Tuesday , December 11 2018

پری پیڈ میٹرس تیار، انتخابات کے بعد تمام میٹرس کی تبدیلی

مقامی جماعت کی خواہش پر تنصیب کا عمل ملتوی، صارفین کو میٹرس ری چارج کرانا ہوگا

حیدرآباد۔25نومبر(سیاست نیوز) پری پیڈ برقی میٹر تیار ہیں انتخابات کے فوری بعد شہر میں نصب کئے جائیں گے۔ محکمہ ٹرانسکو کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میںنئے برقی میٹرس کی تنصیب کا عمل انتخابات کے پیش نظر روک دیا گیا ہے اور اس کے لئے مقامی جماعت کی جانب سے اس بات کی خواہش کی گئی تھی کہ پری پیڈ برقی میٹرس کی تنصیب کے عمل کو انتخابات تک ملتوی رکھا جائے تاکہ عوامی برہمی سے بچا جاسکے۔ حکومت تلنگانہ نے شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے بیشتر شہری علاقوں میں پری پیڈ برقی میٹرس کی تنصیب کا فیصلہ کیاتھا اور اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے برقی میٹرس حاصل کرلئے گئے ہیں لیکن اچانک اسمبلی کی تحلیل کے فیصلہ کے بعد سیاسی قائدین نے ٹرانسکو کے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ مؤخر کردیں کیونکہ ان کے اس فیصلہ کے انتخابات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔ پری پیڈ برقی میٹر کی تنصیب کے بعد شہری صرف اتنی ہی برقی استعمال کرپائیں گے جتنے پیسے دیکر میٹر ریچارج کروایا جائے گا اور اس میٹر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میٹر میں عہدیداروں کے مطابق الٹ پھیر کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی ۔ نئے برقی میٹرس کی تنصیب کو روکنے والے سیاسی قائدین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بعد اگر برقی میٹرس تبدیل کئے جاتے ہیںتو انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ ان میٹرس کی تنصیب کا سب سے بڑا نقصان غریب عوام کو ہوگا اورانہیں برقی بل پیشگی ادا کرنا پڑے گا علاوہ ازیںجب میٹر میں موجود رقم ختم ہوجائے گی تو ایسی صورت میں برقی سربراہی از خود منقطع ہوجائے گی ۔ پری پیڈ میٹر کی تنصیب کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کو تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کاروپریشن لمیٹیڈ کی جانب سے عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ پرانے شہر میں نصب کئے جانے والے پری پیڈ برقی میٹرس علاقہ کے برقی دفاتر اور ٹھیکہ داروں کے پاس پہنچادئے گئے ہیں اور ان میٹرس کی تنصیب کا عمل ماہ ڈسمبر کے تیسرے ہفتہ سے ہی شروع کردیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہریوں کو پری پیڈ برقی میٹرس سے ہونے والی تکالیف سے بے خبر رکھتے ہوئے منتخبہ عوامی نمائندوں نے تمام برقی میٹرس کی تبدیلی کے فیصلہ کو منظوری دے دی ہے لیکن عہدیداروں سے بات کی خواہش کی ہے کہ وہ انتحابی عمل کی تکمیل تک اس فیصلہ کو عملی جامہ نہ پہنائیں تاکہ عوام میں برہمی پیدا نہ ہو۔

TOPPOPULARRECENT