Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / پریس اکیڈیمی کی نئی عمارت کی تعمیر اور صحافیوں کی بہبود کے اقدامات

پریس اکیڈیمی کی نئی عمارت کی تعمیر اور صحافیوں کی بہبود کے اقدامات

15 کروڑ کی منظوری ، تلنگانہ کونسل میں ارکان کے سوالات پر وزیر ٹی ناگیشور راؤ کا جواب
حیدرآباد۔2نومبر(سیاست نیوز) صحافیوں کی بہبود کیلئے حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں اور پریس اکیڈمی کی نئی عمارت کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت نے احکامات جاری کئے جا چکے ہیں اور اس منصوبہ کو منظوری فراہم کرتے ہوئے 15 کروڑ روپئے بھی محکمہ عمارات و شوارع کے حوالے کئے جاچکے ہیں۔ ریاستی وزیر عمارات و شوارع مسٹر ٹی ناگیشور راؤ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان قانون ساز کونسل مسٹر ٹی بھانو پرساد‘ مسٹر کے پربھاکر ‘ مسٹر ایس راجو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ عمارات و شوارع کے چیف انجنیئر کو 15کروڑ کی منظوری کی اطلاع دیدی گئی ہے اور جو نقشہ اور منصوبہ تیار کیا گیا ہے اسی کے مطابق یہ رقمی منظوری عمل میں لائی گئی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ نئی عمارت کی تعمیر کیلئے ٹنڈر کی طلبی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اندرون ایک سال پریس اکیڈمی کی نئی عمارت کی تعمیر مکمل کرلی جائے گی۔ مسٹر ٹی ناگیشور راؤ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے صحافیوں کے لئے تلنگانہ جرنلسٹس ویلفیر فنڈ قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ انہیں ہیلت کارڈس جاری کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صحافیوں کے لئے سوشل سیکیورٹی (حادثاتی انشورنس) کروایا جا رہاہے اور تمام صحافیوں کو اکریڈیشن کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ مسٹر ٹی ناگیشور راؤ نے کہا کہ صحافیوں کو مفت بس پاس کی سہولت کے علاوہ رعایتی ٹرین پاس اور تلنگانہ بھون دہلی میں قیام کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ جناب محمد فاروق حسین نے ذیلی سوال کرتے ہوئے تمام زبانوں کے اخبارات کے صحافیوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ اردو صحافیوں کے مسائل کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں صحافیوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے اسی لئے ان کی بہبود کیلئے خصوصی اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ مسٹر ٹی ناگیشور راؤ نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تمام زبانوں کے صحافیوں کے لئے مساوی بہبودی پروگرامس روشناس کروائے جا رہے ہیں۔ جناب محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف فراہم کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اسی لئے اردو صحافیوں کیلئے بھی خصوصی بہبودی پروگرامس کو روشناس کروائے جانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT