Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / پروٹین سے بھرپور غذائی اشیاء کی طلب و رسد میں خلیج کا جائزہ

پروٹین سے بھرپور غذائی اشیاء کی طلب و رسد میں خلیج کا جائزہ

نئی دہلی 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج پروٹین سے مالا مال غذائی اشیاء کی طلب اور رسد میں پائی جانے والی خلیج کا جائزہ لیا۔ اِن میں دودھ، انڈے اور مچھلی شامل تھی۔ اِس کے علاوہ بڑھتے ہوئے افراط زر کے پس منظر میں فرٹیلائزرس کی دستیابی اور معمول سے کم برسات کے اندیشوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو پروٹین کی بھرپور

نئی دہلی 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج پروٹین سے مالا مال غذائی اشیاء کی طلب اور رسد میں پائی جانے والی خلیج کا جائزہ لیا۔ اِن میں دودھ، انڈے اور مچھلی شامل تھی۔ اِس کے علاوہ بڑھتے ہوئے افراط زر کے پس منظر میں فرٹیلائزرس کی دستیابی اور معمول سے کم برسات کے اندیشوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو پروٹین کی بھرپور غذائی اشیاء کی دستیابی کی موجودہ صورتحال اور محکمہ انیمل ہسبنڈری اور ڈیری فارمس کے عہدیداروں کی جانب سے اِن کی سربراہی میں اضافہ کیلئے کئے ہوئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں دیگر کئی افراد کے علاوہ اُمور صارفین، غذائی اشیاء اور عوامی نظام تقسیم کے وزیر رام ولاس پاسوان، وزیر آبی وسائل اوما بھارتی، وزیر فرٹیلائزر اننت کمار اور وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ شریک تھے۔ آج کے اجلاس میں صرف دو محکموں انیمل ہسبنڈری اور فرٹیلائزر کی جانب سے تفصیلات پیش کی گئیں۔ پاسوان نے کہاکہ دیگر محکمے آئندہ اجلاس میں تفصیلات پیش کریں گے۔ انیمل ہسبنڈری اور ڈیری فارمس کے محکمہ نے اپنی تفصیلات میں کہاکہ بعض حیاتیاتی پروٹین کی غذائی اشیاء کی طلب و رسد میں خلیج پائی جاتی ہے اور زور دیا کہ مویشیوں کو مصنوعی طریقہ سے حاملہ کرنے کے عمل کو اور مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ کی دیگر ٹیکنالوجیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ مویشیوں کے لئے چارہ کی کمی ہے اور چارہ کی کاشت کے لئے بیجوں کی تقسیم بہتر بنانے کے اقدامات ضروری ہیں۔ اُن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے بموجب رسد ۔

طلب کی صورتحال کی اور اراضی کو زرخیز بنانے کے اقدامات کے بارے میں اِن کی قیمتوں اور حکومت پر سبسیڈی کے بوجھ پر بھی غور کیا گیا۔ حکومت نے کل افراط زر پر قابو پانے کے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے جو گزشتہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح 6.01 فیصد پر ماہ مئی میں پہونچ گیا ہے۔ انڈے، گوشت کی قیمتوں میں 12.47 فیصد اضافہ گزشتہ ماہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دودھ کی قیمتوں میں اچانک 9.57 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکز نے ریاستی کو ہدایت دی ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پھلوں اور ترکاریوں کو غذائی پیداوار فروخت کرنے کی کمیٹی کی فہرست سے حذف کردیا جائے۔ کاشتکاروں کو اپنی پیداوار راست کھلے بازار میں فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے اقل ترین برآمدی قیمت 300 امریکی ڈالر فی ٹن برائے پیاز مقرر کی ہے تاکہ برآمدات میں کمی کی جاسکے اور فیصلہ کیاکہ مزید 50 لاکھ ٹن چاول کھلے بازار میں فروخت کے لئے ریاستوں کو سربراہ کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT