Tuesday , November 21 2017
Home / ادبی ڈائری / پروفیسر سیدہ جعفر کی علمی و ادبی خدمات

پروفیسر سیدہ جعفر کی علمی و ادبی خدمات

ڈاکٹر امیر علی
یہ خبر علمی و ادبی حلقوں میں بڑے ہی افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ ممتاز ماہر دکنیات ، محقق ، نقاد ، لغت نویس، تاریخ نویساور اردو زبان و ادب کی مایہ ناز ڈاکٹر سیدہ جعفر اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اُن کی بے وقت موت سے اردو زبان و ادب کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ۔ اُن کا انتقال حیدرآباد میں بتاریخ 24 جون 2016 ء کو ہوا ۔ آپ کی تدفین احاطہ دائرہ حضرت میر مومن قبلہؒ  حیدرآباد میں ہوئی ۔ راقم کو یہ اعزاز حصل ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کی علمی و ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تیار کرنے کا شرف حاصل ہے ، جس کا عنوان ’’دکنی ادب کے فروغ میں پروفیسر سیدہ جعفر کا حصہ ‘‘ ہے ۔ اس مقالے کے نگرانکار میرے استاد مرحوم ڈاکٹر محمدافضل الدین اقبال ، سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی تھے ۔ مقالہ تیار ہوکر 1907 ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کی طرف سے مجھے پی ایچ ڈی کی باوقار ڈگری عطا کی گئی ۔ مقالے کی تکمیل اور تیاری کے مرحلے میں میرے استاد ڈاکٹر افضل الدین اقبال اور ڈاکٹر صاحبہ نے میری کافی رہنمائی کئے جس کا میں ممنون و مشکور ہوں۔ یوں بھی تو ڈاکٹر افضل الدین اقبال اور ڈاکٹر سیدہ جعفر سے 1985 ء سے ہی ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان دونوں ہی کے مفید مشوروں سے ہی میں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور انہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی کی ۔
پروفیسر سیدہ جعفر اردو کی ادبی تاریخ میں ایک بلند پایہ محقق ، نقاد اور مورخ کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ دکنیات کے صف اول کے ماہرین میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ اُن کی ادبی کاوشیں تاریخ ادب کا انمٹ نقش بن گئی ہیں ۔ ان کے علمی انہماک اور ادبی شغف نے اردو ادب کے دامن کو بہت سے آبدار موتیوں سے بھردیا ہے ۔ تاحال ان کی 30 سے زائد کتابیں شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں جن میں زیادہ تعداد دکنی ادب سے تعلق رکھتی ہیں ۔ ان کی بے مثال اور گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے صلے میں ملک کی مختلف اکیڈیمیوں  اور اداروں نے گراں قدر ایوارڈس عطا کئے جن میں آندھراپردیش اردو اکیڈیمی کا باوقار مخدوم ایوارڈ اور بہار اردو اکیڈیمی کا قاضی عبدالودود ایوارڈ قابل ذکر ہیں ۔ ہندی پرچار سبھا نے بسٹ اردو رائٹر اور تلگو اکیڈیمی نے بسٹ اردو اسکالر کے اعزاز سے نوازا ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے جن سپوتوں نے تحقیق اور تنقید کے میدان میں قابل قدر کارنامے انجام دیئے ہیں، ان میں ڈاکٹر سیدہ جعفر کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے درس و تدریس کے میدان میں رہ کر بھی تحقیق و تنقید کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس طرح دکنیات اور دکنی ادب کے وقار کو بلند کیا ۔ انہوں نے ایسے بیش بہا علمی و ادبی کارنامے انجام دیئے ہیں جنہیں دنیائے اردو ادب ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

اردو میں عام طور پر خواتین نے شعر و شاعری ، افسانہ نگاری ، ناول نگاری اور دوسری تخلیقی اصناف میں اپنی انفرادیت کا سکہ منوایا ہے ۔ تحقیق و تنقید سے بہت کم دلچسپی لی ہے  لیکن ڈاکٹر سیدہ جعفر کو اس معاملے میں اولیت حاصل ہے کہ انہوں نے تحقیق و تنقید کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا ۔ اس لئے ان کا شمار اردو کے اہم محققین اور نقادوں میں ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے آپ کو صرف قدیم ادب یا دکنیات تک محدود نہیں رکھا ۔ حالانکہ ان کا بڑا کام دکنیات ہی سے متعلق  ہے ۔ جدید ادب پر بھی ان کی دسترس اسی طرح تھی جس طرح دکنیات پر انہوں نے اردو ادب کے افق پر ہونے والی تبدیلیوں کا بہت غور اور بڑی گیرائی سے مطالعہ کیا اور اس کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ وہ تنقید کے نئے رجحانات سے بخوبی واقف تھیں۔ انگریزی ادب کی جدید ادبی تحریکات اور نئے رجحانات پر بھی ان کی گہری نظر تھی ۔ وہ کئی زبانوں سے واقف تھیں۔ فارسی ، عربی ، ہندی ، اردو ، سنسکرت اور مرہٹی کی اچھی استعداد رکھتی تھیں۔ انہوںنے جدید و قدیم مطبوعات کے ساتھ ساتھ قدیم مخطوطات کا گہرا مطالعہ کیا ہے ۔ انہیں تدوین سے بھی غیر معمولی دلچسپی تھی ۔ انہوں نے کئی قدیم مثنویاں ڈھونڈ نکالیں۔ ان مثنویوں کی دریافت ، ترتیب و تدوین نے ادبی حلقوں کو چونکا دیا ۔ دکنی رباعیوں اور دکنی قصیدوں  پر بھی انہوں نے بڑا  اعلیٰ معیاری کام کیا ہے ۔ ضخیم کلیات محمد قلی قطب شاہ کی از سر نو تدوین اور ضخیم دکنی لغت کی ترتیب بھی ان کی ماہرانہ صلاحیت اور قابلیت کی آ ئینہ دار ہیں اور پھر نو جلدوں میں اردو ادب کی تار یخ ان کا ایسا انمٹ کارنامہ ہے جس کی مثال عصر حاضر میں نہیں ملتی ۔ تحقیق بڑی عرق ریزی ، جگر کاوی ، بڑی جانفشانی ، محنت اور مشقت کا کام ہے۔ اس میں ’’سرسری ہم جہاں سے گزرے‘‘ کا رویہ باعث رسوائی ثابت ہوتا ہے اور تحقیق کا مزاج ’’آبر و بقدر سوختیں‘‘ کے تصور کا آئینہ دار ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے ڈاکٹر صاحبہ ’’اسی دشت کی سیاحی‘‘ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنی ذات کو تحقیقی کاموں کیلئے وقف کر دیا تھا ۔ ادبی تحقیق بڑے عزم و حوصلے اور احتیاط کا کام ہے کہ ’’بات پر یاں زبان کٹتی ہے ‘‘ والا معاملہ ہے۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر اس سمندر کے شناور اور خواص تھیں۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کا دامن انمول  موتیوں سے بھردیا ہے ۔ میر کا یہ شعر ان کی شخصیت پر پورا اترتا ہے۔

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شادر ہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کے بہت یاد رہو
ڈاکٹر سیدہ جعفر کا خاندان ایران سے تعلق رکھتا تھا ۔ یہ موسوی سادات کا گھرانا ہے ۔ اس خاندان کے مورث اعلیٰ سید رضی تھے جنہوں نے ’’نہج البلاغہ‘‘ یعنی حضرت علیؓ کے خطبات مبارک مدون کئے تھے ۔ اس خاندان کے ایک اور بزرگ غیاث الدین سید معصوم دشتگی یکتائے زمانہ عالم تھے ۔ سید عباس علی کے بڑے فرزند سید سجاد علی ڈاکٹر صاحبہ کے دادا تھے ۔ وہ تعلقدار تھے جن کے بڑے لڑکے سید علی رضا دوسرے سید جعفر علی اور تیسرے سید یوسف علی تھے ۔ سید یوسف علی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے ڈبل ایم اے تھے اور سٹی کالج حیدرآباد میں انگریزی کے استاد تھے ۔ سید جعفر علی ڈاکٹر سیدہ جعفر کے والد تھے اور سابق حکومت حیدرآباد میں مہتمم آبکاری کے عہدہ پر فائز تھے ۔ دوران ملازمت ان کا کریم نگر اور ورنگل میں قیام رہا اور ان کا 1942 ء میں حیدرآباد تبادلہ عمل میں آیا ۔ یہاں بنجارہ ہلز میں انہوں نے اپنا ایک ذاتی مکان تعمیر کروایا تھا ۔ ان کا اڑتالیس (48) سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر کی والدہ کا نام صغریٰ بیگم تھا ۔ ڈاکٹر صاحبہ کے ماموں سیدہ مہدی علی عثمانیہ یونیورسٹی میں پروفیسر زوالوجی تھے اور وہ مرہٹواڑہ یونیورسٹی میں ڈین فیکلٹی آف سائنس اور رجسٹرار بھی رہے۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر 5 اپریل 1934 ء کو ضلع کریم نگر میں پیدا ہوئیں۔ یہاں ان کے والد ملازم تھے، ان کا اصل اور پورا نام سیدہ جعفر ہے ۔ یہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی ہونے کے باعث سب کو عزیز تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ابتدائی تعلیم اس زمانے کے رواج کے مطابق گھر پر ہوئی ۔1942 ء میں ان کے والد کا تبادلہ حیدرآباد میں ہوا ۔ اس وقت ڈاکٹر صاحبہ کی عمر آٹھ نو سال کی تھیں انہیں نامپلی گرلز ہائی اسکول میں شریک کیا گیا ۔ یہ حیدرآباد کی مشہور علمی درسگاہ  تھی۔ یہیں سے ڈاکٹر صاحبہ 1948 ء میں میٹرک کا امتحان امتیاز سے پاس کیا اور 1950 ء میں انٹرمیڈیٹ ویمنس کالج کوٹھی سے کامیاب کیا ۔ 1952 ء میں ویمنس کالج کوٹھی عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے کی تکمیل کیں ۔ 1954 ء میں ایم اے (اردو ) کا درجہ اول سے امتحان پاس کیا اور یونیورسٹی میں سب سے زیادہ نمبرات حاصل کیںاور پھر انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لئے پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور عثمانیہ کے نامور پروفیسر عبدالقادر سروری کی نگرانی میں ’’اردو مضمون کا ارتقاء ‘‘ کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا جس پر ان ہیں 1959 ء میں پی ایچ ڈی کی باوقار ڈگری عطا کی گئی ۔ ان کے (Examiners) پروفیسر آل احمد سرور اور پروفیسر احتشام حسین تھے ۔ پروفیسر سیدہ جعفر کے مقالے کو سراہا گیا اور ان کی علمی کوششوں کی ادبی حلقوں میں بہت تعریف کی گئی ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے جس دور میں تعلیمی میدان میں قدم رکھا تھا اس وقت عورتوں کی تعلیم کا رواج عام نہیں تھا مگر ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی محنت اور لگن سے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوئیں جس سے دوسروں کی بھی ہمت افزائی ہوئی۔

ڈاکٹر سیدہ جعفر کا 4 جولائی 1958 ء کو نظام کالج عثمانیہ یونیورسٹی میں بحیثیت لکچرر تقرر عمل میں آیا ۔ 1965 ء میں ریڈر (اسوسی ایٹ پروفیسر) کے عہدے پر ترقی ملی ۔ ستمبر 1983 ء میں پروفیسر کی حیثیت سے ان کا انتخاب عمل میں آیا ۔ ڈاکٹر صاحب 1984 ء سے 1986 ء تک دو سال عثمانیہ یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو رہیں۔ انہوں نے اپنی لگن اور ذاتی کوششوں سے شعبہ اردو کی کارکردگی میں اضافہ کر کے اسے ایک، فعال شعبہ بنادیا، ڈاکٹر صاحبہ 1986 ء سے 1988 ء تک شعبہ کی چیرمین بورڈ آف اسٹیڈیز رہیں ۔ وہ مختلف جامعات کے بورڈ آف اسٹیڈیز کی رکن بھی تھیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحبہ عثمانیہ یونیورسٹی کی اکیڈیمک سینٹ کی ممبر رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحبہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بھی دیرینہ تعلق رہا ہے ۔ فروری 1991 ء میں آپ کا تقرر بحیثیت پروفیسر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ہوا۔ مارچ 1991 ء سے 30 اپریل 1996 ء اپنے وظیفہ تک آپ صدر شعبہ اردو فرائض انجام دیں۔ اس طرح ڈاکٹر صاحبہ  (35) سال سے زائد تدریسی تجربہ رکھتی ہیں۔ پروفیسر سیدہ جعفر نے اندرون و بیر ون ملک متعدد سمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالے پیش کئے ۔ ڈاکٹر صاحبہ طلباء کی ترقی اور ان کی بھلائی کیلئے ہر وقت کوشاں رہتی تھیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کے سبب نہ صرف ہندوستان گیر شہرت حاصل کی ہیں بلکہ بیرون ملک میں بھیان کی عملی و ادبی خدمات کا اعتراف کیا گیا ۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل WHOS WHO میں آپ کے سوانحی حالات اور آپ کی علمی و ادبی خدمات کا تذ کرہ کیا گیا ہے اور انہیں کئی خصوصی ایوارڈس بھی عطا کئے گئے ۔ جون 1990 ء میں حکومت ایران نے حضرت امام خمینی کی برسی منائی تو دنیا کے مختلف ممالک کے وفود اور اہم شخصیتوں نے اس تاریخی اجتماع میں شرکت کی ۔ ہندوستان سے جو وفد گیا اس میں ڈاکٹر سیدہ جعفر بھی تھیں اور انہوں نے حضرت امام رضاؓ  کے مقدس روضہ کی ز یارت بھی کی تھی ۔ وہ اصفہان اور شیراز بھی گئیں تھی ۔ اس سفر کے حالات ’’ایران میں چند روز ‘‘ کے عنوان سے روزنامہ سیاست اردو حیدرآباد میں مورخہ 16 جولائی 1990 ء کو شائع ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر نے دوران قیام لندن ’’رالف رسل‘‘ سے ان ٹرویو لیا تھا جس میں مشہور مشرق نے اردو کے مستقبل کے بارے میں بہت اہم اظہار خیال کیا تھا اور رالف رسل نے کہا تھا کہ ’’اردو ہندوستان میں ہمیشہ زندہ رہے گی کیونکہ یہ عوام کی زبان ہے اور عوام ہر دور میں ناقابل تسخیر رہے ہیں اور ان کی زبان ہر قید و بند سے آزاد ہوتی ہے ۔ رسل  نے آکسفورڈ میں طالب علموں کو ار دو سکھائی اور انہیں اردو زبان سے خاص لگاؤ تھا‘‘۔

شخصیت کی تشکیل میں گھریلو ماحول اور رہن سہن ، ماں باپ کی سماجی حیثیت ، اولاد کی تربیت اور حلقہ احباب کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ ایک ذی علم خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ مو سوی سید گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر شیعہ (امامیہ) مذہب کی پیرو ہیں۔ اہلبیت سے والہانہ محبت رکھتی تھیں لیکن عقیدہ اور مسلک کے تعلق سے کوتاہ نظر نہیں بلکہ بڑی وسیع المشرب ہیں۔ کسی ایک کی طرفداری اور دوسرے سے جانبداری ان کا شیوہ نہیں۔ وہ مذہبی اور نسلی تعصب کو بہت برا سمجھتی تھیں۔ ان کی وسیع القلبی کا مشاہدہ روزانہ شاگردوں اور ساتھیوں سے خاص برتاؤ سے لگایا جاسکتا ہے ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند تھیں اور آپ حضرت علیؓ کی بڑی منعقد تھیں اور ہر پیر اور جمعرات کو آپ کے نام سے فاتحہ خوانی کرواتیں۔ وہ ہمیشہ مذہبی اور سیاسی گفتگو سے دور رہتی تھیں۔ ڈاکٹر محمد افضل الدین اقبال ، ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت کے تعلق سے اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’خوش اخلاق ، سادگی اور مفکر المزاجی ، ڈاکٹر صاحبہ کی شخصیت کے خاص جوہر ہیں ‘‘۔ ڈاکٹر صاحبہ ہمیشہ نہایت ہمدرد اور مخلص رہیں۔ وہ اپنے قلم اور زبان سے کسی کو نقصان پہنچانا انسانیت کے خلاف سمجھتی ہیں ۔ وہ ا پنے محسنوں کو یاد کرتیں جن میں ڈاکٹر محی الدین قادری زور ، ڈاکٹر عبدالقادر سروریؔ ، ڈاکٹر مسعود حسین خان ، ڈاکٹر حفیظ قتیل ، ڈاکٹر جہاں بانو نقوی اور ڈاکٹر محمد افضل الدین اقبال قابل ذکر ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

TOPPOPULARRECENT