Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / پستہ قد مسلم خاندان جس کا جذبہ محنت مثالی

پستہ قد مسلم خاندان جس کا جذبہ محنت مثالی

سارا خاندان سخت محنت کا عادی، اپنی حالاتِ زندگی سے مطمئن

سارا خاندان سخت محنت کا عادی، اپنی حالاتِ زندگی سے مطمئن
حیدرآباد ۔ 24 اگست (نمائندہ خصوصی) انسانی سماج میں پستہ قد ہونا ایک عیب کی نشانی تصور کی جاتی ہے حالانکہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کو کئی خوبیوں کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں حکمت پوشیدہ ہے۔ ہمارے شہر میں بھی کئی ایسے لوگ ہیں جن کی شخصیت وضع قطع ان کے قد کی وجہ سے موضوع مذاق بنی رہتی ہے لیکن اللہ کے یہ بندے کسی مذاق یا اعتراض کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اپنی جستجو، محنت و لگن کے ذریعہ سماج کو اس مذاق کا مؤثر جواب دیتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں میں افضل گنج گولی گوڑہ میں درگاہ سداسہاگن تکیہ کے قریب ایک پستہ قد خاندان ہے جہاں سارے ارکان خاندان کا قد محض دو تا ڈھائی فٹ ہے۔ انہیں دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی اور دنیا کی مخلوق ہے۔ لوگوں کی جانب سے ستائے جانے، غربت کا شکار ہونے کے باوجود اس کوتاہ قامت خاندان نے کبھی بھی کوتاہ ذہنی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ انہیں مذاق کا موضوع بنانے والوں کو ہمیشہ مسکراہٹ اور بہترین اخلاق کے ذریعہ جواب دیا۔ راقم الحروف نے اس خاندان سے ملنے کے بعد ان کے حالات جاننے کی کوشش کی جس پر پتہ چلا کہ یہ مسلم خاندان پیدائشی طور پر حیدرآبادی ہے۔ یہ خاندان چار افراد پر مشتمل ہے جن میں سے والد محمد چاند پاشاہ کی عمر 55 سال ہے مگر ان کا قد صرف ڈھائی فٹ ہے جبکہ ان کی اہلیہ سلمہ بیگم کی عمر 45 سال کے قریب ہے اور ان کا بھی قد محض دو فٹ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہیکہ محمد چاند پاشاہ یا سلمہ بیگم کے ارکان خاندان میں اس قدر کوئی بھی پستہ قد نہیں ہیں۔ چاند پاشاہ کے بھائی اور دیگر ارکان کا قد کسی دوسرے افراد کی طرح نارمل ہے۔ اسی طرح سلمہ بیگم کی دو بہنیں ہیں اور دونوں کا قد نارمل ہے مگر مذکورہ دونوں میاں بیوی کا قد، قدرت نے محض دو تا ڈھائی فٹ کے اندر سمیٹ دیا ہے۔ محمد چاند پاشاہ نے بتایا کہ وہ نکل پالش (جست پالش) کا کام کرتے ہیں جس سے انہیں یومیہ 75 روپئے حاصل ہوتے ہیں جس سے بمشکل ان کے گھر کا گذارہ ہوتا ہے۔ انہیں دو لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکیاں بھی اپنے والد کا ہاتھ بٹانے ذریعہ معاش کیلئے جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ بڑی لڑکی کا نام جیلانی بیگم ہے جن کی عمر اب 23 سال ہوگئی مگر وہ 8 سال کی عمر سے ہی محنت مزدوری کررہی ہیں۔ ہم نے ان کے والد سے جب کہا کہ وہ جیلانی بیگم سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فون کرکے انہیں بلایا جو ایک موٹر میکانک (لیتھ مشین) میں نہایت مشکل اور وزنی کام کرتے ہیں۔ جب وہ آئی۔ والد پر برہم ہوگئیں کہ ہمیں کیوں بلایا وہاں بہت سارا کام پڑا ہے۔ تاہم ان کے والد نے ہمارا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ اخبار سیاست کے نمائندے ہیں اور تم سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے خندہ پیشانی سے ہمارے سوالوں کا جواب دینا شروع کردیا۔ ایک سوال پر جیلانی بیگم نے کہا کہ وہ 8 سال کی عمر سے ہی کام کررہی ہے چونکہ والد صاحب اکیلے ہیں جن کی آمدنی سے گھر کا گذارہ مشکل ہے۔ ان کے مطابق وہ وہاں برتن دھونے، جھاڑو لگانے، میکانک کے ہاتھ کے نیچے کام کرتی ہیں جس سے انہیں ماہانہ 2000 روپئے مل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان کی چھوٹی بہن فاطمہ بیگم جن کی عمر 20 سال ہے، وہ اسے گھر کے باہر کام نہیں جانے دیتے کیونکہ لوگ انہیں ستاتے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں لہٰذا وہ اور ان کی والدہ گھر میں پھول پرونے کا کام کرتی ہیں جس سے یومیہ 40 روپئے کما لیتی ہیں۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ ایسے لوگوں کو حکومت کی جانب سے 500 روپئے وظیفہ دیا جاتا ہے تو ان کے والد چاند پاشاہ نے بتایا کہ ابتداء میں انہوں نے بہت کوشش کی مگر اس کیلئے دفتری کارروائی کیلئے جتنی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی ہے وہ میرے سے نہیں ہوسکتا تھا اس لئے چند دنوں تک کوشش اور بھاگ دوڑ کرنے کے بعد ہم نے یہ امید چھوڑ دی اور محنت و مزدوری کے ذریعہ ہی اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔ چاند پاشاہ جو ایک محض ایک کمرے ٹین پوش مکان میں زندگی گذار رہے ہیں، نے بتایا کہ جب بارش ہوتی ہے تو پورا گھر پریشان ہوجاتا ہے کہ پتہ نہیں بارش ان کے گھر کو کس حد تک نقصان پہنچائے گا۔ بہرحال اس پست قد خاندان کی کہانی پیش کرنے کا مقصد یہ ہیکہ اگر عزائم بلند ہو تو کوئی بھی خامی زندگی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT