Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / پرویز مشرف کے خلاف گرفتاری کا مشروط وارنٹ

پرویز مشرف کے خلاف گرفتاری کا مشروط وارنٹ

اسلام آباد ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مشروط، ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف غداری کے الزامات کے تحت ایک خصوصی عدالت میں جاری مقدمہ کی سماعت کے موقع پر حاضری میں ناکام ہوگئے تھے۔ خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے اعلان کیا کہ ’’ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا

اسلام آباد ۔ 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مشروط، ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف غداری کے الزامات کے تحت ایک خصوصی عدالت میں جاری مقدمہ کی سماعت کے موقع پر حاضری میں ناکام ہوگئے تھے۔ خصوصی عدالت کے رجسٹرار عبدالغنی سومرو نے اعلان کیا کہ ’’ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا جاچکا ہے اور 31 مارچ کو آئندہ پیشی کے موقع پر عدالت میں حاضری سے پرویز مشرف کی ناکامی کی صورت میں اس وارنٹ پر عمل کیا جائے گا لیکن مشرف کے وکلائے صفائی نے کہا ہیکہ عدالتی احکام کی نقل دستیاب ہونے کے بعد وہ اس کے خلاف مناسب عدالت میں چیلنج کریں گے۔ 70 سالہ پرویز مشرف کے ایک وکیل نے خصوصی عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’نقل دستیاب ہونے کے بعد ان احکام کے خلاف چیلنج کیا جائے گا۔ اس عدالت نے مقدمہ کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کی ہے۔ قبل ازیں خصوصی عدالت نے آج صبح اپنے فیصلہ کو دوپہر تک محفوظ کردیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس فیصل عرب کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے مشرف کو ماخوذ کرنے کیلئے آج عدالت میں حاضر رہنے کا حکم دیا تھا۔ وکلائے صفائی نے کہا کہ سیکوریٹی وجوہات کے سبب مشرف آج عدالت میں حاضر نہ ہوسکے۔

سابق ڈکٹیٹر کے ایک وکیل انور متصور نے عدالت میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی تھی۔ انور منصور قصوری نے استدلال پیش کیا تھا کہ مشرف کی سیکوریٹی پر تعینات اہلکاروں کے پس منظر کا پتہ چلانے کی ضرورت ہے۔ اس کام کی تکمیل کیلئے کم سے کم 6 ہفتے درکار ہیں۔ خصوصی عدالت نے کہا کہ آئندہ پیشی میں عدم حاضری پر مشرف کے خلاف عائد الزامات ان کے وکیل کو سنائے جائیں گے۔ قصوری نے کہا کہ ’’سیکوریٹی وجوہات کی بناء پر مشرف کو عدالت میں پیش کرنا انتہائی دشوار ہے۔ سیکوریٹی وارننگ میں خبردار کیا گیا ہیکہ پنجاب کے ایک گورنر سلمان تاثیر کی طرح سابق صدر مشرف کو بھی خود ان کے باڈی گارڈز بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔
چنانچہ پروٹوکول کے مطابق 1,600 سیکوریٹی اہلکاروں کے منجملہ ہر ایک کے پس منظر کا پتہ چلانے کیلئے چند ہفتے کا وقت درکار ہوگا۔ قصوری نے وزیراعظم نواز شریف پر انتقامی سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مشرف کے خلاف مقدمہ کے سوال پر فوج اور حکومت کا موقف یکساں نہیں ہے۔ وکیل استغاثہ اکرم شیخ نے استدلال پیش کیا کہ مشرف کو تحویل میں لیا جانا چاہئے تاکہ حکومت ان کی سیکوریٹی کی ذمہ دار بن سکے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہیکہ کسی سابق فوجی حکمراں کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ مشرف کی سیکوریٹی پر تاحال 20 کروڑ روپئے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ اس دوران سابق صدر کو عدالت منتقل کرنے کے مقصد سے وفاقی پولیس کی خصوصی ٹیم مسلح افواج کے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل ہوچکی ہے۔

پرویز مشرف منگل کو بھی عدالت میں حاضر ہونے میں ناکام ہوگئے تھے اور جمعہ کو آئندہ پیشی مقرر کی گئی تھی اور آج بھی وہ حاضر نہیں ہوسکے جس کے بعد مشرف کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT