Friday , February 23 2018
Home / Top Stories / پروفیشنل کورسیس میں مسلم طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ خوش آئند

پروفیشنل کورسیس میں مسلم طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ خوش آئند

جاریہ سال ایم بی بی ایس میں داخلہ پانے والے 600 مسلم طلبہ کو تہنیت ، جناب زاہد علی خاں کا خطاب
حیدرآباد۔ 28 ستمبر (سیاست نیوز) مسلمان اپنے جائز حق کیلئے سخت محنت کریں تو ان کو اپنا کھویا ہوا مقام حاصل ہوسکتا ہے، جس کی مثال ایم بی بی ایس میں سال حال 600 مسلم طلبہ کا داخلہ ہے جو مجموعی داخلوں کا 20% ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے یہاں سیاست گولڈن جوبلی ہال میں ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کرنے والے مسلم طلباء و طالبات کے تہنیتی جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایکشن کے بعد مسلمانوں کی حالت بہت کمزور ہوگئی تھی۔ ہر شعبہ میں مسلم تناسب کم ہوتا جارہا تھا، لیکن اب حالات میں مثبت تبدیلی آرہی ہے۔ مسلمان نہ صرف انجینئرس بلکہ ڈاکٹرس اور دیگر پروفیشنس کو اپنا رہے ہیں۔ اس طرح مختلف شعبوں میں مسلمانوں کے بہت تناسب اور ان کے مظاہرے کو دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنی ترقی کیلئے ممکنہ جدوجہد کریں اور ساتھ ہی ساتھ حکومت کی مراعات اور تحفظات سے بھرپور استفادہ کریں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں برائے نام فیس پر داخلہ ہوتا ہے لہذا بہتر سے بہتر رینک کا حصول یقینی بنائیں۔ اس معاملے میں ادارۂ سیاست نے موثر رول ادا کیا ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیٹ کے ذریعہ ایم بی بی ایس میں داخلہ کو یقینی بنانے کے لئے ادارہ ٔسیاست کی کونسلنگ اور گائیڈنس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔

انہوں نے جناب ایم اے حمید کیریئر کونسلر سیاست کی کاوشوں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ شہر اور اضلاع سے کئی طلبہ اور سرپرستوں نے شخصی ربط پیدا کرتے ہوئے رہنمائی حاصل کی اور کئی طلبہ کا ایم بی بی ایس میں داخلہ یقینی ہوسکا۔ جناب زاہد علی خاں کے ہاتھوں ادارۂ سیاست کی جانب سے عثمانیہ ،گاندھی ، دکن، شاداں، اپولو ، وی آر اور دیگر میڈیکل کالجس میں داخلہ حاصل کرنے والے مسلم طلبہ کو میڈلس اور توصیف نامے دیئے گئے۔ اس جلسہ کے مہمان خصوصی ڈاکٹر تقی الدین خاں صدر شعبہ فارمنگ ڈپارٹمنٹ عثمانیہ میڈیکل کالج ہاسپٹل تھے۔ انہوں نے میڈیکل اسٹوڈنٹس کو اہم مشورے دیئے اور کہا کہ وہ سخت محنت اور ڈسپلن کی پابندی کریں تو کامیابی آسان ہوگی اور وہ ایک اچھے اور باصلاحیت ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔ جناب محمد نعمان نے بحیثیت اعزازی مہمان اولیائے طلبہ کی نمائندگی کی۔ انہوں نے ادارہ ٔسیاست کی موثر رہنمائی پر ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں اور دیگر اسٹاف سے اظہار تشکر کیا۔جناب ایم اے حمید کیریئر کونسلر نے ابتداء میں خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ نیٹ کے تحت کونسلنگ پروگرام کے ذریعہ 600 طلبہ کو ایم بی بی ایس میں داخلہ ملا۔ جناب منظور احمد نے مہمانوں کا تعارف کروایا ۔ جناب خواجہ علی شعیب نے شکریہ ادا کیا۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT