Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / پروین توگاڑیہ کی حالت مستحکم

پروین توگاڑیہ کی حالت مستحکم

احمدآباد 16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے بین الاقوامی کارگذار صدر پروین توگاڑیہ مستحکم ہیں جو گزشتہ روز احمدآباد کے ایک پارک میں بیہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کرائم برانچ کے سینئر عہدیدار آج صبح دواخانہ پہونچے جہاں توگاڑیہ شریک ہیں۔ وی ایچ پی قائد جنھیں سخت ترین زیڈ زمرہ کی سکیورٹی حاصل ہے کل صبح شہر کے علاقہ پلاڈی میں واقع وی ایچ پی ہیڈکوارٹرس سے باہر نکلنے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے جب راجستھان پولیس کی ایک ٹیم اُنھیں ایک قدیم مقدمہ میں گرفتار کرنے کیلئے پہونچی تھی۔

 

توگاڑیا کیخلاف مودی اور امیت شاہ کی سازش
ہاردک پٹیل کا الزام، پاٹیدار لیڈر نے توگاڑیا سے ملاقات کی
احمد آباد،16 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی کار گزار صدر پروین توگاڑیا کی طرف سے مڈبھیڑ میں اپنی ہلاکت کا اندیشہ ظاہر کیے جانے کے بعد پاٹیدار تحریک کے لیڈر ہاردک پٹیل نے آج ان سے ملاقات کی۔مسٹر توگاڑیا کل لاپتہ ہوگئے تھے اور بعد میں بیہوشی کی حالت میں پائے گئے ۔ ان کی حالت میں اب کچھ افاقہ ہوا ہے اور انہوں نے ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی اور اپنے اوپر جو کچھ گزری اس کی تفصیلات بتائی۔ہاردک نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ توگاڑیا کے خلاف سازش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ سازش وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ رچ رہے ہیں۔ کل توگاڑیا کے لاپتہ ہونے کے بعد ہاردک نے کئی ٹوئٹ کرکے جہاں ایک طرف توگاڑیا کی حمایت کی تھی وہیں مسٹر مودی اور بی جے پی پر بھی وار کیا تھا۔ پاٹیدار لیڈر نے لکھا کہ اگر ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت میں پروین توگاڑیا لاپتہ ہوجاتے تو بی جے پی پورے ملک میں تشدد برپا کردیتی ۔ایک دیگر ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ زیڈ پلس سیکورٹی ہونے کے باوجود بھی پروین توگاڑیا غائب ہوجاتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ عام آدمی کا کیا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پروین توگاڑیا کی لاپتہ ہونے کے باوجود ریاست کے وزیر داخلہ کیوں چپ ہیں اور توگاڑیا جی کی سیکورٹی اہلکاروں کو ابھی تک معطل کیوں نہیں کیاگیا۔بی جے پی اور وی ایچ پی کے قائدین کو فکر کیوں نہیں ہے ۔دریں اثناء جئے پور سے موصولہ اطلاع کے بموجب توگاڑیا نے انکشاف کیا کہ وہ 2002ء میں نریندر مودی کے چیف منسٹر گجرات بننے سے پہلے جب وہ آر ایس ایس کے رکن تھے ، ایک ہی اسکوٹر پر سواری کیا کرتے تھے۔ 2002ء کے آغاز میں انہیں الگ تھلگ کردیا ۔ اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی نے انہیں حکومت کے امور میں دخل اندازی نہ کرنے کی ہدایت دے دی۔

TOPPOPULARRECENT