Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

کے این واصف
خاکہ نگاری کا تقاضہ ہیکہ اس میں برجستگی ، بے ساختگی اور بے باکی ہو جس کیلئے خاکہ نگار کو گستاخی کا حق نہیں تو حریت خیال تو حاصل ہوناہی چاہئے ۔ مگر خاکہ نگار اور صاحبِ خاکہ کے درمیان کسی حوالے سے حد و ادب کے تقاضے ملحوظ ہوں تو پھر خاکہ نگار کیلئے ’’ایمان مجھے رو کے ہے تو کھنچے ہے مجھے کفر‘‘ کامعاملہ درپیش ہوجاتا ہے ۔ ایسی ہی کچھ صورتحال اس وقت میرے سامنے ہے ۔ گو کہ میر احمد علی صاحب اور میرے درمیان دوستی کی سلور جوبلی ہونے کو ہے اور میں میر صاحب سے بہت  زیادہ قریب  بھی ہوں بلکہ ریاض  میں میر صاحب سے میں جتنا زیادہ ملتا ہوں ، شاید کسی اور دوست سے ملتا ہوں گا۔ اس دیرینہ تعلقات اور قربت کے باوجود میں کبھی میر صاحب سے بہت بے تکلف نہ ہوسکا۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ میر صاحب مجھ سے عمر میں، علم میں، قد میں ، حیثیت میں بڑے ہیں ۔ میں اگر کبھی تھوڑی بہت آزادی لینے کی کوشش بھی کروں تو میر صاحب مسکراتے ہوئے کہتے ہیں’’میاں میں آپ کا بڑا بھائی ہونے کے علاوہ آپ کے اساتذہ کا بے تکلف دوست بھی ہوں۔ یہ سن کر میں اپنی حیثیت میں آجاتا ہوں۔
میر صاحب ان بن ، رنجش ، جھگڑے اور نزاعی معاملات سے دور رہتے ہیں اور اس طرح کے افراد سے اپنے مراسم بھی رکھنا پسند کرتے ہیں ۔ وہ اپنے احباب کو آبگینون کی طرح برتتے ہیں ۔ نہ کسی سے اونچی آواز میں بولتے ہیں، نہ کسی کی دل شکنی کرتے ہیں، نہ کسی کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ وہ جس سے ملتے ہیں بڑے والہانہ انداز سے ملتے ہیں۔ کوئی ان کے جذبات کاخیال رکھے یا نہ رکھے ، وہ کسی کے جذبات مجروح نہیں کرتے۔ وہ ملتے بھی کم لوگوں سے ہیں۔ ہمیشہ اپنا دائرہ احباب محدود رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید وہ میر تقی میرؔ کے اس خیال سے اتفاق رہتے ہیں کہ
گل ہو ، مہتاب ہو ، آئینہ ہو ، خورشید ہو میرؔ
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہے
میر صاحب گرم دم جستجو ہیں کہ نہیں اس پر ہم نے کبھی غور نہیں کیا مگر وہ نرم دم گفتگو ضرور ہیں۔ وہ بات کرتے ہوئے جملے کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اتنے دھیمے سر میں چلے جاتے ہیں کہ اکثر اوقات آخر الفاظ تو سنائی ہی نہیں پڑتے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں بلکہ ’’سرہانے میرؔ کے‘‘ بیٹھے ہیں۔
حضرات ! کتابیں، ادراک ، آگہی قوت حافظہ اور علم وغیرہ اگر دولت میں شمار ہیں تو میر صاحب دنیا کے دولت مند ترین افراد میں ایک ہوں گے ۔ ان کے گھر سب سے زیادہ جو چیز نظر آتی ہے ، وہ کتابیں ہیں۔ ان کے گھر آئے مہمان کو جسم اور روح دونوں کی غذا میسر ہوتی ہے ۔ ان کے گھر آنے والے مہمان کیلئے جتنی دیر میں نرگس بھابی چائے وائے کا انتظام کرتی ہیں ۔ اتنی دیر میں میر صاحب مہمان کی روح کو سیر کرادیتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سے زیادہ میر صاحب کے گھر کوئی مہمان نہیں ہوا ہوگا ۔ میں ہر دو چار دن میں ان کے گھر پہنچ جاتا ہوں۔ اس کی ایک اہم وجہ میر صاحب کی بیگم کے ذائقے دار کھانے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ عالم بالا میں عورتوں کو اُن پکائے ہوئے سالن بطور سزا کھلائے جائیں گے ۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر نرگس بھابی دنیا و آخرت دونوں ہی جگہ مزے میں رہیں گی۔
مطالعہ کرنا ، کتابیں خریدنا میر صاحب کا محبوب مشغلہ ہے۔ انہوں نے غضب کا حافظ بھی پایا ہے ۔ میر صاحب نے مولانا آزاد کو سب سے زیادہ پڑھا ہے۔

حضرات ! آج کل کسی کو کسی بھی موضوع پر معلومات درکار ہوں تو وہ فوری الکٹرانک تانترک بابا گوگل سے رجوع ہوجاتے ہیں اور بے شک ’’گوگل بابا‘‘ ان کی اچھا پوری بھی کرتے ہیں لیکن اگر کسی کو مولانا آزاد پر مواد درکار ہو تو وہ گوگل کی بجائے میر صاحب سے رجوع کرے تو وہ مولانا آزاد پر گوگل سے زیادہ مواد دے سکتے ہیں کیونکہ میر صاحب نے آزاد کے لکھے سارے ذخیرے کو اپنے ذہن کی Flash drive میں محفوظ کرلیا ہے ۔ ہم نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جنہیں مختلف شعراء کے سینکڑوں اشعار ازبر ہوتے ہیں لیکن میر صاحب ایک ایسے شخص ہیں جنہیں آزاد کے مضامین کے صفحات کے صفحات زبانی یاد ہیں۔ ابوالکلام آزاد میر صاحب کی کمزوری بھی ہیں اور طاقت بھی۔ میر صاحب کسی بھی محفل میں ہوں ، سلسلے گفتگو طویل ہو یا مختصر ، ان کی گفتگو  آزاد کے ذ کر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ ابوالکلام آزاد کے بارے میں میر صاحب کو جتنی معلومات ہیں اتنی معلومات شاید خود ابوالکلام آزاد کو بھی نہیں ہوں گی۔میر صاحب نے ہائی اسکول تک تلگو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور اردو شوقیہ طور سے گھر پر اپنے بزرگوں سے سیکھی ۔ مگر اردو میں اس درجہ قابل ہوئے کہ اب وہ اردو میڈیم سے پڑھے افراد کے بھی کان کاٹتے ہیں۔ میر صاحب کے مطالعہ میں تلگو اور اردو ادب دونوں رہتے ہیں ۔ لہذا وہ ’’بانکی تلگن‘‘ سے بھی دل بہلاتے ہیں اور اردو غزل سے بھی اٹھکیلیاں کرتے ہیں۔
میر صاحب تلنگانہ کے ضلع میدک کے ایک دینی ، علمی ، زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ حضرات عام طور سے بچے دنیا میں تنہا ہی آتے ہیں ۔ مگر میر صاحب اپنے بھائی کے ساتھ آئے ۔ یعنی میر صاحب کے بھائی میر غضنفر علی صاحب ان سے چند لمحوں کے بڑے ہیں۔ کم عمری میں سائے پدری سے محروم ہوجانے کی وجہ سے ان کے بچپن سے جوانی تک کا سفر کٹھن رہا ۔ مگر ہمت و حوصلے کے بل بوتے پر وہ تاریک راہوں سے اجالوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
میر صاحب نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بحیثیت استاد کیا ۔ انہوں نے مختصر عرصہ سکندر آباد کی قدیم درسگاہ ’’اسلامیہ ہائی اسکول‘‘ میں خدمات انجام دیں جہاں وہ  بیک وقت تلگو کے ’’پنتولو (استاد) اور انگریزی کے ٹیچر ہوا کرتے تھے ۔ اس دور میں جب ہندوستان کی آبادیوں سے قافلوں کے قافلے عرب کے صحراؤں کی طرف کوچ کر رہے تھے، میر صاحب نے بھی اپنے عہد جوانی میں سعودی عرب کا رخ کیا ۔ یہ زبان میر تقی میر اب ہمارے میر صاحب کا حال یوں ہے ۔

آگ تھے ابتدائے عشق میں
ہوگئے خاک انتہا یہ ہے
میر صاحب کوئی تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہاں مقیم ہیں ۔ وہ ہندوستانی اور پاکستانی کمیونٹی میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ ان میں حیدرآبادیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ حیدرآبادی تہذیب جو آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہے ۔ میر صاحب اس تہذیب کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں۔ میر صاحب کی عرفیت ’’نواب ‘‘ ہے۔ ان کے عزیز و اقارب اور بچپن کے ساتھی انہیں نواب بھائی کہہ کر ہی مخاطب کرتے ہیں۔ گو کہ ان کا تعلق نوابی گھرانے سے نہیں مگر ان کے مزاج میں نوابیت ضرور ہے۔ شاید یہ نام کا اثر ہے۔
حضرات ایک خاتون نے اپنے شوہر سے سوال کیا کہ یہ مرد حضرات کیونکر اپنی بیوی کے ’’مجازی خدا‘‘ کہلاتے ہیں تو شوہر نے جواب دیا اس لئے کہ وہ سنتا سب ہے مگر بولتا کچھ نہیں۔ میر صاحب بھی مجازی خدا بنے مگر پڑوسی ملک جاکر۔ شاید انہوں نے ’’ملک خدا تنگ نیست‘‘ کی کہاوت پر عمل کیا ہو ۔ ویسے کہتے ہیں جوڑے تو آسمانوں میں بنتے ہیں۔ لہذا میں یہاں ایک تک بندی ان کی نذر کر کے آگے بڑھوں گا۔
کوئی چہرہ نگاہ میں اس کی جچا ہی نہیں
جو حیدرآباد سے نکلا تو کراچی پہنچا
میر صاحب کا مطالعہ بڑا وسیع ہے اور ماشاء اللہ ان کا حافظہ بھی غضب کا ہے ۔ کسی بھی موضوع پر گھنٹوں بول سکتے ہیں ۔ ہمارا خیال ہے کہ کسی محفل میں کھانا serve ہونے میں تاخیر ہوجائے تو منتظمین محفل میر صاحب کو مائک پر کھڑا کردیں۔ وہ ایک آدھ گھنٹہ آسانی سے سامعین کو روحانی غذا فراہم کردیں گے لیکن اب مشکل یہ ہے کہ میر صاحب یہاں کچھ دن کے مہمان ہیں ۔ پھر وہ حیدرآباد کے ہوجائیں گے ۔ یہاں کی محفلیں ان کی شدید کمی محسوس کریں گی اور مجھے شخصی طور پر یہ لگتا ہے کہ میرے لئے ریاض شہر ویران سا ہوجائے گا کیونکہ دولت کدۂ میر میرے لئے ایک ایسا ٹھکانہ ہے جہاں میں بغیر کسی Appointment کے پہنچ جاتا ہوں اور پریشانی یہ ہے کہ اب یہ دروازہ بند ہونے کو ہے۔ خیر اب ہمیں بھی یہاں کب ہمیشہ رہنا ہے ۔ اگر ملک عدم نہ گئے تو ہم بھی اپنے ملک ہی لوٹیں گے اور میر صاحب کا ساتھ پھر حاصل ہوجائے گا ۔ ہمیں امید ہے کہ میر صاحب کو ا ہل ریاض اور میر صاحب ریاض والوں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور ہمارے درمیان میر تقی میر کا یہ خیال کا یہ خیال بھی نہیں آئے گا کہ
وہ تجھ کو بھولے ہیں تو تجھ پہ بھی یہ لازم ہے میر
خاک ڈال ، آگ لگا، نام نہ لے ، یاد نہ کر

TOPPOPULARRECENT