Monday , July 23 2018
Home / شہر کی خبریں / پسماندہ طبقات کو کے سی آر چیف منسٹر بننے کے بعد حقیقی آزادی

پسماندہ طبقات کو کے سی آر چیف منسٹر بننے کے بعد حقیقی آزادی

ریاستی وزیر سرینواس یادو ‘سابق وزیرڈی ناگیندر کا دعویٰ، پسماندہ طبقات کیلئے سبسیڈی اسکیم کا خیرمقدم
حیدرآباد /8 جولائی( سیاست نیوز) وزیر انیمل ہسبنڈری ٹی سرینواس یادو اور سابق وزیر ڈی ناگیندر نے دعویٰ کیا کہ ملک کو آزادی 1947 میں حاصل ہوئی لیکن تلنگانہ تحریک کے سربراہ کے سی آر کے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ریاست میں پسماندہ طبقات کو حقیقی معنوں میں آزادی ملی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سرینواس یادو اور ڈی ناگیندر نے کہا کہ چیف منسٹر نے کمزور اور پسماندہ طبقات کے افراد کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کے سلسلہ میں مالی امداد کی جس اسکیم کا اعلان کیا ہے وہ کمزور طبقات سے ہمدردی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کمزور اور پسماندہ طبقات کیلئے کسی حکومت نے اس قدر اقدامات نہیں کئے جس کی مثال تلنگانہ حکومت نے قائم کی ہے۔ تلنگانہ تحریک کے دوران دیہی علاقوں کے دورہ کے موقع پر کے سی آر نے پسماندہ طبقات کی معاشی ابتر صورتحال کا بغور جائزہ لیا تھا۔ حکومت کی تشکیل کے بعد انہوں نے پسماندہ طبقات کو معاشی پسماندگی سے اوپر اٹھانے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے پسماندہ طبقات کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ کے سی آر نے بی سی طبقات کو حکومت اور پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز کیا ہے۔ اسمبلی اسپیکر ‘قانون ساز کونسل کے صدرنشین اور کونسل ڈپٹی چیرمین کا تعلق پسماندہ طبقات سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقات کیلئے 119 اقامتی اسکولس قائم کئے گئے۔ حکومت نے مزید 119 اقامتی اسکولوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ سرینواس یادو نے بی جے پی قائد رام مادھو پر سخت تنقید کی اور کہا کہ انہیں حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ گریٹر حیدرآباد انتخابات میں عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا۔ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں برقی بحران کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا لیکن کے سی آر حکومت نے نہ صرف بحران پر قابو پالیا بلکہ کسانوں کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ سابق وزیر ڈی ناگیندر نے کہا کہ ملک کے کسی بھی چیف منسٹر نے بی سی طبقات کی بھلائی کیلئے کے سی آر کی طرح اقدامات نہیں کئے۔ بی سی طبقات کی بھلائی سے متعلق اسکیمات کو گھر گھر پہنچایا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT