Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / پرویز مشرف نے ’ پاکستان عوامی اتحاد ‘ قائم کرلیا

پرویز مشرف نے ’ پاکستان عوامی اتحاد ‘ قائم کرلیا

۔23 سیاسی جماعتوں کا اتحاد۔ عمران خان پر تنقید۔ دوبئی سے ویڈیو کانفرنس

اسلام آباد 11 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے 23 سیاسی جماعتوں کا ایک عظیم اتحاد قائم کرلیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بتائی گئی ۔ اس عظیم اتحاد کو پاکستان عوامی اتحاد کا نام دیا گیا ہے اور اس کے سربراہ 74 سالہ پرویز مشرف ہونگے جبکہ اقبال ڈار کو اس کا سکریٹری جنرل نامزد کیا گیا ہے ۔ دوبئی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ تمام جماعتیں جو مہاجر برادری کی نمائندگی کرتی ہیں انہیں بھی متحد ہوجانا چاہئے ۔ مقامی میڈیا نے یہ بات بتائی ۔ پرویز مشرف نے متحدہ قومی موومنٹ اور پاک سرزمین پارٹی کو بھی نئے سیاسی اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی ہے ۔ اس اتحاد کی نوعیت کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ تمام رکن جماعتیں مشترکہ طور پر ایک نام سے مقابلہ کرینگی ۔۰ پرویز مشرف نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کی صدارت کرینگے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ یہ سوچنا مضحکہ خیز ہے کہ وہ ایک چھوٹی اور نسلی پارٹی کی قیادت کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ آج متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اپنی اصل جماعت سے نصف باقی رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے داخلی مسائل کے تعلق س ے فکرمند ہیں۔ تاہم انہیں فاروق ستار یا مصطفی کمال کی جگہ حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اگر ان کی پارٹیاں متحد ہوجاتی ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی اور مہاجر برادری اپنا احترام کھوچکی ہے ۔ اگر مہاجر برادری پاکستان عوامی اتحاد کا حصہ بنتے ہوئے نسلی سیاست کو ترک کرتی ہے تو اس کا مستقبل بہتر ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان مسلم لیگ قائد کے قائدین چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الہی جلد ہی ان کے عظیم اتحاد میں شامل ہوجائیں گے ۔ سابق صدر پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے صدر نشین عمران خان کو بھی مشورہ دیا کہ وہ ایسے گروپ سے ہاتھ ملائیں جو پاکستان کو آگے لیجائیگا ۔ انہوں نے عمران خان پر صرف اپنی پارٹی کے تعلق سے فکرمند رہنے کا الزام عائد کیا ۔ پرویز مشرف نے پاکستان عوامی اتحاد سے اظہار تشکر کیا کہ اس نے انہیں صدر نشین بنایا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بہت جلد پاکستان واپس ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ پاکستان واپس ہونگے تو انہیں کسی سکیوریٹی کی ضرورت بھی نہیں ہوگی کیونکہ اب ملک میں حالت بہتر ہوئی ہے ۔ پرویز مشرف گذشتہ سال مارچ میں دوبئی روانہ ہوئے تھے جب وزارت داخلہ کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول کی فہرست سے خارج کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر پاکستان واپس ہونگے تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہونے پائیں۔

TOPPOPULARRECENT