Monday , October 22 2018
Home / مضامین / پروفیسر سید خواجہ معین الدین حیدرآباد جو کل تھا

پروفیسر سید خواجہ معین الدین حیدرآباد جو کل تھا

محبوب خاں اصغر
ہند کی ریاست تلنگانہ کو دیگر ریاستوں کے مقابل اس لیے بھی فوقیت حاصل ہے کہ حیدرآباد اس ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔ نیز اس ریاست کو جہاں علمی، تحقیقی، سیاسی، سماجی، ادبی، طبی، مذہبی اور صحافت کے میدانوں کی کئی ایک اہم شخصیتوں نے متمول کیا ہے وہیں پر پروفیسر سید خواجہ معین الدین صاحب کی گرانقدر خدمات کو فراموش کردینا ناسپاسی ہوگی۔ انہوںن ے روایتوں سے انحراف نہیں کیا اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنایا۔ جہاں دیدہ لوگوں سے گہرے واسطے کے سبب ان میں حصول علم کی لگن پیدا ہوئی۔ صغر سنی ہی میں انہیں اس بات کا گہرا شعور حاصل ہوگیا تھا کہ انسان کی بالیدگی اور عروج کے لیے علم کا حاصل کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے۔

24 اکٹوبر 1945ء کو چندرائن گٹہ میں پیدا ہونے والے سید خواجہ معین الدین صاحب نے زندگی کی تریہتر بہاریں دیکھیں ہیں۔ ان کے والد سید احمد محی الدین مرحوم صرقی میں محاسب تھے۔ نجیب الطرفین خواجہ صاحب کی تعلیم کا آغام مدرسہ تحتانیہ حسینی علم سے ہوا۔ سکندران کے ہم جماعت تھے۔ جو ااگے چل کر ڈاکٹر سید سکندر حسین کہلائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق اس عرصہ سے ہے جہاں اساتذہ ذرے کو آفتاب بنانا جانتے تھے۔ انہوں نے صدر مدرس جناب امام الدین صاحب مرحوم کی تعلیمی خدمات سے متعلق کہا کہ وہ تمام مدرسین کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کرتے تھے کہ طلباء کو افکار علم سے واقف کروایا جائے۔ وہ تعلیم کو ترقی کا پہلا زینہ متصور کرتے تھے۔ مدرسہ وسطانیہ مغلپورہ میں بطور صدر مدرس جناب شیر سنگھ مرحوم فائز تھے۔ وہاں ان کے ہم جماعت سلیم خان تھے بعد میں وہ پروفیسر محمد عبدالسلیم خان علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی حیثیت سے نمودار ہوئے۔ مدرسین میں سید عبدالقادر، علام دستگیر، کملاکر رائو، ہری ہر رائو کلکرنی، سید جلیل احمد، محمد عبدالطیف اور محمد عبدالعزیم شامل تھے۔ یہاں بھی طلباء میں پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے تحریری اور تقریری مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ذریعہ تعلیم اردو تھا۔ بزم اردو کے شریک معتمد رہے۔ اکثر موقعوں پر انہوں نے فی البدیہہ تقریر کی اور تحریر امتحانات لکھے اور انعامات سے نوازے گئے۔
جناب پروفیسر خواجہ صاحب مطابق ان کے اخلاق اور کردار کو سنوارنے میں مختلف اساتذہ کے ساتھ جناب ضیاء الحسن جعفری، پروفیسر کیشور رائو جادوھ، ڈاکٹر محمد محفوظ علی صدیقی، پروفیسر سید محمد، پروفیسر مغنی تبسم، پروفیسر ابوظفر عبدالواحد، ڈاکٹر غلام عمر خاں اور ڈاکٹر زینت ساجدہ کا اہم حصہ رہا ہے۔ انہوں نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات سے بھی کیا اور انگریزی میں جامعہ عثمانیہ سے بھی مذکورہ سند حاصل کی۔ لسانیات سے بھی ایم اے کیا اور مانچسٹر یونیورسٹی (برطانیہ) سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ ہم بطور اجمالی یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ تعلیم کا ذہن سازی میں اہم رول ہوا کرتا ہے اور اساتذہ سے استفادہ کے سبب تعمیرو ترقی کے ساتھ، بیداری نیز وقار بھی بلند ہوتا ہے اور تنگ و تاریک ذہنوں کو جلا ملتی ہے اور جنہیں تعلیم سے کد ہے وہ ظلمت کدہ میں مقدی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انہوںن ے بتایا کہ آگے بڑھنے کے لیے ان کے ہاں کوئی وسائل و وسائط نہیں تھے۔ مگر ماضی میں جو حکومت بالخصوص ریاست حیدرآباد میں ا قتدار پر تھی ان کا چراغ سب کے لیے فروزاں تھا۔ اجالے اور روشنی سب میں یکساں تقسیم ہوا کرتے تھے۔ وہ اس نکتہ کو جان گئے تھے کہ حصول علم میں سب سے بڑی رکاوٹ روپیوں کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے اسکالرشپ کے نام پر روپیہ محض اس لیے فراہم کیا کہ اس کے دیرپا اور صحیح فوائد حاصل ہوسکیں۔ چناں چہ انہیں نظام ٹرسٹ سے وظیفہ ملنے لگا۔ رعایتی اسکالرشپ کے نام سے سو روپئے علاحدہ ملتے تھے۔ میرٹ اسکالرشپ کے علاوہ برٹس کونسل کا اسکالرشپ بھی انہیں ملتا رہا۔ جس کی وجہ سے انہوں نے برطانیہ سے ایم ایڈ کی سند حاصل کی۔ تعمیر ملت نے ان کی مالی مدد کی۔ طلباء کو ٹیوشن پرھانے کے لیے میلوں کا سفر طے کیا۔ پھر بھی تعلیمی اخراجات کی پابجائی ہو نہیں پائی تھی۔ دو کتابیں چوک کے کتب فروش کو بیچ دیں اور ان پیسوں سے پیلس ٹاکیز میں فلم مغل اعظم کے ٹکٹ خریدے۔ سنیما بینی ان کا مقصد نہیں تھا بلکہ ان ٹکٹوں کو زائد نرخ پر بیچنا ان کا منشا تھا۔ کچھ دنوں تک اس عمل کو جاری رکھنے کے بعد دو سو روپئے جمع ہوئے۔ بیچی ہوئی کتابیں دوبارہ خریدلیں اور منفعت کو بغیر کسی منفعل کے تعلیمی فکر میں لگایا۔ کالج کے بقایا جات ادا کئے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ آج طلباء کو بڑی آسانیاں ہیں۔ ان کے سرپرست حالات کی چکی میں پس جاتے ہیں مگر اپنی اولاد کے جملہ اخراجات کی تکمیل کرتے ہیں جس کی وجہ سے بچے من آسان ہوجاتے ہیں۔ مشکلات موانع ہوں اور وسائل کی کمی ہو تو بھی اپنا سفر از خود جاری رکھنا ہی کمال ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے بھی مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں اور بالآخر اسے اوج حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے طلباء میں فکری انحطاط پر اٹھائے گئے سوال کا جواب دیا اور کہا کہ ماضی میں سوائے تعلیم حاصل کرنے کے اور کچھ بھی مشاغل نہیں تھے۔ ٹیلی ویژن بہت بعد کی ایجاد ہے۔ کھیل کود ضرور تھے۔ مگر بہرحال پڑھائی کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ گھر کے بزرگوں کی صحبت ان کے اخلاق کو کچھ یوں صیقل کرتی کہ تاحیات اس کے اثرات ان کی شخصیت میں دیکھے جاسکتے تھے۔ ایسی کتابیں جو دل و دماغ کو روشن کرتی ہوں ان سے دوری، بزرگوں سے بیزاری، علیحدگی پسندی، تہذیب سے دوری اور ارتقاء کے نام پر عصری ٹیکنالوجی نے ایک پوری نسل کو برباد کیا ہے۔ انہوں نے ماضی کے حوالے سے بتایا کہ مطالعہ سے روحانی غذا ملتی تھی۔ واقفیت پیدا کرنے کی غرض سے صرف کتابیں پڑھی جاتی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کے افکار خیالات کو تطہیر ملتی تھی اور وہ دانشمند کہلاتے تھے۔ آج تعلیم عام ہونے کے باوجود طلباء اپنی انفرادیت اور ذاتی خصوصیت پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے اس کی وجوہ جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ اسلاف سے ربط ضبط ٹوٹ جانا اور اپنی قدیم تہذیب سے ناآشنا ہونے کے سبب ہم اپنی انفرادیت کھونے لگے ہیں۔ نئے آلات سے آشفتہ سری کی حد تک آشنائی نے وقت کا زیاںا بھی کیا ہے اور نئی نسل کو نقصان بھی پہونچایا ہے۔ دوران تعلیم مختلف مجلوں اور رسالوں کی ادارت فرمانے والے معزز مہمان نے مختلف ادبی انجمنوں کا بار بھی اپنے کاندھوں پر اٹھایا ہے اور راست اپنی نگرانی میں کامیاب جلسے بھی کروائے ہیں۔ اس حوالے سے انہوںنے بتایا کہ کسی بھی شعبہ میں منفی سوچ کے حامل افراد شاذ و نادر ہی ہوا کرتے تھے اور ان کے لیے بھی گفت و شنید کے دروازے ہمیشہ ہی وا ہوتے۔ مگر وہ کھل کر سامنے آنے سے کتراتے بھی تھے۔ درحقیقت ہماری تہدیب ان کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی تھی۔ بالآخر اتحاد و اتفاق ہی کو مقدم مانا جانا تھا جس کے نتیجہ میں ہر کام خوشگوار انداز میں شروع ہوئے اور منتج بھی ااخرکار ثمر بخش ہوتا۔

سات زبانوں کے واقف کار پروفیسر سید خواجہ معین الدین نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ بیرون ہند گزارا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کالج آف لینگویجس حیدرآباد سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد انوارالعلوم اور جامعہ عثمانیہ میں اسلامیات، انگریزی اور اردو پڑھاتے رہے۔ اس سفر میں انہیں جو برتر اساتذہ ملے وہ تمام ہی آن بان والے تھے مگر قابل ذکر سید ہاشم علی اختر مرحوم آئی اے ایس اور پروفیسر مغنی تبسم ہیں جن کی حیثیت سایہ دار درخت کی مانند تھی۔ انہوں نے اس عہد کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ درس و تدریس کا شوق اپنے اساتذہ کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے۔ ان کے بموجب اسی دور کے اساتذہ اپنے شاگردوں کے فکر و نظر کو چمکانے کی حتی الامکان سعی کرتے تھے تاکہ وہ قصر ذلت سے ابھر کر ایک مہذب انسان بن سکیں اور یہی وہ بنیادی چیز ہے جو فناء کے بعد بقا کی ضامن ہوتی ہے۔ سرِ دست انہوں نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ ان کی زندگی کی پہلی کمائی صرف دو پیسے تھے اور پروفیسر بن کر لیبیا پہونچے تو ماہانہ ڈھائی لاکھ کمایا۔ علمی لیاقت، حسن اخلاق اور دیانتداری یہ وہ بیساکھیاں ہیں جو کسی بھی انسان کو رفعتیں عطا کرتی ہیں۔ انگلستان اور لیبیا کی جامعات سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہاں کی جامعات باوجود اس کے کہ طرز تعمیر کا اعلی نمونہ ہیں لیکن جامعہ عثمانیہ کے مقابل وہ کشش نہیں رکھتیں جو کہ جامعہ عثمانیہ میں ہے۔
پروفیسر سید خواجہ معین الدین کے خسر پروفیسر سیدعبدالخالق نقوی محکمہ دفاع میں عربی پڑھاتے تھے۔ سید حامد مرحوم وائس چانسلر علیگرھ یونیورسٹی کے علاوہ کرنل عثمان۔ مصباح الدین۔ کرنل نارائن، عزیم قریشی (منسٹر) ان کے تلامذہ میں شامل رہے۔ آپ کی اہلیہ ڈاکٹر عطیہ سلطانہ محکمہ صحت (مرکزی) میں ماہر امراض نسواں (گائناکالوجسٹ) تھیں۔ حال ہی میں وظیفۂ حسن پر سبکدوش ہوئی ہیں۔ ان کی دو لڑکیاں ہیں جو امریکہ میں اپنے خاوند کے ساتھ مقیم ہیں۔ اکلوتا لڑکا سید عبدالخالق قادر (عرف ذھیب) انجینئر ہیں۔
مترجم اور صحافی پروفیسر سید خواجہ معین الدین پولیس ایکشن کے موقع پر صرف تین برس کے تھے۔ مگر جوں جوں عمر بڑھتی گئی اس افراتفری سے متعلق کئی باتیں ان کی معلومات میں اضافہ ثابت ہوئیں اور آج وہ یہ کہنے کے موقف میں ہیں کہ حیدرآباد کا زوال حقیقتاً ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے بہادر یار جنگ کو دونوں فرقوں کے مقبول رہنما بتایا اور کہا کہ عوام کو فاتر العقل رہنمائوں کی نہیں بلکہ دوراندیش اور فہم و فراست کے حامل لوگوں کی ضرورت رہی۔ جو کہ آج نایاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسے لوگوں کی بہتات ہے جن کے ساتھ ذاتی اغراض جڑے ہوئے ہیں اور مذہبی امور میں رخنہ اندامی کو اپنا شیوہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے گریز کرنا ہی ملک کے مفاد میں ہے۔ تہذیبی جڑیں ہلتی ہیں تو برگ وثمر ٹوٹتے ہی ہیں مگر شجر برہنہ ہوجاتا ہے۔ اس ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کے حوالے سے ہمارے سوال کے جواب میں انہوں نے سرسید احمد خان کی تقریر کا حوالہ دیا جس میں سرسید نے کہا تھا کہ ’’دنوں فرقوں کی ترقی اور بہبودی ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ ایک ترقی یافتہ ہوجائے اور دوسرا پسماندہ رہے تو پورے وطن کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ترقی میں معاون و مددگار بنیں۔ قوم کا جو حصہ زیادہ کمزور ہے اس کی مضبوطی اور ترقی کے لیے سرگرم عمل رہنا ضروری ہے۔

آصف جاہی سلاطین کے زرین عہد کو یاد کیا اور کہا کہ اس دور کی منفرد تہذیب کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمان اور ہندو کے برادرانہ تعلقات کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ایک دوسرے کے تہوار اور ایک دوسرے کی شادیوں میں یوں لگتا کسی ایک فرقے کی عید ہو یا کسی ایک طبقہ کی شادی ہو۔ دونوں فرقوں میں شیروانی اتنی عام تھی کہ ہندومسلم میں تمیز کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کائستھ اور ہندو جملہ تقاریب میں شیروانی ہی زیب تن فرماتے تھے۔ تحائف کا تبادلہ محبت اور اخوت کو بڑھاوا دیتا۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں حالات ابتر ہوجائیں مگر حیدرآباد اپنی روایات کو قائم رکھتا۔ امن اور سکون کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مذہب میں مداخلت نہیں کی جاتی تھی۔ آپسی بھائی چارگی اور محبت سے لبریز تہذیب کو دائم رکھنے کے لیے بلا تخصیص مذہب و ملت مساعی جاری رکھنا بالخصوص موجودہ حالات میں ازحد ضروری ہے۔ انہوں نے ماضی کے حوالے سے مہدی نواز جنگ کو یاد کیا اور کہا کہ وہ مجلس بلدیہ کے میئر تھے۔ انہوں نے (Peoples Medical College) پیپلز میڈیکل کالج کو گاندھی میڈیکل کالج میں تبدیل کیا۔ سردست انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ نواب میر محبوب علی باشا کے عہد میں عثمانیہ دواخانہ میں 1885ء میں کلورو فارم کمیشن قائم ہوا۔ رونالڈ راس نے حیدرآباد میں ملیریا کی دوا ایجاد کی۔ یہ دونوں طبی تحقیق حیدرآباد میں ہوئیں۔

انہوں نے دارالترجمہ سے عبقری شخصیتوں کو بھی یاد کیا۔ جنہوں نے علمی اور سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ اصطلاحات وضع کیں اور لفظیات کو چمکایا۔ہادی رسوائ، شبلی، وحید الدین سلیم، عبدالماجد دریا بادی، جوش، عبداللہ عبادی وغیرہ کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا۔ نئی نسل ان کے ناموں سے تک ناآشنا ہے۔ انہوں نے مدینہ ہوٹل میں 3روپیہ پلیٹ ملنے والی بریانی اور اورینٹ ہوٹل میں ہونے والی علمی بحث کا ذکر کیا اور بتایا کہ مدینہ ہوٹل میں وکلاء اور اورینٹ میں شعراء ادبا اور کامریڈ ہمیشہ موجود رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے نئی نسل کو یہ پیغام دیا کہ عصری علوم کو اختیار کریں مگر مادری زبان سے خود کو دور نہ رکھیں کہ مادری زبان ہی ہمیں بصیرت و بصارت کے ساتھ ہماری عظمتِ رفتہ کا پتہ دیتی ہے۔ نیز علم و فن کی اس بستی میں اربابِ علم و دانش کے نام اور کام سے آگہی کا ذریعہ صرف مادری زبان ہی ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT