Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / پسماندہ طبقات قانون، فیصلہ پر حکم التواء سے سپریم کورٹ کا انکار

پسماندہ طبقات قانون، فیصلہ پر حکم التواء سے سپریم کورٹ کا انکار

۔10 دن بعد سماعت مقرر، قانون کی مخالفت نہیں، بے قصور کو سزا سے بچانا اصل مقصد : بنچ کا ریمارک

نئی دہلی 3 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے درج فہرست طبقات و قبائیل قانون پر 20 مارچ کو معلنہ اپنے احکام پر التواء کی اجرائی سے انکار کردیا ہے۔ تاہم کہاکہ مرکز کی درخواست نطرثانی پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ جسٹس اے کے گوئیل اور جسٹس یو یو للت پر مشتمل بنچ نے فیصلے کے خلاف احتجاج کے دوران ملک گیر پیمانے پر تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے والے افراد نے اس فیصلہ کو ٹھیک انداز میں نہیں پڑھا ہے اور وہ مفادات حاصلہ عناصر کے ہاتھوں گمراہ ہوگئے ہیں۔ بنچ نے کہاکہ اُس نے ایس سی ؍ ایس ٹی قانون کو نرم نہیں بنایا ہے اور صرف گرفتار ہونے والے بے قصور افراد کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ تاہم اس قانون کی دفعات اور گنجائشوں کو بے قصور افراد کو دہشت زدہ کرنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز کی درخواست نظرثانی پر 10 دن بعد تفصیلی سماعت مقرر کی اور اُس وقت تک حکومت مہاراشٹرا اور دیگر فریقوں کو تحریری استدلال پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ مرکزی حکومت نے اپنی درخواست نظرثانی میں کہاکہ 1989 ء کی قانون سازی کے دوران وضع کردہ قانونی سخت ترین قانونی دفعات کو نرم بنائے جانے کے نتیجہ میں وسیع تر اثرات و عواقب مرتب ہوسکتے ہیں۔ درج فہرست طبقات و قبائیل کی حیثیت سے ہندوستانی آبادی کے ایک قابل لحاظ حصہ پر سنگین و بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کی اس قانون سازی کی پالیسی سے متضاد ہوگی جس کی انسداد مظالم قانون 1989 ء میں جھلک پیش کی گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے 20 مارچ کو کہا تھا کہ انسداد مظالم قانون کے تحت مقدمات میں گرفتاریو کے لئے قانون کے تسلیم شدہ و اعتراف شدہ استعمال بیجا کے پیش نظر اب کسی سرکاری ملازم کی گرفتاری صرف اس کا تقرر کرنے والی اتھاریٹی کی منظوری کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کسی غیر سرکاری ملازم کو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس کی منظوری کے بعد ہی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ مرکز کی درخواست نظرثانی پر اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کے تاثرات کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے کہاکہ ’’ہم اس قانون کے خلاف نہیں ہیں لیکن بے قصور کو سزا نہیں ہونی چاہئے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT