Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر سیدہ جعفر کی تمام تصانیف کے مجموعہ کی اشاعت کا فیصلہ

پروفیسر سیدہ جعفر کی تمام تصانیف کے مجموعہ کی اشاعت کا فیصلہ

ادارہ ’سیاست‘ اور نہج البلاغ سوسائٹی کے زیر اہتمام مرحومہ کا جلسہ تعزیت‘جناب زاہد علی خان کا خطاب
حیدرآباد۔25جولائی(سیاست نیوز) مدیراعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان نے پروفیسر سید ہ جعفرسابق صدر شعبہ اُردو عثمانیہ یونیورسٹی وحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی تمام تصانیف پر مشتمل ایک جامعہ کتاب تیار کرنے کی تجویز پیش کی جسکوکتاب کی شکل میں ادارے سیاست کی جانب سے شائع کیاجائے گااور جناب زاہد علی خان نے یہ ذمہ داری پروفیسر اشرف رفیعہ صاحبہ صدر شعبہ اُردو عثمانیہ یونیورسٹی کو سونپی آج یہاں ادارے سیاست کے گولڈن جوبلی ہال میں ادارے سیاست اور کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کے زیراہتمام پروفیسر سیدہ جعفر مرحومہ سابق صدر شعبہ اُردو عثمانیہ یونیورسٹی وحیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی نشست سے صدراتی خطاب کے دوران جنا ب زاہد علی خان یہ اعلان کیا۔قاری سید حسین موسوی کی قرات کلام پاک سے اس تعزیتی نشست کا آغازہوا جبکہ ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر کل ہند نہج البلاغہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور پروفیسر اشرف رفیع ‘ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ اُردو عثمانیہ یونیورسٹی ‘ پروفیسر ایس اے شکور ڈاٹرکٹر میناریٹی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اپنے خطابات کے ذریعہ مرحومہ کے خدمات کوخراج عقیدت پیش کیا ۔جناب زاہد علی خان نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ مرحومہ میری استا دتھیں اور دکنی ادب میںان کے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ وہ ایک ایسے دور میںمیری استادتھیں جب نظام ادب کی اشاعت کے لئے بہت ہی کم بجٹ مختص کیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جب میںایم اے فائنل کا طالب علم تھاحالانکہ دیگر زبانوں خصوص کر انگریزی اور علاقائی زبانوں کے لئے خاطر خواہ رقم کی اجرائی عمل میںلائی جاتی تھی مگر نظام ادب کی اشاعت کے لئے ناکافی بجٹ مقرر کیاگیا تھا ایسے میں مجھ کو نظام ادب کی شائع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جناب زاہد علی خان نے بتایا کہ وہ اُس وقت ادارے سیاست کے اشتراک سے آدھے موازانے پر نظام ادب کی رعایتی اشاعت کی تھی ۔ انہوںنے کہاکہ مرحومہ کے ادبی خدمات اوردکنی زبان کے فروغ میںان کے کام کبھی فراموش نہیںکئے جاسکیں گے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ ایسی عظیم ادبی شخصیت حیدرآباد کے بجائے دہلی یا لکھنو میںپیدا ہوتی تو انہیں پدما شری اور پدما بھوشن جیسے باوقار ایوارڈ سے نواز جاتا۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ دکنی مخطوطات کو جمع کرنے اور انہیںترتیب دینے کا اہم کارنامہ بھی مرحومہ نے انجام دیا ہے ۔ جناب زاہدعلی خان ادارہ ادبیات اردو میںموجود دکنی مخطوطات پر بھی روشنی ڈالی جس کو ساری دنیا میںمقبولیت حاصل ہے ۔انہں نے کہاکہ مذکورہ مخطوطات کوڈیجیٹل لائز کرنے کاکام تکمیل ہوچکا ہے ۔جناب زاہد علی خان نے کہاکہ ادب سے بیزارگی اور بڑھتی مصروفیت کی سبب مطالعے سے دوری کے چلتے لوگ آج نادر اور کمیاب کتابیں ردی میں ڈال رہے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ سیاست کو بطور عطیہ دی جانے والی ردی میں سے ہر روز بے شمار نادر وکمیاب کتابیں ملتی ہیں اور ان کتابوں کی تلاش کی ذمہ داری جناب عامر علی خان کی ہے ۔ مدیر اعلی جناب زاہد علی خان نے کہاکہ اسی طرح اب تک اٹھارہ تا بیس ہزار ناد ر وکمیاب کتابوں پر مشتمل ایک لائیبریری تیار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ زبان کے ساتھ کبھی ناانصافی نہیںہوسکتی اور نہ ہی اُردو کو ختم کیاجاسکتا ہے بشرطیکہ اُردو داں طبقے اس زبا ن کو اپنی ماں کی طرح محبت کرے۔ انہوںنے کہاکہ روس نے ازبکستان‘ تاجکستان پر قبضے کرکے وہاں کی فارسی زبان کو بدل کرروسی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا مگر 70سال بعد بھی کیاہوا ساری دنیا نے دیکھا اور آج ازبکستان اور تاجکستان کی سرکاری زبان دوبارہ سے فارسی ہے۔   ( سلسلہ صفحہ8 پر )

Top Stories

TOPPOPULARRECENT