Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کو بلبل دکن کا خطاب، تدریسی خدمات کو خراج تحسین

پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کو بلبل دکن کا خطاب، تدریسی خدمات کو خراج تحسین

حیدرآباد۔ 3؍فروری۔( پریس نوٹ ) استاد کبھی اپنی خدمات سے سبکدوش نہیں ہوتا۔ اپنی آخری سانس تک وہ یہ خدمات انجام دیتا رہتا ہے۔ دنیا کی کوئی شخصیت عظیم بنی ہے تو اس میں ان کے اساتذہ کا رول کلیدی رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختلف ماہرین تعلیم نے پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کے جلسہ اعتراف خدمات میں کیا جو ایوان فنکار اور گواہ اردو ویکلی کے زیر اہتمام اردو ہال حمایت نگر میں منعقد ہوا۔ جناب محمد عبدالرحیم خان معتمد انجمن ترقی اردو و سابق پرنسپال اردو آرٹس ایویننگ کالج نے صدارت کی۔ پروفیسر مظفر شہ میری صدر شعبہ اردو حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی، ڈاکٹر شوکت حیات صدر شعبہ امبیڈکر یونیورسٹی، ممتاز افسانہ نگار محترمہ قمر جمالی، ڈاکٹر سید ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی، ڈاکٹر عقیل ہاشمی، پروفیسر مجید بیدار، پروفیسر عبدالستار دلوی، ڈاکٹر محمد نذیر احمد صدر شعبہ اردو ویمنس کالج کوٹھی، پروفیسر تاتار خان، ڈاکٹر نسیم الدین فریس، ڈاکٹر مصطفے علی سروری، ڈاکٹر گل رعنا، ڈاکٹر معید جاوید، ڈاکٹر حمیرہ سعید، جناب مرتضیٰ علی فاروقی ڈپٹی کمشنر اکسائز کے علاوہ شہ نشین پر ڈاکٹر جاوید کمال، سید فاضل حسین پرویز، محبوب خان اصغر موجود تھے۔ پروفیسر شہ میری نے پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کی تدریسی خدمات اور ان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر شوکت حیات نے کہا کہ پروفیسر فاطمہ بیگم پروین فی البدیہ تقاریر کے لئے شہرت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر مجید بیدار نے کہا کہ محترمہ کی شخصیت توازن اور تواضع کا امتزاج ہے۔ ڈاکٹر عقیل ہاشمی، مصطفیٰ علی سروری، نسیم الدین فریس، حمیرہ سعید، گل رعنا، ڈاکٹر نذیر احمد، ڈاکٹر معید جاوید اور پروفیسر تاتار خان نے پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی اور ان کی صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ منیجنگ ڈائرکٹر ریاستی ا قلیتی مالیاتی کارپوریشن و ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ اگرچہ کہ انہیں فاطمہ بیگم پروین کے ساتھ کام کرنے یا ان کی شاگردی کا اعزاز حاصل نہیں رہا تاہم وہ محترمہ کی شخصیت،

ان کی خدمات سے واقف بھی ہیں اور متاثر بھی۔ جناب محمد عبدالرحیم خان نے اپنی صدارتی تقریر میں بتایا کہ فاطمہ بیگم پروین نے اردو سمینار کے سلسلہ کا آغاز اردو ہال حمایت نگر سے کیا تھا۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ شعبہ اردو کی تاریخ پس منظر پر روشنی ڈالی۔ اور فاطمہ بیگم پروین کے تعلیمی اور تدریسی کیریئر کا احاطہ کیا۔ پروفیسر فاطمہ بیگم پروین نے اپنی جوابی تقریر میں کہا کہ یہ جلسہ ان کی خدمات کے اعتراف میں نہیں ہے بلکہ یہ اساتذہ اور شاگرد کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ کے اظہار کا جلسہ ہے۔ محترمہ فاطمہ بیگم پروین کو اس موقع پر بلبل دکن کا ایوارڈ پیش کیا گیا۔ دہلی کے ممتاز شاعر ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی صدر شعبہ فارسی آل ا نڈیا ریڈیو دہلی کے منظوم خراج تحسین کو محمد شعیب رضا خان نے پیش کیا۔ محبوب خان اصغر نے تعارف پیش کیا۔ سید فاضل حسین پرویز نے خیر مقدم کیا۔ جاوید کمال نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اس موقع پر فرید سحر، وحید پاشاہ قادری، معیم امر بمبو اور اسد سردار نے مزاحیہ کلام سنایا۔ اس تقریب میں شہر کی سرکردہ شخصیات موجود تھیں جن میں حافظ محمد جیلانی، فضل اللہ مکرم، جلال الدین اکبر، افسانہ نگار افروز سعید قابل ذکر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT