Saturday , December 15 2018

پروین شاکر نسائی محسوسات کی حسین شاعرہ

ڈاکٹر مسعود جعفری

ڈاکٹر مسعود جعفری
دنیائے شعر و ادب میں شاعروں کا تسلط رہا ۔ انہی کی قد و قامت ، فکر و خیال کے گل بوٹے مہکتے رہے ۔ سارے راستے انہی پرختم ہوجاتے تھے۔ مردانہ جنس male gender گراں بہا شئے تھی جس طرح سلطنت ، حکومت ، حکمت اور فکر و فلسفہ کی بساط پر مردوں کا راج تھا اسی طرح شعر و شاعری میں بھی ابن آدم یعنی حضرت انسان کی بلاشرکت غیرے بالادستی مسلمہ تھی ۔ ہمارے ہونٹوں پر میر وغالب ، اقبال و فیض، جوش و ساحر ، کیفی و مخدوم کی غزلیات کے رومانی اور انقلابی شعروں کی دلآویز قوس و قزاح بکھری تھی ۔ ہم انہی کی تخلیقات کی بستی میں گم شدہ رہے ۔ خواتین شاعرات برائے نام تھیں ۔ شاہی دور میں اکا دکا شہزادیوں کے نام مل جاتے ہیں جیسے نور جہاں ، جہاں آرا ، زیب النساء مخفی ۔ ساٹھ ، ستر کی دہائی میں نسوانی رعد اور دھنک شاعری کے افق پر ابھرنے لگی ۔ دھیمی دھیمی آنچ دینے والی شاعری کوئی اور نہیں خوبصورت ، ذہین ، غم جاناںو غم دوراں کے تمام کو اپنے سینے میں لے کر چلنے والی پروین شاکر تھی۔ جس نے ایک جست میں صدیوں کا فاصلہ طے کردیا ۔ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے غزل کا رنگ تبدیل کردیا ۔ ایسے حسین شعر کہنے لگی جن سے دامن خیال تہی تھا ۔ اس نے روایتی ڈگر تبدیل کردی ۔ فرسودہ خیالی کو خیرباد کہا ۔ گھسے پٹے موضوعات سے کنارہ کشی کرلی ۔ نئے سفر میں نئے چراغوں کا بندوبست کیا ۔ لوح و قلم کا رخ نئی منزلوں کی جانب پھیرا ۔ غزلیات کو جدید رنگ و آہنگ سے روشناس کیا ۔ اپنی ادبی پہچان بنائی ۔ پروین شاکر کے یہاں لفظوں کا گورکھ دھندا نہیں ہے ۔ پروین شاکر کی زندگی نے وفا نہیں کی ۔ وہ 42 سال کی عمر میں اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئی ۔ وہ اسلام آباد میں ایک کار حادثہ میں فوت ہوگئی ۔ وہ کیٹس ، مجاز ، شکیب جمالی اور جان ملٹن کی طرح کم عمری میں ملک عدم سدھار گئیں ۔ انہوں نے کم عمری میں اتنا ادب کو مالا مال کیا جو کئی لوگ اپنی لمبی عمروں میں نہیں کرسکے ۔ بے پناہ تخلیقی وفور رکھنے والی شاعرہ کی نجی زندگی آسودہ نہیں رہی ۔ اس پر دکھ کے بادل منڈلاتے رہے ۔ آخرکار نصف بہتر سے مفارقت ہوگئی ۔ دونوںکا جادہ الگ ہوگیا۔ ازدواجی زندگی کی نشانی ایک لڑکا مراد رہ گیا ۔ پروین کی شاعری میں نجی گھریلو واقعات کی کسک اور چبھن ملتی ہے ۔ وہ مردانہ برتری کا اعتراف کرتی ہیں ۔
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا

پروین شاکر پڑھی لکھی روشن خیال خاتون تھیں ۔ انہوں نے انگریزی لٹریچر سے ایم اے کیا تھا ۔ بینکنگ نظم و نسق میں پی ایچ ڈی کی تھی ۔ وہ محکمہ کسٹم میں اعلی عہدہ پر فائز تھیں ۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ 1976 میں منظر عام پر آیا ۔ وہ راتوں رات شہرت کے آسمان پر پہنچ گئیں ۔ پروین شاکر کا نام گھر گھر سنائی دینے لگا ۔ دیگر شعری مجموعے صد برگ 1980 ، خود کلامی ، انکار 1990 میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئے ۔ بعد میں ان کی شاعری کے مجموعوں کا ماہ تمام میں یکجا کیا گیا ۔ یہی ان کا کلیات ہے ۔ پروین شاکر کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ پاکستان کے باوقار اعزاز Pride of Performance سے نوازا گیا ۔ انہیں وہ سب کچھ ملا جو ایک بڑے قد آور ادیب و شاعر کو ملتا ہے ۔
اس کی فکر رسا کے گلاب کھلے ہوئے ہیں ۔ باغ اردو ان سے معطر رہے گا ۔ اس کی غزلوں کی قرات ہوتی رہے گی ۔ قارئین فرط انبساط سے جھومتے رہیں گے۔ اب ہم منفرد لہب و لہجہ کی شاعری کے شاعرانہ نگار خانے میں جھانکتے ہیں اور زندگی کے سرد و گرم تجربات کو محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پروین شاکر کے نسائی جذبات کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ مشرقی لڑکی کی نسوانی کسک کی کرچیاں فرش راہ بنی ہوئی ہیں ۔

پابہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
طوفان ہے تو کیا غم آپ مجھے آواز تو دیجئے
کیا بھول گئے آپ مرے کچے گھڑے کو
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آسکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کردیا
میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کردیا
وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے
کہاں ممکن رہا اس سے نہ بولوں
مرا نوحہ کناں کوئی نہیں ہے
سو اپنے سوگ میں خود بال کھولوں
اس بیت میں ایک حساس عورت کی بے چارگی جھلک رہی ہے
ہاتھ میرے بھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن
بند مجھ پر جب سے اس کے گھر کا دروازہ ہوا
اس شعر کی سلگتی آگ کی تپش ملاحظہ کیجئے
ریل کے سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی
اس کو رخصت کرکے گھر لوٹے تو اندازہ ہوا
پروین شاکر پہلی شاعرہ ہے جس نے نسائی احساسات پر اوس نہیں ڈالی ۔ ان کی پردہ پوشی کرنے کی ناکام سعی نہیں کی ۔ رسم و رواج کی اسیر ہو کر شمع کی طرح خاموش نہیں ہوگئی ۔ اس نے اپنے وطن کو زبان دی ۔ اظہار کو وسیلہ بنایا ۔ سماجی جبر کے آگے سپر نہیں ڈالی ۔ وقت و حالات سے نبرد آزما ہونے کی اپنے اندر طاقت پیدا کی ۔ پروین شاکر خود اپنی کتاب کے دیباچہ دریچہ گل سے میں زیر لب کچھ کہہ رہی ہیں ۔ ان کی باتیں رازہائے سربستہ کی پرتیں کھول رہی ہیں ۔ ان میں عمیق معنی خیزی ہے ۔
گریز پا لمحوں کی ٹوٹتی دہلیز پر ہوا کے بازو تھامے ایک لڑکی کھڑی ہے اور سوچ رہی ہے کہ اس سے اور آپ سے کیا کہے ۔برس بیتے ۔ گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اس پر اس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کردے ۔
خدائے ذوالجلال نے اس کی مناجات کو شرف قبولیت عطا کیا اور وہ اندر کی لڑکی گویا ہوئی ۔ اس کا دستاویزی ثبوت ان کے شہکار شعری مجموعے ہیں جن سے اقلیم ادب نور ونکہت میں ڈوبا ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT