پروفیشنل اور تجارت پیشہ نوجوانوں میں محنت کا جذبہ،دن میں کمپنیوں میں ملازمت، رات میں کیاب ڈرائیونگ، دیگر نوجوانوں کیلئے مثال

حیدرآباد۔17ڈسمبر(سیاست نیوز) حیدرآباد کے نوجوانوں میں پائی جانے والی ’’نوابی‘‘ بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے اور محنت نہ کرنے کیلئے مشہور اور کسی بھی کام کو چھوٹا یا بڑا سمجھنے والے اب محنت کی سمت مائل ہونے لگے ہیں۔ پروفیشنل نوجوان جو وائٹ کالر ملازمت کرتے ہیں وہ اب رات کے اوقات میں کیاب چلاتے ہوئے اپنی آمدنی میں اضافہ کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ سابق میں ڈرائیونگ کو معمولی عمل سمجھا جاتا تھا ۔ شہر میں اولا اور اوبر جیسی خدمات کو تیزی سے حاصل ہونے والی شہرت اور شہریوں کی جانب سے اولا اور اوبر خدمات سے استفادہ کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل میں کیاب ڈرائیونگ کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور نوجوان اس کام کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ ملازمت پیشہ نوجوانوں کے علاوہ تجارت پیشہ نوجوان نسل میں بھی یہ رجحان پایا جانے لگا ہے۔ صبح کی اولین ساعتوں میں ائیر پورٹ روانہ ہونے والوں کے لئے اوبر اور اولا کی سہولت سودمند ثابت ہورہی ہے اور اس سہولت کی فراہمی کیلئے ملازمت پیشہ نوجوانوں کی اکثریت صبح 5تا9 بجے کیاب چلانے لگی ہے اسی کے علاوہ رات کے اوقات میں تقاریب میں جانے کیلئے ٹیکسی کی ان خدمات سے استفادہ کرنے والوں کو بھی ان کی منزل مقصود تک پہنچانے کیلئے پروفیشنل نوجوان جو ملازمت پیشہ ہیں اور شام تک ملازمت سے فارغ ہوجاتے ہیں وہ بھی کیاب ڈرائیونگ کے ذریعہ آمدنی حاصل کرنے پر توجہ دینے لگے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ بعض نوجوان جو کہ اپنی کاروں کے اقساط ادا کرنے کیلئے ڈرائیور کے ذریعہ کیاب چلایا کرتے تھے اب وہ خود ان خدمات کی فراہمی کو ممکن بناتے ہوئے اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ماہانہ 20تا30ہزار روپئے کی آمدنی میں اضافہ کو ممکن بنایا جائے ۔ نئے شہر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں دیکھی جارہی اس اہم بات کا مشاہدہ کرنے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان نوجوانوں میں محنت اور آمدنی میں اضافہ کا جذبہ بڑھا ہے اور وہ اس کام کو چھوٹا تصور کرنے سے اجتناب کرنے لگے ہیں۔ بالا نگر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کیاب ڈرائیور سید احمد نے بات چیت کے دوران بتایا کہ وہ جزوقتی کار ڈرائیور ہیں جبکہ وہ ملازمت پیشہ ہیں اور ان کی شہر کی ایک سرکردہ کمپنی میں بہترین ملازمت ہے۔ انہوں نے بتایاکہ انہوں نے اقساط پر ایک کار خریدی اور اب جبکہ معاشی حالات تیزی سے ابتر ہو رہے ہیں تو ایسی صورت میں آمدنی میں اضافہ کیلئے انہوں نے اولا سے اپنی کار کو مربوط کرواتے ہوئے صبح کی اولین ساعتوں میں کیاب چلانے کا فیصلہ کیا جس کے سبب ان کی ماہانہ آمدنی میں 20 ہزار روپئے تک کا اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح نئے شہر کے ایک دینی مدرسہ میں بحیثیت معلم خدمات انجام دینے والے مولانا محمد علی نے بتایا کہ وہ دن میں دینی مدرسہ میں بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور دوپہر کے بعد سے وہ کیاب چلاتے ہوئے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ انہیں مدرسہ سے جو تنخواہ حاصل ہوتی ہے اس میں گذر بسر ممکن نہیں ہے اسی لئے انہوں نے اپنے ہی ایک عزیز کی کار جو اولا اور اوبر دونوں کمپنیوں سے مربوط ہے چلانی شروع کی اور اب وہ خود اپنی کار کے ذریعہ آمدنی حاصل کر ہے ہیں۔ اسی طرح کی کئی ایک مثالیں ہیں جس میں نوجوان نسل کم از کم اپنے اخراجات کی پابجائی کیلئے کیاب چلانے لگی ہے۔

TOPPOPULARRECENT