Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز کا تعاون ناگزیر

پسماندہ ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز کا تعاون ناگزیر

مرکزی ٹیکس آمدنی کا 40 فیصد حصہ دینے پر زور ، فینانس کمیشن کے اجلاس سے چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ کا خطاب

مرکزی ٹیکس آمدنی کا 40 فیصد حصہ دینے پر زور ، فینانس کمیشن کے اجلاس سے چیف منسٹر چندرا شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/19ستمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد قائم ہونے والی نئی ریاست تلنگانہ کے معاشی موقف اور آمدنی کے وسائل کے سلسلہ میں حقیقی صورتحال سے واقف کراتے ہوئے 14ویں فینانس کمیشن پر زور دیا کہ وہ مرکز کی جانب سے وصول کئے جانے والے ٹیکس میں تلنگانہ کو زائد حصہ داری کی سفارش کرے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ، وزیر فینانس ایٹالہ راجندر اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ فینانس کمیشن کا اجلاس آج حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ صدرنشین 14ویں فینانس کمیشن وائی وی ریڈی اور ارکان پروفیسر ابھیجیت سین، سشما ناتھ، ڈاکٹر گویند راؤ اور ڈاکٹر سدیپ منڈلے نے چیف منسٹر اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کی چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی امداد اور گرانٹ اِن ایڈ میں اضافہ کیلئے بھی بھرپور نمائندگی کی اور اعداد و شمار کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پسماندہ ریاست تلنگانہ کی ترقی کیلئے مرکز کا تعاون ناگزیر ہے۔ کمیشن کے روبرو ریاست کے معاشی موقف اور آمدنی کے وسائل کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ مشترکہ آندھرا پردیش میں حکومت کی پالیسیوں اور علاقائی عدم توازن کے سبب تلنگانہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پسماندہ علاقوں کی نشاندہی کیلئے متعین تمام اداروں اور کمیٹیوں نے تلنگانہ کے 10میں 9اضلاع کو پسماندہ قرار دیا جبکہ محبوب نگر اور کھمم حد درجہ پسماندہ اور بھوک مری کے شکار ہیں۔ چیف منسٹر نے حکومت کی مختلف ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے خواہش کی کہ وہ مرکز سے زائد فنڈز اور ٹیکس میں حصہ داری کے سلسلہ میں اپنی سفارشات پیش کرے تاکہ ہر شعبہ میں تلنگانہ ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار کی جاسکے۔ انہوں نے فینانس کمیشن سے درخواست کی کہ وہ سنٹرل ٹیکس آمدنی میں ریاست کو 40فیصد حصہ کی منتقلی کی سفارش کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ریاست سے متعلق اُمور پر اپنے اخراجات میں 5فیصد کی کمی کرتے ہوئے اسے یقینی بناسکتا ہے۔ انہوں نے ریاست کی بہتر ترقی کیلئے مرکز سے مختلف مراعات اور نئی ریاست کیلئے ایف آر بی ایم قواعد میں نرمی کی بھی سفارش کی۔ انہوں نے ریاست کے قابل ادائیگی قرض میں اضافہ اور حکومت کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن سے درخواست کی کہ وہ مرکز کے قرض کی معافی کے سلسلہ میں سفارش کرے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ میں مرکز کی حصہ داری کو 75فیصد سے بڑھا کر 90فیصد کرنے کی بھی خواہش کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مجالس مقامی کو مرکز کی گرانٹ میں 2.5فیصد سے کم از کم 4فیصد اضافہ کیا جانا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے جی ایس ٹی متعارف کئے جانے سے متعلق مرکز کی تجویز کی ستائش کی تاہم اس بات کی خواہش کی کہ پٹرولیم اشیاء اور شراب کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ کمزور اور پسماندہ طبقات کی ترقی کیلئے حکومت کے منصوبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ درج فہرست قبائیل کیلئے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کی ترقی کیلئے ہر سال بجٹ میں 1000کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے مرکزی حکومت کو فینانس کمیشن کے ذریعہ مجموعی طور پر 23475 کروڑ کی سفارشات پیش کی ہیں جن میں محکمہ پولیس میں اصلاحات اور عصری بنانے کیلئے 4216 تالابوں کی مرمت اور ترقی کیلئے 4200کروڑ، انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ کیلئے 1091 کروڑ، واٹر گرڈ کیلئے 3500 کروڑ، بنیادی تعلیم کیلئے 1300 کروڑ، زرعی شعبہ کو برقی کی سربراہی کیلئے 1300کروڑ کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاست کی جامع ترقی کیلئے فینانس کمیشن سے مکمل تعاون کی خواہش کی اور امید ظاہر کی کہ ماہر معاشیات وائی وی ریڈی کی قیادت میں فینانس کمیشن آندھرا پردیش کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ چیف منسٹر نے نئی ریاست کے قیام کے سبب تلنگانہ کو خصوصی ریاست کا موقف دینے کی اپیل کی اور کمیشن سے اس سلسلہ میں سفارش کی خواہش کی۔ چیف منسٹر نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے شروع کردہ ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے نتائج آئندہ 5برسوں میں ظاہر ہونے لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریب دلتوں خاندانوں میں فی خاندان 3ایکر اراضی کی تقسیم کی اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔برقی کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کو برقی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ حکومت واٹر گرڈ کے قیام کے ذریعہ ہر گھر کو پائپ لائن کے ذریعہ پانی کا کنکشن فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کیاگیا جامع سماجی سروے کامیاب رہا جس کی بنیاد پر حقیقی مستحقین تک فلاحی اسکیمات کے فوائد پہنچ پائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT