اظہار تعزیت
حیدرآباد 10 ڈسمبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے بانی و سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد شمیم جئے راجپوری نے پروفیسر ریحانہ سلطانہ، ڈین ، آف آرٹس اینڈ سوشیل سائنس و صدر شعبہ تعلیم نسواں مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ اپنے تعزیتی بیان میں اُنھوں نے کہاکہ پروفیسر ریحانہ سلطانہ نہ صرف یہ کہ ایک ہمہ جہت شخصیت کی حامل خاتون تھیں بلکہ ایک سماجی جہد کار، ٹیچر اور ایک بہترین انسان کی حیثیت سے بھی ان کی ایک منفرد شناخت تھی۔ پروفیسر شمیم جئے راجپوری نے اپنی اور اپنی بیگم کی جانب سے مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
٭ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر ؍ سکریٹری اُردو اکیڈیمی نے پروفیسر ریحانہ سلطانہ کے انتقال پر تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ پروفیسر ریحانہ سلطانہ یونیورسٹی میں میری سینئر تھیں، وہ انتہائی ملنسار، نیک اور ہمدرد خاتون تھیں۔ انھوں نے اُردو زبان و ادب کی خدمت کی اور خواتین کی بھلائی اور خواندگی کے کئی کام کئے۔
٭ عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف، ایم اے قدیر، ڈاکٹر ایوب حیدری، شاہد حسین، احمد صدیقی مکیش، محمد نصراللہ خان، عرشیہ عامرہ نے ممتاز دانشور و سماجی جہدکار ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ کے انتقال پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ عرصہ دراز سے میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم اور ادارہ سیاست کی کئی فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رہیں۔ ایم ڈی ایف کے قائدین نے اپنے بیان میں کہاکہ بہت جلد ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ کی سماجی، ملی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تعزیتی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
٭ مولانا دستگیر خان قادری ناظم مدرسہ دینیہ رشیدیہ مولانا غیاث پاشاہ قادری معلم عربی زبان نے اظہار تعزیت میں کہاکہ پروفیسر ریحانہ سلطانہ مرحومہ تعلیمی، سماجی، اُردو زبان کی ترقی، اُس کے حقوق، اُردو زبان کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کی عمل آوری کیلئے جدوجہد کیلئے پس منظر میں رہیں۔
٭ میناریٹی ایمپلائز کوآرڈی نیشن اینڈ کنسلٹنسی حیدرآباد کے صدر عبدالصمد اعظمی نے کہاکہ محترمہ کی شخصیت اور تدریسی کارنامے ناقابل فراموش ہیں۔ خواتین تنظیموں اور خاتون طبقہ کے لئے تعلیمی، سماجی، معاشی، عائلی مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش رہتی تھیں۔ وہ میکا کی رکن تھیں۔ جناب ایم اے قدیر نائب صدر میکا نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایم ڈی ایف خواتین ونگ کی نائب صدر تھیں۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی کوآرڈی نیٹر میکا نظام آباد نے کہاکہ وہ بے لوث و بے باک خاتون لیڈر تھیں خاص کر پرانے شہر کی خواتین کے سماجی، تعلیمی، عائلی مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔ تعلیم کو خواتین میں عام کرنے کی تحریک چلائی۔
٭ انجمن بقاء اُردو کی جانب سے ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے صبیحہ تبسم (ٹی وی اینکر) سیدہ دردانہ مسکان، سلطان کاظمی، محمد حنیف علی نے کہاکہ اُردو ادب کا ایک ستون گر گیا ہے۔ وہ سخت محنت کیا کرتی تھیں۔ گھریلو اور کمزور خواتین کے لئے طاقت اور سہارا تھیں اور علم دوست تھیں۔
٭ محترمہ زاہدہ خانم نے کہاکہ ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ کمزور اور معذور لڑکیوں کی ہمت تھیں۔
٭ صدر شرعی پنچایت مولانا سید طاہر نے کہاکہ ڈاکٹر ریحانہ سلطانہ بیماری کے باوجود خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لئے عملی طور پر اقدامات کیا کرتی تھیں۔ ایک علمی شخصیت کی حیثیت سے علمی، ادبی اور سماجی زندگی میں وہ یاد چھوڑ گئیں۔

TOPPOPULARRECENT